ثاقب نثار اور رانا شمیم ایک ہی قماش کے لوگ کیوں قرار پائے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کو ایک ہی قماش کے لوگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہی غلط انسان ہیں۔
معروف اینکر پرسن جاوید چوہدری فواد حسن فواد کے ساتھ اپنی تازہ گفتگو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فواد 33 برس بیوروکریسی میں گزار کر جنوری 2020 میں ریٹائر ہوئے۔ اس دوران انہوں نے نیب کے مقدمات بھی بھگتے۔ آپ ان سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن آپ ان کے کیریکٹر، ایمان داری اور پروفیشنل ازم پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔ فواد نے اپنی سروس کے آخری اڑھائی سال وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری کے طور پر گزارے چناں چہ پی ٹی آئی کے دھرنے سے لے کر ڈان لیکس تک اور پاناما سے لے کر 2018 کے الیکشنز تک ملک کا ہر اہم واقعہ انکے سامنے پیش آیا۔ انہوں نے ایک سال اورچھ ماہ نیب کی قید بھی کاٹی اور بری بھی ہوئے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے حال ہی میں رانا شمیم کے بیان حلفی اور ثاقب نثار کی آڈیو کے حوالے سے فواد حسن فواد کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا۔ فواد کا کہنا تھا کہ میں موجودہ تنازعے کے بارے میں تو نہیں جانتا لیکن یہ دونوں لوگ غلط ہیں۔ میں نے پوچھا ’’کیا رانا شمیم واقعی ایکسٹینشن چاہتے تھے‘‘ فواد کا کہنا تھا ’’سو فیصد اور رانا صاحب نے اس کے لیے سفارشیں بھی کروائیں‘‘۔ بقول جاوید چودھری، میں نے ان سے پوچھا کہ ’’وہ ایکسٹینشن کیوں چاہتے تھے؟‘‘ فواد نے قہقہہ لگا کر جواب دیا، ’’میں پانچ سال وزیراعظم آفس میں رہا، مجھے اس دوران ایک بھی ایسا سرکاری افسر نہیں ملا جس نے ایکسٹینشن کے لیے کوشش نہ کی ہو۔ صدر سے لے کر چپڑاسی تک سرکار کا کوئی عہدیدار نوکری چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہ لوگ موت تک اپنے عہدے سے چپکے رہنا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ فواد ہنس کر بولے کہ ’’شاید سرکاری ملازمین کی زندگی میں ملازمت کے علاوہ اور کوئی تفریح یا چارم نہیں ہوتا اور رانا شمیم بھی اسی چارم کا شکار تھے، لہٰذا انھوں نے ایکسٹینشن کے لیے سرتوڑ کوشش کی۔ پارٹی کے کئی عہدیداروں سے بھی سفارش کرائی۔ لیکن جب وزیر اعظم نے میری رائے لی تو میں نے توسیع دینے سے انکار کر دیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ انکی ایکسٹینشن نہیں بنتی اور یہ میرٹ کا قتل ہو گا۔ لہٰذا وزیراعظم نے انکی ایکسٹینشن ری جیکٹ کر دی۔
فواد کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد رانا شمیم مجھ سے ناراض ہو گئے۔ وہ جج تھے لہذا انھوں نے کابینہ کے کسی فیصلے کو جوازبنا کر مجھے توہین عدالت کا نوٹس دے دیا۔ وہ مجھے اپنی عدالت میں دیکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی خواہش پوری ہونے سے پہلے مجھے نیب نے گرفتار کر لیا۔ میں نیب کی حراست میں تھا لیکن رانا صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور انھوں نے مجھے گلگت طلب کر لیا‘۔ ڈی جی نیب لاہور نے ان کا نوٹس ملنے پر رات تین بجے مجھے گاڑی میں اسلام آباد پہنچایا۔ ہم اگلی صبح فلائٹ کے ذریعے گلگت پہنچے۔ وہ رات میں نے لاک اپ میں گزاری، اگلے دن مجھے رانا شمیم کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ میں نے اپنی شکل دکھائی اور پھر مجھے واپس جانے کی اجازت دے دی گئی‘‘۔ بقول جاوید چوہدری انہوں نے فواد حسن فواد سے پوچھا کہ جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں انکے کیا خیالات ہیں؟ جواب میں انکا۔کہنا تھا کہ میں ان پر تبصرہ نہیں کر سکتا لیکن پوری دنیا جانتی ہے میاں نواز شریف کو کیوں اور کیسے نااہل کیا گیا تھا اور 2018 کے الیکشنز کیسے ہوئے تھے؟‘‘ جاوید کہتے ہیں انہوں نے فواد سے پوچھا کیا یہ درست ہے کہ آپ کو جسٹس ثاقب نثار نے بطور پرنسپل سیکریٹری دو بار عدالت طلب کیا تھا۔ فواد ہنس کر بولے ’’یہ درست ہے، مجھے پہلی بار ہسپتالوں میں دل میں ڈالے جانے والے اسٹنٹس کی قیمت کم کرنے کے لیے بلایا گیا تھا‘ میں عدالت میں حاضر ہوا اور دو دن مانگے۔ ثاقب نثار نے مجھے ایک ہفتے کا وقت دیا لیکن میں نے تین دن میں مسئلہ حل کرا دیا جس پر انہوں نے بھری عدالت میں میری تعریف کی اور کہا کہ افسر ہوں تو فواد حسن فواد جیسے ہوں۔
لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ صرف 48 گھنٹے بعد ہی 3 فروری 2018 کو مجھے عطاء الحق قاسمی کی پی ٹی وی میں تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے جرم میں نوٹس آ گیا۔ مجھے چیف جسٹس کی عدالت میں طلب کیا گیا۔ میں پیش ہوا تو صورت حال بالکل مختلف تھی۔ ثاقب نثار نے بھری عدالت میں کہا، کون ہے یہ فواد حسن فواد؟ میں کھڑا ہوا اور پھر میرے ساتھ وہ ہوا جسے میں آج تک بھلا نہیں سکا۔ مجھ پر الزام لگا کہ میں نے عطا قاسمی کو چیئرمین پی ٹی وی بنوایا۔ میں آج چار سال بعد بھی اس کیس میں پیشیاں بھگت رہا ہوں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے فواد سے پوچھا کہ ’’کیا آپ رانا شمیم اور ثاقب نثار دونوں کو غلط سمجھتے ہیں‘‘۔ وہ ہنس کر بولے، ’’میں فیصلہ کرنے والا کون ہوتا ہوں۔ عدالتیں جانیں اور ان کے جج جانیں لیکن سچائیاں اب ڈھکی چھپی نہیں ہیں‘‘۔
میں فواد حسن فواد کے ساتھ بحث کرنا چاہتا تھا لیکن نہ کر سکا۔ بہرحال ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ معاشروں کی عمارتیں انصاف کی بنیادوں پرکھڑی ہوتی ہیں۔ انصاف جتنا جلد ملے گا، ملک اتنا ہی ترقی کرے گا، لیکن اگر یہ بنیاد کم زور ہو گی تو پھر نہ تو عمارت بن سکے گی اور نہ ہی کھڑی رہ سکے گی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف سرے سے موجود ہی نہیں۔ ہم بچپن میں سنتے تھے کہ پاکستان میں انصاف فقط امیر اور طاقتور کو ملتا ہے اور غریب صرف سزا پاتا ہے، لیکن ہم آج کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں امیر ہو یا غریب، پاکستان میں دونوں انصاف سے محروم ہیں۔ افتخار محمد چوہدری‘ جنرل پرویز مشرف‘ آصف زرداری‘ نواز شریف‘ جسٹس فائز عیسیٰ اور فواد حسن فواد اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاوری گرل‘ دنانیر مبین نے ڈراموں میں انٹری ڈال دی
یہ تمام لوگ طاقتور تھے لیکن جب عدالتوں میں پہنچے تو عبرت کی نشانی بن گئے۔ اب اگر جسٹس ثاقب نثار اور رانا شمیم کو بھی عدالت نے طلب کر لیا تو آپ ان کا حشر بھی دیکھ لیجیے گا۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ جب ہم جانتے ہیں کہ معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں، تو ہم ملک میں انصاف قائم کیوں نہیں کر دیتے؟ ایک ایسا نظام عدل کیوں نہیں لے آتے جو صرف جرم دیکھے، مجرم کا چہرہ نہ دیکھے۔ ہم آخر کب تک کھلی آنکھوں سے مکھیاں کھاتے رہیں گے؟
