مشین سے الیکشن پر حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کا ہو گا


17 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے آئندہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کروانے کا بل پاس ہونے کے بعد اپوزیشن نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس قضیے میں الیکشن کمیشن بنیادی فریق ہے لہٰذا اب گیند اسی کے کورٹ میں ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ای وی ایم مشین بارے اپنے تحفظات اور اپنی محدود استعداد کار سے متعلق موقف پر قائم رہتا ہے تو حکومت کسی صورت آئندہ الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال نہیں کر سکتی۔
معروف اینکر پرسن غریدہ فاروقی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ جلد بازی کی قانون سازی نے بیلٹ باکس کی جگہ ای وی ایم کا نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ لہذا اب یہ فیصلہ الیکشن کمیشن اور اداروں پر چھوڑ دیں کہ وہ وسیع تر ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلا قدم اٹھائیں۔ ایسا قدم کہ آر ٹی ایس کا دھندا دوبارہ شروع نہ ہو۔ انتخابات صاف اور شفاف ہوں۔ عوام کا حقِ حکمرانی بحال ہو اور ووٹ کی مزید تذلیل نہ ہو۔ لہذا مشینوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔
غریدہ کہتی ہیں کہ اپوزیشن کی جانب سے ای وی ایم پر اعتراض کے سبب حکومت کو من مانی کرنا پڑی۔ لیکن جس طرح حکومت کا رویہ قابل تنقید ہے ٹھیک ویسے ہی اپوزیشن کا رویہ بھی قابل تعریف نہیں۔ حکومت نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے انتخابی اصلاحات منظور کروا کے اپنے ’مِشن مشین‘ کے منصوبے کی طرف پہلا قدم بڑھا دیا ہے۔ لیکن ایک تو ای وی ایم مشین پہلے سے ہی متنازع ہے، دوسرا پارلیمان سے ’جبری‘ قانون سازی کا تنازع بھی کھڑا ہو گیا۔ اس سے پہلے انتخابی عمل کے مرکزی شراکت دار الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے بھی ووٹنگ مشین پر 37 اعتراضات کے ساتھ عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔ لیکن نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے تمام تر تحفظات اور مخالفت کے باوجود حکومت نے انتخابی اصلاحات کا بل پارلیمان سے منظور کروا لیا جس کے بعد حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حق میں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اسکی مخالفت میں دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔
غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ ایک حکومتی بیانیہ ہے جو ووٹنگ مشین کو لے کر دفاعی پوزیشن پر ہے اور مسلسل اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اور خصوصیت بیان کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ اس مشین سے ووٹ کی ہیکنگ اور ٹریکنگ آسان ہو جائے گی۔ لہکن حکومت کے مطابق یہ مشین انقلابی ہے اور اس کے ذریعے ہونے والا آئندہ الیکشن اسے شفاف دکھائی دے رہا ہے۔
لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث کے بیچ یہاں ایک اہم سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا اس تنازعے کے حل کا کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے؟ اگر ووٹنگ مشین میں کمی خامیاں ہیں بھی تو کیا انہیں دور نہیں کیا جا سکتا؟ اور اگر مشین مخالف بیانیہ جاندار نہیں اور الیکٹرانک ووٹنگ کو لے کر خدشات بے بنیاد ہیں تو کیا اعتماد کی فضا پیدا نہیں کی جا سکتی؟ ابھی حکومت اور اپوزیشن ای وی ایم کی بحث میں الجھے پڑے تھے کہ ایسے میں الیکشن کمیشن کا معنی خیز بیان الیکٹرانک ووٹنگ کو لے کر سامنے آگیا کہ آئندہ الیکشن میں ووٹنگ مشین استعمال ہوگی بھی یا نہیں؟ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یوں الیکشن کمیشن نے حکومت کے ’مشن مشین‘ پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ مشین کو لے کر ٹیکنیکل مسائل کا ذکر کیا ہے کہ آیا کتنی مشینیں درکار ہوں گی، کتنے پولنگ سٹیشنز پر نصب ہوں گی، بجلی کے مسائل الگ سے…. دوسرا یہ کہ الیکشن ایک طرح سے سر پر ہیں اور صرف دو سال کا عرصہ باقی ہے لہذا اتنے کم وقت میں نئے نظام کے تحت الیکشن کرانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔
بقول غریدہ فاروقی بظاہر اپوزیشن کی غیر سنجیدگی کے سبب حکومت کو بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر نئے قوانین منظور کرانے پڑے۔ ظاہر ہے حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لے کر غلط قدم تو اٹھایا لیکن دوسری طرف اپوزیشن کا رویہ بھی غیر لچکدار رہا۔
غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ سیاسی جماعتوں اور اداروں کی طرح پاکستان کے عوام بھی اس انتخابی عمل کے اہم شراکت دار ہیں۔ بجائے کہ قومی سیاسی جماعتیں اہم ایشو پر عوام کے لیے بھی قابل قبول حل تلاش کریں الٹا وہ جنرل الیکشن جو دو سال بعد ہونا ہے اسے پہلے ہی سے متنازع بنا دیا گیا ہے۔ اب یہ معاملہ عدالت بھی جانے والا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی قانون سازی کو سپریم کورٹ لے جانے کا اعلان کر چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان میں ہونے والی قانون سازی کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ اگر قانون سازی کا عمل عدالت میں چیلنج ہو جاتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر عدالت نے اس معاملہ پر سماعت شروع کر لی تو کیا پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے سامنے بے توقیر نہیں ہو جائے گی؟ اگر عدالت معاملہ واپس پارلیمان کو بھجوا دیتی ہے جیسا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران شو آف ہینڈ پر ہوا تھا تو پھر کیا ہو گا؟

Back to top button