کیا خادم رضوی کا بیٹا بطور جانشین سب کے لیے قابل قبول ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سعد رضوی کو جماعت کا کا نیا سربراہ بنانے کا فیصلہ جماعت میں رخنہ ڈالنے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ اسی موروثی سیاست کا تسلسل ہو گا جس پر علامہ صاحب اپنی زندگی میں تنقید کرتے رہے۔ یاد رہے کہ 21 نومبر کو مینار پاکستان پر علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے موقع پر یہ اعلان کیا گیا کہ اب تحریک لبیک کے نئے سربراہ ان کے بڑے صاحبزادے سعد رضوی ہوں گے۔
فیض آباد کے تازہ ترین دھرنے کے ایک روز بعد وفات پا جانے والے تحریک لبیک کے رہنما علامہ خادم حسین رضوی کی کم و بیش چار سالہ سیاسی زندگی نے ریاست پاکستان پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ اب ان کے انتقال کے بعد یہ سوال فطری طور پر جنم لے رہا ہے کہ انکی جماعت کا مستقبل کیا ہوگا خصوصا جب ان کی زندگی میں ہی یہ جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے بانی رہنما علامہ آصف جلالی نے کچھ عرصہ پہلے علامہ خادم رضوی کے ساتھ اختلافات پیدا ہو جانے کے بعد اپنی علیحدہ جماعت بنا کر اس دھڑے کا نام تحریک لبیک یا رسول اللہ رکھ لیا تھا۔ 21 نومبر کو مینار پاکستان پر علامہ خادم رضوی کی بڑی نماز جنازہ اور تدفین کے بعد بی بی سی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا تحریک لبیک پاکستان ایسے ہی ملک بھر میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص شدت پسندانہ رجحان والے مذہبی نظریات کو فروغ دے کر ملکی معاشرت و سیاست پر اثرانداز ہوتی رہے گی یا پھر ماضی کی ان مذہبی سیاسی جماعتوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گی جو اپنے قائدین کے منظرنامے سے ہٹ جانے کے بعد ماضی کا قصہ بن کر رہ گئیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خادم رضوی نے ملک کے اکثریتی سنی العقیدے بریلوی مکتبہ فکر کی سیاسی بیداری، سٹریٹ پاور اور ووٹ بینک کو نئی طاقت اور سمت دی۔ یہ بات بھی اب واضح طور پر نظر آرہی ہے کہ دنیا میں مسلح تحریکوں کے خلاف حالیہ چند سالوں میں پیدا ہونے والے واضح اور اجتماعی مؤقف کے بعد ریاست پاکستان اور اس کے خفیہ ادارے شدت پسند دیو بندی عقیدے کی حامل جہادی یا دہشتگرد تنظیموں سے قدرے دور ہوتے نظر آرہے ہیں۔
سینئر صحافی اعزاز سید نے بی بی سی اردو کے لیے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ملکی سیاست میں پیدا ہونے والے خلا کو سنی بریلوی عقیدے کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے بہت تیزی سے پر کیا تھا۔سنی العقیدہ بریلوی جماعتوں کا فروغ پانا کوئی انہونی نہیں تھی بلکہ مختلف عوامل اس کا پتہ دے رہے تھے۔ سنی العقیدہ جماعتوں بالخصوص تحریک لبیک پاکستان نے اس خلا کو پر کیا ہے جو ریاست نے دوسری تنظیموں سے دوری اختیار کرکے پیدا کیا تھا۔ اعزاز سید کے مطابق قیادت میں تبدیلی کے باوجود تحریک لبیک اور اس جیسی جماعتیں مستقبل میں بھی پھلتی پھّولتی رہیں گی۔ تحریک لبیک پاکستان کا سیاسی سفر کم و بیش چار سال پر محیط ہے۔ اس دوران یہ جماعت عملی طور پر پاکستان کی اکثر مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے سربراہ یعنی علامہ خادم رضوی کے گرد ہی گھومتی رہی۔
خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی پارٹی کا مستقبل ان کی پارٹی قیادت کی جانشینی کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔ تحریک لبیک کے بعض حلقوں میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ اس جماعت کی سربراہی علامہ خادم رضوی کے بیٹے حافظ سعد رضوی کے سپرد کردی جائے گی کیونکہ خادم رضوی اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کررہے تھے۔ سعد رضوی کو پارٹی کا نیا سربراہ بنانے کے لیے دی جانے والی دلیل میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تحریک کو علامہ خادم رضوی کی اچانک وفات کے بعد پیدا ہونے والے قیادت کے بحران سے بچانے کے لیے کارکنوں کے اندر بیٹے کے ساتھ ہمدردی کے جذبات بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یاد رہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد رکھنے والے علامہ آصف جلالی کچھ برس پہلے خادم رضوی سے اختلافات کے بعد علیحدہ ہو گے تھے اور انہوں نے اپنا علیحدہ دھڑا تحریک لبیک یا رسول اللہ کے نام سے بنا لیا تھا۔
علامہ خادم رضوی کا فیض آباد میں نومبر 2020 کے وسط میں آخری دھرنا اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ اس دھرنے سے قبل نکالی گئی ریلی کی عملی قیادت رضوی نے اپنے بیٹے سعد رضوی سے ہی کروائی تھی کیوں کہ ان کی اپنی طبیعت کچھ روز سے ناساز تھی اور وہ دھرنے کے مقام پر بھی صرف آخری روز بیٹھنے کے لئے آئے جب انہوں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرنا تھا۔ اس سے پہلے ان کے قریبی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور پھر دھرنا ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لئے خادم رضوی کے مطالبے پر انہیں رہا کیا گیا تھا۔
دوسری طرف اس جماعت کے بانیوں میں شامل ناراض رہنما پیر افضل قادری کا کہنا ہے کہ گو کہ وہ اب تحریک لبیک کا حصہ نہیں اور علامہ خادم رضوی کی وفات پر رنجیدہ بھی ہیں لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ مرحوم اپنی جماعت کو کبھی موروثی جماعت نہیں بنانا چاہتے تھے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک تحفظ ناموس کے نام پر سیاست کر رہی تھی اور سندھ اسمبلی میں اس کے دو براہ راست طور پر منتخب اور ایک مخصوص نشست پر اراکین صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔ لیکن وہ نہ تو حکومت کا حصہ تھے اور نہ اپوزیشن کے کسی اتحاد کا حصہ۔ اس وقت دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے سب سے بڑے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شاہ اویس نورانی کی سربراہی میں سنی العقیدہ بریلوی مسلک کی جمعیت العلمائے پاکستان اپنے مکتب کی نمائندگی کررہی ہے۔ اگر تحریک لبیک پاکستان علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد کوئی متحرک متبادل قیادت نہ دے پائی تو سیاسی مبصرین کے مطابق سیاسی منظر نامے پر جمعیت العلمائے پاکستان کے ان کی جگہ لینے کا بھی قوی امکان ہے۔ عملی طور پر خادم رضوی کی جماعت کو صرف بڑی سیاسی جماعت جمعیت العلمائے پاکستان سے ہی نہیں بلکہ سنی العقیدہ دیگر مزہبی جماعتوں سے بھی خطرہ ہے جن میں سب سے اہم ڈاکٹر آصف جلالی کی تحریک لبیک ہے جسکا مرکز بھی لاہور اور گرد ونواح کے علاقے ہیں۔ یہ ڈاکٹر آصف جلالی وہی ہیں جو کسی زمانے میں علامہ خادم رضوی کے ہمراہ تحریک لبیک پاکستان کے قائدین میں شامل تھے۔ مگر بعض تنظیمی امور پر اختلافات کے باعث دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔
علامہ خادم رضوی کی جماعت کے پیروکارخطاب کے دوران مرحوم کی سخت اور بعض اوقات قابل اعتراض زبان کے بھی دلدادہ تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے پیروکاروں میں معاشرے کے متوسط طبقات اس جماعت کی طرف راغب ہوئے۔ علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد اب نظریں ان کی جماعت کے نئے قائد پر مرکوز ہوں گی۔ اگرجماعت کی نئی قیادت کا فیصلہ میرٹ پر نہ ہوا بلکہ جماعت قیادت کے مسئلے پر اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی تو بعض سیاسی مبصرین کے مطابق اس جماعت کے لیے اپنے سابق رہنما خادم رضوی کی طرح اپنے حامیوں کو ایک پلیٹ پر جمع اور متحرک کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
