معطل FIA افسر وزیر اعظم کے فون کا فرانزک آڈٹ کیوں چاہتا ہے؟

شوگر کمیشن کے رکن اور ایف آئی اے کے معطل افسر سجاد مصطفیٰ باجوہ نے کہا ہے کہ وہ عمران خان پر شوگر سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام پر قائم ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ خان صاحب نے شوگر مِلز مالکان کو 400 ارب روپے سے زیادہ کا فائدہ پہنچایا، وزیر اعظم، انکے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور شہزاد اکبر کے موبائل فونز کا فرانزک کروایا جائے تا کہ پتہ چل سکے کہ کون کس کی سرپرستی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں جلدی کی جانی چاہیے ورنہ یہ نہ ہو کہ اس معاملے کی انکوائری شروع کرنے والوں کو پتہ چلے کہ فون کا پرانا ڈیٹا تو ڈیلیٹ ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ سجاد باجوہ وزیراعظم کے حکم پر تشکیل دیے جانے والی شوگر سکینڈل کمیشن کے ایک رکن تھے جنہیں وفاقی وزارت داخلہ نے انٹیلی جنس بیورو کی ایک خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر ایف آئی اے سے برطرف کر دیا تھا۔تاہم سجاد مصطفیٰ باجوہ کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف الزامات میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے اور انہیں وزیر اعظم، ان کے پرنسپل سیکریٹری اور شہزاد اکبر نے ایف آئی اے سے نکلوایا ہے کیوں کہ وہ شوگر سکینڈل میں ان لوگوں کے کردار کے بارے میں جان چکے تھے۔ باجوہ کا کہنا ہے کہ ’شوگر کمیشن انکوائری کے دوران جیسے ہی میں نے چینی کی افغانستان سمگلنگ، چینی کے کاروبار میں سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور ایف بی آر جیسے اداروں کے کردار کے متعلق سوالات اٹھائے، اسی وقت حکومت میں شامل کچھ طاقتور لوگ میرے خلاف ہو گئے جو نہیں چاہتے تھے کہ میں ان پہلوؤں پر تحقیقات کروں جن سے اس مافیا کو قابو کیا جا سکتا تھا۔‘ سجاد مصطفیٰ باجوہ کہتے ہیں کہ جب انہیں شوگر انکوائری سونپی گئی تو انہوں نے معلوم کیا کہ ایف بی آر اور دیگر اداروں کی جانب سے دس بڑی شوگر ملوں کو ’ٹیکس چوری‘ اور ’قیمتوں میں اضافے‘ کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بارے میں چھان بین کر کے ڈی جی ایف آئی اے سمیت متعلقہ اداروں کو فوری خطوط لکھے۔
سجاد مصطفیٰ نے اعلیٰ افسران کو آگاہ کیا کہ جو قوانین 2015 میں بنے رھے ان پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔شوگر، سیمنٹ اور کھاد کی انڈسٹری سے متعلق بننے والے قوانین کے مطابق الیکٹرانک سرویلنس، سوفٹ ویئر ڈویلپ، سی سی ٹی وی کیمرے ملز کے گیٹ اور گودام میں نصب ہونا تھے جس کی رسائی صرف ایف بی آر کو ہونا تھا مگر ان میں سے کسی شرط کو بھی پانچ سال میں پورا نہیں کیا گیا۔ جب میں نے ان قوانین پر عمل نہ کرنے والی ملوں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ مانگی تو ایف بی آر کے ممبر کمیشن ڈی جی انٹیلی جنس نے مجھے دھمکی دی کہ آپ نے یہ معاملہ تحریری طور پر کیوں لکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ 70 فیصد چینی افغانستان بھیجی جا رہی تھی جو کہ غیر قانونی عمل تھا۔
