سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کے روبوٹس کیوں بن گئے ہیں؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ جب جدوجہد کا راستہ ترک کر دیا جائے اور گزارا آڈیو اور ویڈیو گیمز پر ہو تو پھر میدان سیاست میں آپ کو سیاستدان نہیں بلکہ روبوٹس ہی ملیں گے جو اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ایسے میں الیکشن ’’الیکٹرونک ووٹنگ مشین‘‘ کے ذریعہ ہو یا موجودہ سسٹم کے تحت کیا فرق پڑتا ہے؟ کٹھ پتلی تماشا کروانے والوں کا ایک روبوٹ جائے گا تو دوسرا روبوٹ آ جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ میدان سیاست میں روبوٹس کا ایک کٹھ پتلی تماشہ چند دن پہلے ہم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اور اُس کے بعد سینیٹ اجلاس میں بھی دیکھا۔ ہر طرف روبوٹ ہی روبوٹس نظر آرہے تھے جسکے ریموٹس خفیہ ہاتھوں میں تھے اور وہ ان کے اشاروں پر چل رہے تھے۔ بقول مظہر، جدوجہد کرنے والے لوگ ویسے بھی اب میدان سیاست میں کیا، صحافت اور عدلیہ میں بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2018 کے بعد سے سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے مگر کامیاب حکومت ہوتی ہے۔ مجال ہے کبھی پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنی پارٹیوں کے اُن روبوٹ نما سینیٹرز یا اراکین اسمبلی کے خلاف کوئی ایکشن لیا ہو۔ ایسے میں نتائج وہی نکلیں گے جو نکل رہے ہیں۔ حزب اختلاف کو پتا نہیں 6 اکتوبر کے بعد کیا نظر آرہا تھا کہ شہباز شریف سے لے کر بلاول بھٹو تک نے بلند و بانگ دعوے کرنے رہے شروع کراچی دیے، مگر مشترکہ اجلاس میں حکومتی گنتی پوری نکلی اپوزیشن کی کم۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب اگر 20 نومبر کو آئی ایس آئی کی کمانڈ میں تبدیلی کے بعد ان روبوٹ نما سیاست دانوں میں کوئی نیا سسٹم فیڈ کر دیا گیا ہو تو پتا نہیں، ورنہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو بظاہر کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں کم از کم اپوزیشن سے تو بالکل بھی نہیں۔ اس سارے تنازع میں سب سے کامیاب چوہدری برادران اور متحدہ والے رہے۔ اپوزیشن سمجھی تھی کہ گجرات کے چوہدریوں اور ایم کیو ایم والوں کا سافٹ ویئر تبدیل ہوگیا ہے لیکن پھر پتا چلا کہ صرف تھوڑی تکنیکی خرابی پیدا ہوئی تھی جو کہ دور کردی گئی ہے۔ ماضی میں جب پاکستانی سیاست میں روبوٹس نہیں آئے تھے تو سیاسی حرارت محسوس ہوا کرتی تھی اور سیاست دان مشینیں نہیں لگا کرتے تھے۔ تب جب میدان سیاست اور صحافت کے مزاحمتی کی کرداروں کو کوڑے پڑتے تھے تو زخم بھی لگتا تھا اور درد بھی ہوتا تھا مگر جذبہ یہ ہوتا تھا کہ پھانسی بھی چڑھ جائیں تو غم نہیں۔ وہ محض ایک سیاسی رومانس نہیں تھا اک نظریہ پر قائم رہنا تھا۔ ایسے ہی نہیں حسن ناصر اور نظیر عباسی جیسے بہادر سپوت پیدا ہوئے، مارشل لا ادوار میں ایسے کئی سپوتوں نے بھگت سنگھ کی طرح نعرے لگاتے ہوئے پھانسی کا پھندہ خوشی سے چوما اور اس پر جھول گے۔ ایسے بہادر قید میں بیمار پڑے تو علاج جیل میں ہی کروایا، بیرون ملک جانے کی درخواست کسی نے نہیں کی۔
لیکن مظہر عباس افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ماضی میں تو جدوجہد کی مگر پھر تھکے گے اور مفاہمت اور مصالحت کا راستہ اپنانا بہتر سمجھا، یوں انہوں نے ’’روبوٹس‘‘ بننا قبول کرلیا کیونکہ ان کی اپنی جماعتوں کو بھی روبوٹس کی ضرورت تھی، اصولوں پر کھڑے رہنے والوں کی نہیں، جنہیں اب پاگل اور سر پھرا قرار دیا جاتا ہے۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سیاست بے توقیر ہوتی چلی گئی اور اب گراوٹ کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جسٹس (ر) ثاقب نثار کا معاملہ
مظہر کہتے ہیں کہ جدوجہد ترک کر کے مفاہمت کی چادر اُوڑھ لی گئی اور یہ کہا گیا کہ اب مزاحمت کا دور گزر چکا۔ یوں کل آمروں سے مفاہمت ہوئی تھی اور آج پاکستانی عوام کے قاتلوں سے ہورہی ہے۔ اور دونوں بار اس عمل کو ملک کے وسیع تر مفاد میں قرار دیا گیا۔ پہلے کی مفاہمت کے نتیجے میں ایک ’’ہائبرڈ نظام‘‘کی بنیاد پڑی اور دوسرے کے نتیجے میں ریاست پاکستان کو انتہا پسندی کے جہنم میں دھکیلنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ روبوٹک سیاست اسی کا نام ہے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں جمہوریت کی طرف بڑھتے تو کم از کم پچھلے 13سال کے جمہوری ادوار میں طلبہ یونینیں بحال ہوتیں، ٹریڈ یونینز مضبوط ہوتیں اور بلدیاتی ادارے خود مختار اور طاقتور ہوتے۔ مگر روبوٹ نما سیاست دان کیوں چاہیں گے کہ جاندار قیادت سامنے آئے، مزدوروں میں سے لوگ اوپر آئیں۔ لہٰذا فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اس سے بہتر نظام نہیں چاہئے جو بظاہر جمہوری نظر آئے لیکن اصل میں ان کے ریموٹ سے کنٹرول ہوتا ہو۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ایسے میں اگر قابلِ احترام چیف جسٹس آف پاکستان یہ کہیں کہ ’’پاکستانی عدلیہ پر کوئی دبائو نہیں اور نہ ہی آنے دیں گے‘‘ تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے لیکن انصاف تو وہی ہوتا ہے جو نظر آئے۔ اب جب سیاست سے صحافت تک ہر جانب کنٹرول ہی کنٹرول ہے تو الیکشن RTS سے ہوں یا EVM سے، ان میں روبوٹ ہی منتخب ہوں گے۔ بقول مظہر، پشت پر کوئی بھی کھڑا ہو مگر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کا عروج مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی 2008 سے2018 تک کی ناقص سیاست کا نتیجہ ہے ورنہ تو کپتان 2002 میں قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کا واحد رکن تھا۔
اس وقت تو حکومت اور اپوزیشن دونوں میں ایک ہی سافٹ ویئر فیڈڈ ہے۔ البتہ اس لحاظ سے عمران کامیاب ہیں کہ اپوزیشن کے ہر ایکشن کا فائدہ حکومت کو مل رہا ہے۔ اس لئے یہ امکان کم ہی نظر آتا ہے کہ اگلے الیکشن سال 2023 سے پہلے ہو سکیں۔ تاہم پاکستانی عوام یہ بھی خاطر جمع رکھیں کہ اگلے الیکشن کے نتیجے میں بھی ریموٹ کنٹرولڈ روبورٹس ہی برسر اقتدار آئیں گے۔

Back to top button