مشیر اطلاعات خیبر پختونخواکرپشن الزامات پرفارغ

ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے کمیشن طے کرنے کے حوالے سے آڈیو ٹیپ سامنے آنے کے بعد خیبر پختونخواہ کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کو فارغ کر دیا گیا. وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کرپشن الزامات پر اجمل وزیر سے مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا کا قلمدان واپس لے کر ان کی جگہ معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش کو مشیر اطلاعات کا اضافی چارج سونپ دیا ہے.
اس حوالے سے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا ایڈوائزرز اینڈ اسپیشل اسسٹنٹس ٹو چیف منسٹر (اپائنمنٹ) ایکٹ، 1989 کے سیکشن 3 کے ذریعے تفویض کردہ اختیارات کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اجمل خان وزیر سے فوری طور پر مشیر برائے اطلاعات اور تعلقات عامہ کا قلمدان واپس لے لیا ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے معاون خصوصی برائے بلدیاتی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی کامران بنگش کو مشیر برائے اطلاعات اور تعلقات عامہ کا چارج سونپ دیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے نئے مشیر اطلاعات کامران بنگش نے بتایا کہ ایک آڈیو لیک ہونے کے بعد اجمل وزیر کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجمل وزیر کی جانب سے اشتہاری ایجنسی سے کمیشن لینے کی کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں اور اس حوالے سے فرانزک تحقیقات کی جائیں گی۔ کامران بنگش کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو بھی اس معاملے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ اجمل وزیر کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق میڈیا کو جلد تفصیلی بریفنگ دوں گا۔

سابق مشیر اطلاعات جمل وزیر کی سامنے آنے والی آڈیو ٹیپ میں مبینہ طور پر ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے ساتھ معاملات طے کررہے ہیں۔ اجمل وزیر نے مبینہ طور پر دو کروڑ میں سے بارہ فیصد کمیشن کا مطالبہ کیا تھا. آڈیو ٹیپ میں اجمل وزیر پوچھتے سنائی دے رہے ہیں کہ 25 لاکھ 88 ہزار اور ٹوٹل پر کتنا ہے. جس پرایڈورٹائزنگ ایجنسی کا نمائندہ کہتا ہے ٹوٹل آپ کے 42لاکھ بنتے ہیں. اجمل وزیر نے پوچھا آپ کا شمس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جس پر ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے نمائندے نے کہا کہ وہ بندہ ٹھیک ہے بھروسہ مند اس کے ساتھ تنازع کرتا رہتا ہوں. ہم.پنجاب، سندھ سمیت تمام صوبوں کو اپنا کمیشن دیتے ہیں اپ کو بھی ملے گا، لیکن ہمیں میڈیا میں تھوڑا بوسٹ کرنا پڑے گا. جس پر اجمل وزیر نے کہا کہ ملنے میں تھوڑا احتیاط کریں اس سے بات آگے نکل جاتی ہے، اس دفعہ جب میں اشتہار دونگا تو سارے ٹی وی سی شامل ہوں گے.
علاوہ ازیں صوبائی چیف سیکریٹری کو ارسال کردہ مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا حال ہی میں منظر عام پر آنے والی اجمل وزیر کی آڈیو ٹیپ کی انکوائری کے لیے کارروائی شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔11 جولائی کو جاری میں مراسلے میں کہا گیا کہ اس معاملے کو فوری اور انتہائی اہم سمجھا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیر نے استعفے کی وجوہات کو ذاتی بتایا۔اجمل وزیر نے کہا کہ بحیثیت مشیر مزید خدمات کو جاری نہیں رکھ سکتا اس لیے وزیراعلیٰ کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اشتہاری ایجنسی سے گفتگو کی جو آڈیو ٹیپ سامنے آئی اس میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے بات کی جارہی تھی۔
خیال رہے کہ اجمل وزیر کو رواں برس مارچ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔انہیں اس وقت کے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کی جگہ تعینات کیا گیا تھا جبکہ اجمل وزیر اس وقت وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع تھے۔رپورٹس کے مطابق شوکت یوسفزئی اور اجمل وزیر کے تلخ تعلقات کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دونوں کے قلمدان تبدیل کردیے تھے۔