سجاد باجوہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں چینی کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ بھی حکومت نے جان بوجھ کر لٹکایا۔ ’اس کے پیچھے ملز مالکان کو تحفظ دینا مقصود تھا۔‘ ’سب ملے ہوئے ہیں مال بنا رہے ہیں گوجر خان جاکر پتہ کیا جائے کہ مرزا دال چاول کی ریڑھی لگانے والا کون تھا تو اتنی جائیداد اور پیسہ کہاں سے آگیا؟‘ ان سے پوچھا گیا کہ شوگر ملز، سیمنٹ اور کھاد فیکٹری مالکان کو کون فائدہ پہنچا رہا ہے؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ’وزیر اعظم عمران خان، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور شہزاد اکبر سمیت شوگر کمیشن ممبران کے ٹیلی فونز کا فرانزک کرایا جائے سب معلوم ہو جائے گا کون کس کی سرپرستی یا فائدہ پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ موبائل کمپنیاں اور پی ٹی اے ان کے موبائل کا ڈیٹا محفوظ کر لے کیونکہ وہ اس معاملے کو عدالت سمیت ہر جگہ اٹھائیں گے۔ ’وہاں اس ڈیٹا کی درخواست کروں گا۔ یہ نہ ہو انکوائری چلے نمبر تبدیل یا پرانا ہونے پر ڈیٹا ختم ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے حق اور سچ کی خاطر وزیراعظم پاکستان سے بھی ٹکر لے لی ہے۔ باجوہ نے کہا کہ انشاءاللہ وقت بدلے گا اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہو کر اس انکوائری کو انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچپن روپے سے ایک سو بیس روپے تک چینی کی قیمت پہنچنے کی وجہ بننے واکے مگر مچھوں کے خلاف بھی قانونی چارا جوئی کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ انہیں بلیک میل کیا گیا۔ وہ بتائیں کہ کون سا شوگر مل مالک آیا اور انہیں بلیک میل کیا جس پر چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی؟
اس سوال پر کہ کیا جہانگیر ترین سمیت شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی سنجیدہ ہو رہی ہے؟ سجاد باجوہ نے جواب دیا کہ تمام انکوائریز ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ابوبکر خدا بخش کی زیر نگرانی ہو رہی ہیں جو کہ وزیراعظم اور شہزاد اکبر کے خاص آدمی ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں کرنے کو کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بعض معلومات ابھی نہیں دینا چاہتا لیکن جلد سب کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ انکوائری سب دکھاوا ہے۔‘ انہوں نے کہاکہ سوچنے کی بعد یہ ہے کہ ستر سالوں میں چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو سے کم رہی لیکن گذشتہ دو سالوں میں دوگنا سے بھی بڑھ گئی اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہو کیا رہاہے؟ سجاد باجوہ کہتے ہیں کہ ’عدالت اختیار دے تو چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو سے نیچے نہ لایا تو جو مرضی سزا دیں، میں ایسا 1996 میں کر کے دکھا بھی چکا ہوں۔ چینی کی قیمتیں شوگر ملز کی انکوائریوں کے ذریعے کم کرائی تھیں لیکن یہاں تو وزیراعظم سے لے کے احتساب والوں تک سب شوگر مافیا کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں اور اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔
سجاد باجوہ کہتے ہیں کہ ’یہ پہلی بار نہیں کہ میں نے کسی کے خلاف انکوائری کی ہو اور میرے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہوں۔ میں نے ہر جگہ ہر بار پریشر کے باوجود اپنی ذمہ داری پوری کی۔ لیکن پہلے ٹرانسفر کیا جاتا تھا اب بھی کوئی مسئلہ تھا تو ٹرانسفر کردیتے لیکن موجودہ حکومت کہتی ہے باجوہ کو عبرت کا نشان بنانا ہے، خان صاحب کی حکومت مجھ جیسے ایماندار افسران کے خلاف تو کارروائی کر رہی ہے مگر واجد ضیا کی سربراہی میں جن انکوائریوں میں 62,63 کرپٹ افسران قرار پائے، انہیں عہدوں سے نوازا جا رہا ہے۔ سجاد باجوہ کا کہنا ہے وہ اب بھی خوفزدہ یا پریشان نہیں اور انہیں یقین ہے کہ وقت بدلے گا اور آخری فتح حق اور سچ کی ہوگی۔
