معروف مزاح نگار انور مقصود کو کس نے اغوا کیا؟

معروف مزاح نگار، لیجنڈری سکرپٹ رائیٹر انور مقصود نے سوشل میڈیا پر اپنے اغوا اور تشدد کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی سچائی نہیں ہے، میری ہڈی ٹوٹی ہوتی تو بریانی کیسے بناتا؟سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹا گرام پر نامور گلوکار بلال مقصود نے اپنے والد انور مقصود کی ویڈیو شئیر کی جس میں انہیں بریانی کی دیگ میں چمچ چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اس دوران انور مقصود کہتے ہیں کہ ’اگر میرے زخم ہوتے یا ہڈی ٹوٹی ہوتی تو میں کیسے بریانی بناتا؟ میں تو ابھی بریانی بنا رہا ہوں ورنہ تو کوئی اور میرے لیے تین دن کے لیے بریانی بناتا، یاد رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ انور مقصود کو چند روز قبل اغوا کرلیا گیا ہے، جہاں انہیں حکومت کے خلاف بولنے سے روکنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں، تشدد کیا گیا اور تھپڑ مارے گئے۔رپورٹس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لیجنڈ آرٹسٹ انور مقصود کا کہنا تھا کہ میرے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں، مقامی میڈیا رپورٹ کو بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا نہ تو سوشل میڈیا پر کوئی اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی میں سوشل میڈیا دیکھتا ہوں، انور مقصود نے یہ بھی کہا کہ لوگ اسے ٹیلی فون کالز کے ذریعے رپورٹس کے بارے میں بتا رہے تھے، ’میں نہ صرف ایسی تمام خبروں کی تردید کرتا ہوں بلکہ ان لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہوں جو بغیر تصدیق کے ایسی خبریں پھیلاتے ہیں۔سوشل میڈیا پر انور مقصود کے نام سے شاعری، اقوال اور سیاسی و غیر سیاسی ٹویٹس گردش کرتی رہتی ہیں تاہم گفتگو کے دوران انور مقصود نے واضح کیا کہ ان کا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں، میرے پاس واٹس ایپ تک نہیں، میرے پاس سادہ سا فون ہے، اب اس فون سے میں کیا کیا کر سکتا ہوں؟ میں بس سلام کر سکتا ہوں اور ہرا بٹن دبا کر بات کرسکتا ہوں، مجھے تو میسج کرنا بھی نہیں آتا، سوشل میڈیا کو روکا نہیں جا سکتا البتہ ایک تہذیب آنی چاہئے۔

Back to top button