معاشی ترقی کے عمرانی دعوے جھوٹے ثابت ہوئے

کپتان حکومت کی جانب سے معاشی ترقی کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3.94 فی صد رہنے سے متعلق ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں تاہم اپوزیشن جماعتیں اور بعض معاشی ماہر ان اعداد و شمار کو غیر حقیقی اور من گھڑے قرار دیتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ چند ہفتے پہلے تک جی ڈی پی گروتھ 2.2 فیصد رہنے کی نوید سنائی گئی لیکن اب اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ یہ 3.94 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے حالانکہ ملک میں معاشی سرگرمیاں محدود ہو رہی ہیں اور مہنگائی میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کی قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے 21 مئی کو ہونے والے اجلاس کے بعد بتایا گیا ہے کہ رواں برس یعنی مالی سال 2021-22 کے دوران ملک کی مجموعی قومی پیداوار 3.94 فی صد رہنے کی توقع ہے۔ ترقی کی اس متوقع شرح کا اندازہ چھ سے نو ماہ کے دوران حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ مجموعی قومی پیداوار کے ان عبوری اعداد و شمار کا تخمینہ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں بہتر کارکردگی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں زراعت رواں برس 2.77 فی صد، صنعتیں 3.57 فی صد جب کہ خدمات کے شعبے میں 4.43 فی صد کی نمو دیکھی جا رہی ہے۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے گزشتہ برس کے حتمی اعداد و شمار آنے کے بعد اُس سال کی ترقی کی شرح کو منفی 0.38 فی صد سے کم کر کے مزید کم یعنی منفی 0.47 بھی بتایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ رواں برس 29 مارچ کو جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سال 2021 سے 2023 کے عرصے میں پاکستان کی اوسط ترقی کی رفتار 2.2 فی صد رہنے کی توقع ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں معیشت میں بہتری کے اثرات دکھائی دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم، کرونا وبا کی پابندیوں میں نرمی کے باعث آمدورفت میں اضافہ، بعض شعبوں میں نئی سرمایہ کاری، نئی مشینری کی خریداری اور سیمنٹ کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔لیکن دوسری جانب زرعی شعبے میں فصلوں کی پیداوار میں کمی اور خاص طور پر شدید بارشوں کے باعث کپاس کی فصل زیادہ متاثر ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں پیداوار شدید متاثر ہورہی ہے۔ اسی طرح صنعتی شعبے میں بھی ریکوری آہستہ دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 20 مارچ کو سامنے آنے والی رپورٹ میں ملک میں شرح نمو رواں برس تین فی صد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی جو اس سے پہلے نومبر 2020 میں دو فی صد متوقع تھی لیکن، حیران کن طور پر وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت کام کرنے والی قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے ان دونوں پیش گوئیوں سے کہیں زیادہ یعنی 3.94 فی صد کی رفتار سے مجموعی قومی پیداوار میں ترقی کا تخمینہ لگایا ہے اور اب اپوزیشن رہنمائوں سمیت معاشی ماہرین بھی ان اعدادو شمار اور پیشنگوئی پر یقین کرنے کو تیارنہیں۔
بہت سے تجزیہ کار اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں بھی اس بارے میں اسٹیٹ بینک کے تخمینوں کے برخلاف حکومتی تخمینے پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتی نظر آتی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے ترقی کی شرح 3.9 فی صد رہنے کے حکومتی دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے معاشی پالیسیوں سے، بقول ان کے، ملک کی مڈل کلاس کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، ترجمان اسٹیٹ بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بینک کی جانب سے پیش گوئی میں مناسب طور پر محتاط انداز اپنایا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق، نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے جاری تخمینہ اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا اور اس میں اسٹیٹ بینک کی مکمل حمایت شامل ہے۔ ادھر وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے بھی ان اعدادوشمار کے اجرا میں حکومتی دباؤ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کرونا وبا میں دانشمندانہ پالیسیوں نے معاشی صورتِ حال کو مکمل طور پر خراب ہونے سے بچایا ہے، کیوں کہ کرونا وبا کے دوران کاروبار مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے۔ اس دوران حکومت نے ہاؤسنگ، زراعت، ایکسپورٹ انڈسٹری پر توجہ دی۔ اس سے ملک میں کسی حد تک استحکام آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نمو کی شرح کو لوگوں نے بلاوجہ متنازع بنا دیا ہے۔ جو، ان کے خیال میں، نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان اعدادوشمار کے اجرا میں وزارتِ خزانہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اور یہ عمل شفاف طریقے سے کیا گیا۔ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ یہ نمبر ہمیں امید دلاتا ہے کہ ہم قومی معیشت کو مزید ترقی کی جانب لے کر جا سکتے ہیں اور آئندہ سال ترقی کی شرح 5 فی صد تک ہوسکتی ہے اور اسے سے اگلے سال چھ فی صد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہر معاشیات، حکومت کی اکنامک ایڈوائزی کونسل کے سابق رکن اور وزارتِ خزانہ میں سابق اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ سادہ ترین الفاظ میں کسی بھی ملک کا جی ڈی پی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایک برس کے دوران اُس ملک کی پیدوار کیا ہے اور ان کی مارکیٹ ویلیو کتنی ہے۔ اُن کے بقول ملک میں مختلف شعبوں کی کارکردگی کا بھی جی ڈی پی کے تعین کے وقت جائزہ لیا جاتا ہے۔اُن کے بقول، اس نمبر کو گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ یعنی جی ڈی پی کہا جاتا ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی صورتِ حال کس قدر بہتر ہے۔ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کی معیشت کس قدر بڑی یا چھوٹی ہے اور یہاں ترقی کی شرح کیا ہے؟ ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق مجموعی قومی پیداوار میں زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری سیکٹر، فشنگ، مائننگ، فارسٹری، صنعتیں، تعمیرات، بینکنگ اور انشورنس کے شعبے، پبلک ایڈمنسٹریشن، دفاع سمیت 14 کے لگ بھگ کیٹیگریز میں مختلف شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے 35 برس کے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ عالمی معاشی اداروں کے کئی ممالک کے بارے میں ایسے تخمینے سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سُن کر آپ حیران ہوں گے کہ اس میں ایسے ہاتھ کار فرما ہوتے ہیں جو ان تخمینوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے خیال میں عالمی معاشی اداروں جیسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے تخمینوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ 3.94 فی صد گروتھ ریٹ رہنے کی الگ وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں بیس ایفیکٹ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس سال کے جی ڈی پی کا موازنہ پچھلے سال کی بہت ہی کم سطح بلکہ ملکی تاریخ کی ایک پست ترین سطح سے کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال جی ڈی پی کی شرح منفی 0.47 فی صد تھی جب کہ 1952 میں یہ شرح اس سے بھی کم منفی 1.80 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کسی ایسے سال سے موازنہ کریں گے جس میں ترقی کی شرح انتہائی کم رہے گی تو اگلے سال کا تخمینہ ہمیں زیادہ ہی دکھائی دے گا۔ ڈاکٹر اشفاق حسن کے خیال میں اس کی دوسری بڑی وجہ گندم کی فصل کی پیداوار کا زیادہ تخمینہ لگانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عام طور پر یہی تاثر ہے کہ ملک میں اس سال گندم کی پیداوار 26 ملین ٹن کے قریب ہو گی لیکن کمیٹی کی رپورٹ میں گندم کی رواں برس کی پیداوار کاتخمینہ 27.3 ملین ٹن دکھایا گیا ہے۔ یعنی 1.3 ملین ٹن گندم کے اضافی تخمینے نے مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں 0.7 فی صد اضافہ ظاہر کیا ہے۔ اگر اس اضافے کو نکالا جائے تو جی ڈی پی کی شرح 3.2 فی صد کے لگ بھگ بنتی ہے جو ان سمیت بہت سے ماہر پیش گوئی کرتے آ رہے تھے۔ماہرین کے خیال میں گندم کی فصل کم ہونے کے بعد ترقی کی اس شرح کا حتمی تخمینہ یقینی طور پر کم سامنے آئے گا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالجلیل بھی جی ڈی پی کی شرح میں اس قدر اضافے کے تخمینے پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب کرونا وبا کی وجہ سے ملک میں رواں برس بھی سفری پابندیاں، صنعتیں اور دیگر خدمات کے شعبے زیادہ عرصے بند ہی رہے لیکن دوسری جانب حکومت کے تخمینے اس بارے میں بہتر رائے دیتے نظر آتے ہیں جو حقیقت کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فصلوں کی پیداوار نہ صرف کم ہوئی بلکہ اس کے ساتھ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم، چینی اور کپاس بھی باہر سے منگوانا پڑ رہی ہے۔ ایسے میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں عالمی اور ملکی اداروں کے تخمینوں سے بھی زیادہ اضافہ حیران کن دکھائی دیتا ہے۔
