’ملتان جلسہ ہرصورت میں ہوگا‘ اپوزیشن کا دوٹوک اعلان

مسلم لیگ ن کے رہنما راناثناء اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ملتان جلسے کے ڈر سے حکومت نے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا، سیکریٹری داخلہ بنی گالہ سے منظوری کا انتظار کر رہا ہے، لیکن ملتان جلسہ ہرصورت میں ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملتان میں ہمارے یوسی چیئرمین اور کونسلرز کو گرفتار کیا گیا، ملتان میں جلسہ گاہ کو بھی کنٹینرز لگا کرسیل کردیا گیا ہے، قاسم باغ کو جانے والے راستوں میں کنٹینرز لگا دیئے گئے ہیں، اس صورت حال میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا مقدمہ عمران خان کے خلاف درج ہوگا۔ سابق وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ موجودہ حکمران اخلاقی دیوالیہ پن کامظاہرہ کررہے ہیں، شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو ابھی تک پیرول پررہا نہیں کیا گیا، کیوں کہ حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائی کی سیاست ہورہی ہے، عوام کورونا خطرے کے باوجود جلسوں میں آکر حکومت سے نجات چاہتی ہے۔ اس سے پہلے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے دی گئی ملتان جلسہ کی درخواست مسترد کر دی گئی، تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک نے 30 نومبر کو ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسہ کی اجازت کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی، جس میں ڈپٹی کمشنر نے موقف اختیار کیا کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشہ کے باعث حکومت پنجاب نے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اس صورت حال میں پی ڈی ایم کا جلسہ کورونا وائرس کیسز میں اضافے کا باعث بنے گا اس لیے اپوزیشن جماعتوں کی جلسہ کی درخواست مسترد کردی گئی۔ قبل ازیں اپوزیشن نے جلسے مؤخر کرنے کےلیے حکومت کو ایک پیش کش کی تھی، پی پی رہنما مصطفیٰ کھوکر نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کی لیڈر شپ کو آن بورڈ لینے کےلیے نواز شریف اور آصف زرداری کو کال کریں تو جلسے موخر کر سکتے ہیں، تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کورونا کی صورت حال میں بھی جلسے جلوس کرنے پر بضد ہے جب کہ حکومت وبائی صورتحال میں جلسے کرنے کی اجازت نہیں دے رہی، اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کھوکھر نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کی لیڈر شپ کو آن بورڈ لینے کےلیے نواز شریف اور آصف زرداری کو کال کریں تو جلسے موخر کر سکتے ہیں۔
