مفتاح کا "چلی ملی” کے بدلے ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ


مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسمٰعیل نے ٹوئٹر پر بچوں کی پسندیدہ ’’چلی ملی‘‘ جیلی سے متعلق صارف کی شکایت دور کرنے کی انوکھی شرط بتا کر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ، 2 روز قبل اُسامہ لالی نامی ٹوئٹر صارف نے مفتاح اسمٰعیل کے خاندانی کاروبار کی مقبول جیلی ‘چلی ملی’ سے متعلق ٹوئٹ کی تھی۔
اپنی ٹوئٹ میں اُسامہ نامی صارف نے لکھا تھا کہ چلی ملی اب جوسی کیوں نہیں رہی؟ ہمیشہ اتنی سوکھی اور مری ہوئی ہوتی ہے ایسا لگتا ہے کہ چلی ملی ڈرائی فروٹ کھا رہے ہوں۔
مذکورہ ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ میں انہیں کہوں گا کہ چلی ملی کو مزید جوسی بنائیں لیکن برائے مہربانی مجھ سے وعدہ کریں کہ آئندہ الیکشن میں آپ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں گے۔کسی نے ان کی حمایت کی تو کچھ نے شدید تنقید کی جبکہ کئی صارفین نے دیگر مصنوعات کو بھی بہتر بنانے کا مطالبہ کر دیا اور دیگر نے انہیں مختلف تجاویز بھی دیں۔
فریحہ نامی صارف نے لکھا کہ جہاز سے گھروں پر چلی ملی گروائیں میرا ووٹ آپ کا۔جاسر شہباز نے لکھا کہ مفتاح بھائی ’’کوکو مو‘‘ کا بھی کچھ کریں ، ایک، 2 میں تو چاکلیٹ نکلتی ہی نہیں ، روبز نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ لیز کا بھی کچھ کریں اس میں صرف ہوا بھری ہوتی ہے۔
اوشاز نامی ٹوئٹر ہینڈل نے کہا کہ میں اگلے الیکشن میں آپ کے لیے سوشل میڈیا مہم چلاؤں گا اگر آپ نٹیلا کی قیمتوں میں کمی اور ایک پیکٹ میں کوکو مو کی تعداد بڑھانے پر رضامند ہوں۔محمد عدیل نے لکھا کہ بریانی سے بات اب چلی ملی پر آ گئی ہے ، حالات واقعی نازک ہیں۔
مصطفیٰ نامی صارف نے لکھا کہ مفتاح اسمٰعیل ریاست اور معاشرے کے درمیان خلا کو پُر کرتے ہوئے۔عذیر نامی صارف نے مشورہ دیا کہ آپ کو تمام بڑے شہروں میں ایم اینڈ ایم سٹور کی طرغ فلیگ شپ کوکو مو سٹور کھولنے چاہیں اور انہیں مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کریں۔شہربانو نے کہا کہ اور ووٹ نہ دیا تو پہلے والا جوس بھی نکال دیں گے۔ایک اور صارف نے پیکٹ میں جیلی کی تعداد بڑھانے کا کہا۔
کینڈیز کے ساتھ سیاست کا ذکر ہوا تو کچھ صارفین نے ن لیگ کے سیاسی نعرے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے طرز پر ’چلی ملی کو عزت دو‘ کا نعرہ لگا ڈالا۔کچھ صارفین نے مفتاح اسماعیل کی ٹویٹ کے جواب میں ’یہ ہوتا ہے وژن، ایسے ہوتے ہیں لیڈر‘ کا طنز کیا۔
خیال رہے کہ مفتاح اسمٰعیل اس سے قبل بھی اپنے خاندانی کاروبار کی مصنوعات کا استعمال سیاسی مقاصد کے لیے کر چکے ہیں۔رواں برس مارچ میں کراچی کے حلقے این اے -249 کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران انہوں نے عوام میں ٹافیاں تقسیم کی تھیں جن پر ان کی تصویر، نام اور حلقہ موجود تھا۔

Back to top button