مقامی گاڑیاں سستا کرنے کی حکومتی پالیسی ناکام کیوں ہوئی؟

ملکی سطح پر تیار ہونیوالی گاڑیوں کو درآمدی گاڑیوں سے سستا رکھنے کی حکومتی پالیسی بری طرح ناکام ہوگئی ہے، درآمدی گاڑیوں پر 500 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے جہاں ان کی قوت خرید عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے وہیں ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملکی سطح پر تیار ہونیوالی گاڑیاں بھی مہنگی ہوگئی ہیں، اس طرح درآمدی اور ملکی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیاں عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔ درآمدی کاروں پر ٹیکسوں کی بلند شرح کی وجہ سے ان کی قیمتیں مقامی صارفین کے لیے تو بلند سطح پر موجود ہیں تاہم ملک میں تیار ہونے والی کاروں کی قیمتیں بھی اس وقت مہنگی ہیں جس کی وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے خام مال کی قیمت میں اضافہ ہے جو پاکستان باہر سے درآمد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کار بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو کاروں کی ڈیلیوری میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ درآمدی کاروں پر بلند شرح ٹیکس کی زد میں لگژری گاڑیوں سمیت کم طاقت کے انجن والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ درآمدی کاروں کے ڈیلرز کے مطابق 660 سی سی تک کی تین سال پرانی گاڑی بھی اس وقت 30 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے جو ایک متوسط طبقے کے فرد کی پہنچ سے باہر جا چکی ہے، پاکستان میں سٹیٹ بینک کے ریگولیشنز کے تحت اس وقت درآمدی گاڑیوں پر بینکوں کی جانب سے فنانسنگ پر پابندی عائد ہے اور مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروں پر بھی فنانسگ کی حد 30 لاکھ تک ہے جبکہ ملک میں بلند شرح سود کی وجہ سے بھی فنانسگ میں مسلسل تین مہینے سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔
پارلیمینٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں کی شرح 500 فیصد تک ہے۔ ان ٹیکسوں میں کسٹم ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ایڈیشنل سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس نافذ ہے۔ 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹیکسوں کی مجموعی شرح کو 110 فیصد سے 250 فیصد کر دیا گیا۔ 1300 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر ٹیکسوں کی مجموعی شرح کو 160 فیصد سے 300 فیصد کر دیا گیا تھا اسی طرح 1800 سی سی سے زیادہ کی گاڑیوں پر ٹیکسوں کی مجموعی شرح کو 375 فیصد سے 500 فیصد کر دیا گیا تھا۔ آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ لگژری گاڑیوں پر بلند ٹیکس کی شرح سمجھ آتی ہے کیونکہ ان کی قیمت زیادہ ہے اور انھیں درآمد کرنے والے افراد کو زیادہ ٹیکس سے فرق بھی نہیں پڑتا۔ انھوں نے کہا کہ 1800 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 70 فیصد تھی جسے حکومت نے 100 فیصد کر دیا اور اس اضافی 30 فیصد کا بڑی گاڑیوں کی خریداروں پر زیادہ اثر بھی نہیں پڑتا تاہم 660 سی سی سے 1500 سی سی گاڑیوں پر پہلے ریگولیٹری ڈیوٹی صفر تھی تاہم اگست میں اسے 100 فیصد کر دیا گیا۔ اسی طرح اضافی کسٹم ڈیوٹی کی شرح کو سات سے 35 فیصد کر دیا گیا۔
انھوں نے کہا کم طاقت کے انجن کی حامل گاڑیوں پر ٹیکسوں کی بلند شرح نے ان کی قیمت کو اتنا زیادہ بڑھا دیا ہے کہ اب وہ متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے اور 250 فیصد تک ٹیکس کی ادائیگی کے بعد 660 سی سی کار کی درآمدی قیمت 30 لاکھ تک چلی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پانچ سال پرانی گاڑی کی درآمد کی اجازت ہو تو ٹیکسوں کی اس شرح کے ساتھ اس کی قیمت 22 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈالروں کی کمی ہے اور مقامی کمپنیوں کو خام مال اور پارٹس کی درآمد کے لیے ایل سی کھولنے میں دشواری ہے۔ ایچ ایم شہزاد کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ استعمال شدہ درآمدی کاریں جن سکیموں کے تحت پاکستان پہنچتی ہیں ان کی بینکوں میں ایل سی نہیں کھلتی اور نہ ہی ڈالر بیرون ملک جاتے ہیں بلکہ ان کے رشتہ داروں کو ان کی ادائیگی کی جاتی ہے، ان کے مطابق اگر 50 ہزار گاڑیاں ملک میں آ رہی ہیں تو کون اپنے رشتہ داروں کو اتنی گاڑیاں بھجواتا ہے۔
تین جاپانی کمپنیاں پاکستان میں کافی عرصے سے کاریں بنا رہی ہیں اور اب چینی، کورین کمپنیاں پاکستان میں آئیں تو انھیں تین سال تک تحفظ کی مراعات حاصل ہیں تاکہ وہ اسمبلنگ سے بڑھ کر آگے مقامی سطح پر کاریں تیار کر سکیں، مقامی کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کی وجہ بھی ڈالر کی کمی بتائی جا رہی ہے۔ اس وقت تمام کمپنیاں اپنی پیداواری استعداد سے کم گاڑیاں تیار کر رہی ہیں جس کی وجہ سی کے ڈی کٹس کی درآمد میں دشواری ہے اور سٹیٹ بینک اس کی کھل کر اجازت نہیں دیتا اور جو تھوڑی بہت سی کے ڈی کٹس آتی ہیں اس سے گاڑیاں تیار کر کے صارفین کو دی جا رہی ہیں لیکن طلب زیادہ ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی تیاری اور ان کی صارفین کو ڈیلیوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔
