اداروں کو موجودہ نظام گرنے کا خطرہ کیوں لگ رہا ہے؟

اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک میں تیزی آنے کے بعد اب تو ریاستی ادارے بھی ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو ہلکا سا دھچکا بھی لگا تو نظام کا چلنا مشکل ہو جائے گا اور سارا سیٹ اپ دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کا ہیولا کچھ اِس طرح سے بن کے نکلا ہے کہ اگر اِس میں سے ایک اینٹ نکالتے ہیں تو سارا نظام گرنے لگے گا اور اب یہ کوئی راز نہیں رہا۔ حال ہی میں ایک بار پھر سے ریاستی اداروں کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر اعتراضات اُٹھا کر انہیں رخصت کرنے کو کہا گیا مگر بڑے خان صاحب نے دوبارہ یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔ شنید یہ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اندر ردوبدل اور گورننس کے بارے میں مشوروں کو بھی وزیراعظم کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان حالات میں ریاستی اداروں کو یہ خدشہ ستانے لگا ہے کہ کہیں انکی جانب سے پنجاب میں تبدیلی لانے کے مشورے پر اصرار کے نتیجے میں موجودہ سیٹ اپ کا ہیولا دھڑام سے نیچے نہ آ گرے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق یہ افواہیں بھی زوروں پر ہیں کہ مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان اختلافات پھر سے بڑھ گئے ہیں۔ دوسری طرف ن لیگ مریم نواز کو چودھری شجاعت کی عیادت کے لئے بھیج کر حکمران اتحاد میں اختلافات کی خلیج کو وسیع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ لہذا ق لیگ بہت محتاط ہے اور چودھری پرویز الٰہی کسی واضح اور مضبوط سگنل کے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائیں گے، کیوں کہ انہیں ماضی میں شریفوں کے ہاتھوں کئی تلخ تجربات ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے بڑے بھی وزیراعظم عمران خان کے ردِعمل سے خوفزدہ ہیں اور بڑی احتیاط سے چل رہے ہیں۔ یہ طے ہے کہ پنجاب میں عمران خان کی مرضی کے خلاف چھیڑ چھاڑ ہوئی تو وہ لازماً جوابی ردِعمل کا اظہار کریں گے۔ لہذا یہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ پنجاب میں تبدیلی لاتے لاتے پورا نظام دھڑام سے نیچے گر جائے۔ سب موئثر تبدیلی کے خواہاں ضرور ہیں مگر یہ نہیں چاہتے کہ اِس کے نتیجے میں پورے سیاسی ہیولے کو نقصان پہنچے کیونکہ ھکومت اور اسٹیبلشمینٹ کے مفادات مشترک ہیں اور ایسا سسٹم تشکیل پا چکا ہے کہ جس کی دیوار میں سے ایک اینٹ بھی نکلے تو ساری دیوار ہی نیچے جا گرے گی۔
ان حالات میں سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کہ کیا، کوئی ہے جو سامنے نظر آنے والے تصادم کو روک سکے؟ کیا، کوئی ہے جو پھر سے بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو ختم کر سکے؟ کیا، کوئی ہے جو ملک کو سیاسی اور پھر معاشی عدم استحکام کی طرف جانے سے روک سکے؟ کیا، کوئی ہے جو حکومت کو مفاہمت اختیار کرنے پر مجبور کر سکے؟ کیا، کوئی ہے جو اپوزیشن کو لانگ مارچ کے انتہائی اقدام سے روک سکے؟ کیا، کوئی ہے جو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا عوام کو ہمدردی کے دو بول سنا سکے؟ کیا، کوئی ہے جو کورونا کے خوفناک موسم میں حکومت اور اپوزیشن کو کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے پر مجبور کر سکے؟
افسوس یہ ہے کہ اِس ملک میں کوئی بھی ایسا تیسرا فریق نہیں جو آمادۂ جنگ فریقین کے درمیان مفاہمت کروا سکے۔ افسوس یہ ہے کہ اِس ملک میں کوئی ایک بھی جمہوری بڑا نہیں جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پڑ کر درمیانی راستہ نکال سکے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اِس ملک کا کوئی بھی آئینی یا جمہوری ادارہ ایسا نہیں جو بیچ تصادم میں کود کر فریقین کو روک سکے۔ افسوس تو یہ بھی ہے، سامنے نظر آ رہا ہے کہ سیاسی جنگ ہونے والی ہے، کوئی ادارہ، بڑا یا چھوٹا ٹس سے مَس نہیں ہو رہا، کیا جب تصادم کی آگ بھڑک اٹھے گی تب سب کی نیند کھلے گی؟
