جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کے پیچھے دراصل کون ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف نااہلی ریفرنس میں شکایت کنندہ نام نہاد صحافی وحید ڈوگر کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ اس شخص کا ماضی کیا ہے اور وہ کس میڈیا گروپ کے لیے کام کر رہ ہیں؟عدالت نے کہا کہ جو شخص انگریزی میں جسٹس فائز عیسی کا نام تک نہیں لکھ سکتا اس نے ان کے خلاف کیس کیسے دائر کردیا اور پھر اس پرتیزی سے کام شروع کرتے ہوئے ایک حاضر سروس جج کے خلاف صدارتی ریفرنس بھی دائر کر دیا گیا۔ عدالت نے حکومتی وکیل اور سابق وزیر قانون فروغ نسیم سے یہ سوال بھی کیا کہ اس کیس کے پیچھے دراصل ہے کون اورکیا شکایت کنندہ وحید ڈوگر کوغیب سے ججوں کے خلاف معلومات اور دستاویزات ملتی ہیں؟
3 جون کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائزعیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اُٹھایا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف شکایت کنندہ وحید ڈوگر کی درخواست پر مذکورہ جج کے خلاف تحقیقات کی اجازت کس نے دی؟ اُنھوں نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ اثاثوں کی ریکوری کرنے والے ادارے یعنی اے آر یو نے اس شکایت پر فوری انکوائری کا آغاز کیسے کر دیا؟ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ اے آر یو نے اب تک کتنی عوامی شکایات پر عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے؟
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی سوال اٹھایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی جائیداد کی تفصیلات انٹرنیٹ پر کیسے آ گئیں جبکہ مذکورہ جج کے خلاف شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو تو قاضی فائز عیسی کے نام کے سپلینگ بھی نہیں آتے۔ عدالت نے ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیا شکایت کنندہ کی درخواست پر کارروائی کرنے سے پہلے ان کی کریڈیبیلٹی یعنی ساکھ کو چیک کیا گیا؟
وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ شکایت کو دیکھا جاتا ہے جبکہ شکایت کنندہ کی ساکھ اہمیت کی حامل نہیں ہوتی۔ اُنھوں نے کہا کہ وحید ڈوگر نے 10 اپریل سنہ 2019 کو اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو شکایت بھیجی اور 8 مئی سنہ 2019 کو لندن میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی جائیداد کے بارے میں اے آر یو کو خط لکھا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس خط میں شکایت کنندہ نے لندن کی جائیداد، جس قمیت پر خریدی گئی اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے بارے میں بتایا تھا۔ وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ کابینہ کے رولز آف بزنس کے تحت اے ار یو کو کارروائی کرنے کے لیے قانون کی حمایت حاصل ہے۔
اس موقع پر بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر کا ماضی کیا ہے اور وہ کس میڈیا گروپ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وحید ڈوگر کی درخواست پر بڑی تیزی سے کام شروع کر دیا گیا، جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اُنھیں گزشتہ سماعت کے دوران جن سوالات سے متعلق جواب دینے کے بارے میں کہا گیا تھا وہ صرف اسی پر توجہ رکھیں۔ جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو غائب سے معلومات ملتی تھیں؟ اُنھوں نے کہا کہ اس ملک میں بہت سے کام غیبی مدد سے بھی ہوتے ہیں۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں سنہ 1988 کے بعد ہر جائیداد کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچوں اور اہلیہ نے لندن میں اپنی جائیدادوں کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ جج کی اہلیہ نے چند سال قبل اپنی آمدن چند ہزاروں میں ظاہر کی تھی جبکہ سنہ 2011-13 میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچے تعلیم سے فارغ ہو گئے اور اس مختصر عرصے کے دوران اُنھوں نے کیسے اتنی مہنگی جائیدادیں خرید لیں۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بلاشبہ قاضی خاندان امیر ہے لیکن زرعی اراضی پر ٹیکس ظاہر نہیں کرتا۔ جسٹس مقبول باقر نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر ایف بی آر نے اس معاملے پر کارروائی کیوں نہیں کی جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے حکام نے خوف کی وجہ سے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کارروائی نہیں کی کیونکہ ایف بی آر کے حکام کو خوف تھا کہ اگر اُنھوں نے ایسا کیا تو اُنھیں کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا۔
جسٹس مقبول باقر نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ذہن میں رکھیں کہ ہر ایک کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی نقطے کو جائزہ لیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اہلیہ اور بچے جسٹس قاضی فائز عیسی کے زیر کفالت تھے بھی یا نہیں۔ بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ منی ٹریل کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ بظاہر ٹیکس کی ادائیگی کا معاملہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ریفرنس پر جسٹس قاضی فائز عیسی پر بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔
سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی فائز عیسی کا مؤقف ہے کہ یہ جائیداد ان کے بچوں کی ہے جبکہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس کا جواب بچوں کی بجائے خود جسٹس قاضی فائز عیسی دیں۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جج کے بارے میں ریفرنس ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ انڈیا میں اثاثے جج کی اہلیہ کے بچوں کے نام تھے اور اُن کے خلاف تحقیقات شروع ہوئیں تو اس جج نے استعفیٰ دے دیا۔ ینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کے قانون کو چھوڑیں اور پاکستان کے قانون کی بات کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا قانون دکھا دیں جس میں جج کو اپنی اور اپنے خاندان کے دیگر افراد کی جائیداد ظاہر کرنا ضروری ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی کے خلاف مناسب مواد کی موجودگی کو قانون سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔
