ملک ریاض اور عظمی خان کے مابین ڈیل کتنے کروڑ میں طے ہوئی؟

بالآخر وہی ہوا جس کی پہلے دن سے امید کی جا رہی تھی۔ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے عظمی خان کو نوٹ دکھائے اور وہ کیس واپس لینے پر مان گئی۔ شاید اس نے ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مقدمہ بھی صرف رقم اینٹھنے کے لئے ہی درج کروایا تھا۔ عظمی نے پرچہ درج کروانے کے بعد سے یہی رٹ لگا رکھی تھی کہ میں اپنا سب کچھ لٹا چکی ہوں اور اب میرے پاس کھونے کے لئے اور کچھ نہیں ہے لہذا اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گی۔ لیکن پھر ریٹ لگا اور اصولوں کا جنازہ نکل گیا۔ پاکستان کے سب سے بڑے بلڈر ملک ریاض اور اداکارہ عظمی خان کے مابین اپنی عزت اچھالے جانے کے بدلے ہرجانہ لینے پر کیس سے پیچھے ہٹنے کا تصفیہ بھی ہوگیا۔
دونوں پارٹیوں کے مابین طے ہونے والی ڈیل کے تحت اپنی بیٹیوں کے خلاف درج مقدمے کی ایف آئی آر واپس لینے کے لیے ملک ریاض کی طرف سے دی جانے والی ہرجانے کی رقم کی مالیت 25 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔ چنانچہ 2 جون کے روز مدعی پارٹی نے ملک ریاض کی بیٹیوں پشمینہ اور امبر اور ان کی تیسری رشتہ دار خاتون آمنہ کے خلاف جان سے مارنے کی کوشش پر درج شدہ مقدمہ خارج کروانے کے لیے لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں درخواست دے دی جس پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے ایف آئی آر کینسل کر دی گئی ہے۔ خس کم جہاں پاک۔
عظمیٰ خان اور اس کی بہن ہما خان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ مقدمہ غلط فہمی کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا اس لیے وہ مقدمے میں کوئی گواہی یا شہادت پیش نہیں کرنا چاہتیں۔ عظمیٰ اور ہما نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت کیس میں مزید کارروائی نہ کرنے سے متعلق بیان کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نعمان ناصر کے روبرو قلمبند کروایا۔ واضح رہے کہ پولیس نے آمنہ عثمان سمیت دیگر کے خلاف گھر میں گھس کر تشدد کرنے اور قیمتی اشیا کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے اور زخمی کرنے کی دفعات بھی شامل تھیں۔ لیکن دو جون کو اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے عظمیٰ اور ہما خان کا کہنا تھا کہ ان پر ایف آئی آر میں درج ملزمان میں سے کسی نے بھی تشدد نہیں کیا اور وہ گھر میں رکھے میز سے گرنے والے گلاس کے باعث زخمی ہوئیں۔ چنانچہ عظمی خان کی جانب سے ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر کینسل کر دی گئی اور یوں کیس ختم ہوگیا۔
اس سے پہلے یکم جون کو عظمیٰ خان کی وکیل خدیجہ نے دونوں پارٹیوں کے مابین تصفیے پر کام شروع ہونے کے بعد مقدمے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ عظمی کی وکیل کے مطابق وہ سمجھتی ہیں کہ یہ ڈیل پاکستان کے نظام انصاف کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے۔ اس سے پہلے عمران خان کے بھانجے اور عظمی کے وکیل حسان خان نیازی اور خود عظمی مسلسل یہ دعوے کر رہے تھے کہ وہ کسی بھی صورت ملک ریاض کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کریں گے اور اپنے اصولوں کی خاطر آخری حد تک جائیں گے۔ تاہم اس وقت سب اصولوں کا جنازہ نکل گیا جب ملک ریاض نے نوٹ دکھائے۔
دوسری طرف حسان نیازی نے بتایا ہے کہ ’انہوں نے عظمیٰ خان تک رسائی کی کوشش کی ہے لیکن انہوں نے میرے فون کا جواب دیا اور نہ ہی میسجز کا‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’انہیں ایک نامعلوم نمبر سے پیغام ضرور موصول ہوا ہے کہ عظمیٰ اور ان کی بہن کا ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ ہوچکا ہے لہذا اب اس کیس کو آگے لے کر چلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حسان نیازی نے کہا کہ اس پر ’میں حیران رہ گیا‘ اور اس معاملے سے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ خیال رہے کہ تاحال مقدمے کے فریقین کی جانب سے کسی تصفیے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے لیکن دستاویزات بتا رہی ہیں کہ سودا ہو چکا ہے۔