سہیل وڑائچ کے مطابق سب کونظر آ رہا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں کا نیا اور خطرناک دور شروع ہو گیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا مرحلہ ہوگا، ظاہر ہے کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے پہلے تیسرے فریق کو متحرک ہو جانا چاہئے تاکہ لانگ مارچ جیسا خطرناک کام ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔ حکومت اگر اپنی طاقت اور انتظامی ہتھکنڈوں سے روکنے کی کوشش کرتی ہے تو اِس سے پورے ملک میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوگا اور اگر فری ہینڈ دے دیتی ہے، جس کا امکان بہت کم ہے، تو اسلام آباد میں امن و امان کا شدید مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ حکومت کیلئے تو تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ روکنا مشکل ہو گیا تھا لہذا11 سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا دھرنا تو اور بھی بھاری ہوگا۔ ان حالات میں اگر کسی نے ملک کے نظام کو بچانا ہے، جمہوریت کو قائم رکھنا ہے، موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کو چلانا ہے، اپوزیشن کے مطالبات کو اہمیت دینی ہے، ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہے تو پھر یہی وہ وقت ہے جس میں کوئی کردار ادا کیا جاناچاہئے۔ اِس وقت زمینی صورتحال یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کو اگلے انتخابات کے لئے اصلاحات کی پیشکش کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بہ نفسِ نفیس یہ بیان دیا ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لئے تیار ہیں لیکن وزیراعظم کی یہ پیشکش ایک طرح سے اپوزیشن کا منہ چڑانے کے مترادف ہے کیونکہ جب بھی بامعنی مذاکرات کا ڈول ڈالا جاتا ہے، اُس کے لئے سازگار ماحول بنایا جاتا ہے، اعتماد سازی کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں، تو حکومت کی طرف سے کوئی ایسی واردات ڈال دی جاتی ہے جس سے یہ ساری اعتماد سازی کی فضا خراب یو جاتی ہے۔
سیاست میں ٹائمنگ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اپوزیشن نے اپنے جلسے، جلوسوں اور لانگ مارچ کی ٹائمنگ سیٹ کر رکھی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے جوابی حکمت ِعملی تیار کی ہے؟ کیا کوئی لانگ ٹرم پلان ہے یا پھر ہر جلسے یا لانگ مارچ کے موقع پر صرف وقتی پالیسی بنائی جائے گی؟ ضرورت اِس امر کی ہے کہ لانگ مارچ سے پہلے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات کرکے ملکی استحکام کو فروغ دیا جائے۔
سہیل وڑائچ پوچھتے ہیں کہ کہ کیا اِس ملک میں کوئی بھی ایسا شخص یا ادارہ نہیں جس کو تصادم کو روکنے کا خیال ہو؟ ہر کوئی اپنی حب الوطنی کا ڈھنڈورا تو بہت پیٹتا ہے مگر کوئی آگے آ کر اِس کشیدہ صورتحال کا تدارک کرنے کی کوشش نہیں کرتا؟ کیا کل جب تصادم ہو رہا ہوگا، ملک میں آگ لگی ہوگی، لانگ مارچ کے لئے قافلے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہوں گے، جگہ جگہ پولیس اور حفاظتی دستے اُن قافلوں کو روک رہے ہوں گے، ملک میں سیاسی استحکام ختم ہو جائے گا، معاشی استحکام ختم ہونا شروع ہوگا تو تب فیصلہ سازوں کو ہوش آئے گا؟ لیکن تب اِس آگ کو بجھانا، معاشی گراوٹ کو روکنا، کشیدگی کو ختم کرانا اور لڑائی کو صلح میں بدلنا بہت مشکل ہو گا۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ابھی وقت ہے کہ متعلقہ ادارے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ کھولیں۔ یاد رکھیں لانگ مارچ ہوا تو پھر اسمبلیوں سے استعفے بھی آ جائیں گے اور اگر ایسا ہوا تو حکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گی، اور پھر صرف حکومت ہی مشکل میں نہیں ہوگی پورا پاکستان مشکل میں ہوگا۔
