حدیقہ پاکستانی مردوں کو قدامت پسند نہیں سمجھتیں

بلاک بسٹر گانے ”بوہے باریاں“ سے شہرت حاصل کرنے والی گلوکارہ حدیقہ کیانی 50 سال کی ہو جانے کے باوجود خوبصورت اور پُرکشش دکھائی دیتی ہیں، جس کا کریڈٹ ان کے متوازن رہن سہن اور صاف ستھرے کیریئر کو جاتا ہے۔ اپنے سنگر ہونے پر فخر کرنے والی حدیقہ معاشرے کی اس سوچ سے متفق نہیں کہ پاکستانی مرد قدامت پسند ہیں۔ ان کے خیال میں اکثر مرد اندر سے آزاد خیال اور کھلے ذہن کے مالک ہوتے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ مردوں کو اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے لئے کچھ حدود طے کرنا پڑتی ہیں۔ یہیں سے ان کی آزاد خیالی قدامت پسندی میں ڈھلنا شروع ہوتی ہے۔ حدیقہ نے جب اپنا پہلا گانا ریکارڈ کرنے کا پلان بنایا تو اس وقت وہ کنیئرڈ کالج میں پڑھتی تھیں، انھوں نے بھائی سے بات کی، ان کے بڑے بھائی عرفان کیانی موسیقار تھے اور حدیقہ ان کی قدامت پسندی سے ڈرتی بھی تھیں لیکن انھوں نے حدیقہ کی خواہش پوری کر دی۔۔ اور تو اور حدیقہ کی بڑی بہن ساشا بہت اچھی سنگر ہیں، شروع میں انھوں نے حدیقہ کے ساتھ مل کر گایا بھی ہے پھر وہ شادی کے بعد امریکہ چلی گیئں اور ان کا یہ شوق ادھورا رہ گیا۔
حدیقہ اپنی سنگنگ کے حوالے سے دلیر ضرور ہیں مگر انھوں نے معاشرے کی کھوکھلی اقدار سے بچ بچا کر اپنا سفر بہت آہستگی سے شروع کیا کہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ عرفان کی بہن تو سنگر ہے۔۔کیا سنگر ہونا واقعی شرم کی بات ہے؟ حدیقہ معاشرے کے اس سوال کا پورے اعتماد سے سامنا کرنا چاہتی تھیں اور آنے والے برسوں میں انھوں نے ثابت کر دیا کہ محنت اور سچائی سے کیا گیا کوئی بھی کام باعث شرمندگی نہیں ہوتا، شرمندہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں خود پر اعتماد نہیں ہوتا۔
حدیقہ کا پہلا البم ”راز“ 1995 میں ریلیز ہوا۔۔ اس کے بعد روشنی، رنگ، رف کٹ، آسمان، وجد اور وصل کے ٹائٹل سے ان کے 6 البم آ چکے ہیں۔ اب تو خیر وہ ”پاکستان آئیڈل“ سمیت موسیقی کے کئی شوز کی میزبانی بھی کر چکی ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے میوزیکل شو ” آنگن آنگن تارے“ کو ان کے کیریئر میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ آٹھویں کلاس کی طالبہ تھیں جب راولپنڈی سے لاہور شفٹ ہوئیں اور استاد واجد علی ناشاد سے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ ان کا ڈیبیو گانا ”جیون کی راہ میں“ ان کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ حدیقہ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے سائیکالوجی میں ماسٹرز کر رکھا ہے، جو ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ میں بہت کام آئی۔
حدیقہ نے اپنے اچھے برے کام کا کبھی کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ انھیں زندگی سے کوئی شکوہ نہیں، وہ اپنے ہر فیصلے کو اون کرتی ہیں۔ انھوں نے ایک گیپ کے بعد اب دوبارہ شوز کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس وقت چار شہروں میں ان کے بیعٹی سیلونز بھی ہیں، میک اپ کا حدیقہ کو ہمیشہ سے شوق تھا۔ وہ اپنی فٹ نیس کا بھی خیال رکھتی ہیں، صبح گرم پانی پیتی ہیں، یوگا کرتی ہیں جبکہ کھانے میں انھیں سوپ، سلاد اور دال چاول بے حد پسند ہیں۔ آج کل وہ اپنا زیادہ وقت اپنے لے پالک بیٹے نادِر کے ساتھ گزارتی ہیں۔ اب وہ بڑا ہو گیا ہے اور ماں کو بتاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟ نادِر کے اندر بھی حدیقہ کی طرح ردھم ہے اور اب وہ بیٹ پروڈکشن سیکھ رہا ہے۔ نادِر حدیقہ کے گانے تو سنتا ہے لیکن ڈرامے نہیں دیکھتا۔ حدیقہ نے اسے فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی فیلڈ میں جا سکتا ہے البتہ انسانی اقدار کے حوالے سے وہ کمپرومائز نہیں کریں گی۔ انھیں بلاوجہ کسی کا مذاق اڑانا اچھا نہیں لگتا، دوسروں سے عزت اور احساس کا رشتہ قائم رہنا چاہیئے۔ حدیقہ کو اس وقت بہت غصہ آتا ہے جب لوگ ان کی ذات یا خلوص پر شک کرتے ہیں کیونکہ وہ جو کام بھی کرتی ہیں، بے لوث ہو کر کرتی ہیں۔
بہت سے لوگوں کو یہ علم نہیں کہ حدیقہ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ فلاحی کاموں میں صرف کرتی ہیں اور اقوام متحدہ کے علاوہ کئی ملکی اور غیر ملکی فلاحی تنظیموں کی سرگرم کارکن رہی ہیں۔ اپنے بیس پچیس سالہ کیریئر میں حدیقہ تغمہء امتیاز سمیت بے شمار ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔
جہاں تک ایکٹنگ کا تعلق ہے تو اداکاری انھیں کبھی مشکل نہیں لگی۔ ان کے خیال میں ہم سارے ہی ایکٹر ہیں لیکن اگر ہم ٹی وی کی مومنہ درید انھیں ”رقیب سے“ میں سکینہ کا رول نہ دیتیں تو شاید وہ کبھی ڈراموں میں نہ آتیں۔ان ڈراموں نے حدیقہ کو نئی پہچان دی ہے، ڈرامہ ”دوبارہ“ تو لگتا ہے ان کی پرسینلٹی کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔ بقول حدیقہ، میں نے ہمیشہ اپنے کردار کو پہلے اپنے اندر اتارا ہے پھر پلے کیا ہے۔۔جیسے میں اپنے گانوں کو ہمیشہ ان کے اصلی رنگ میں گاتی ہوں، میں نے کبھی اردو گانا پنجابی لہجے میں یا انگلش گانا اردو لہجے میں نہیں گایا!!
