اغواء کنندگان ادریس خٹک کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟

لاپتہ افراد کی آواز بن کر انسانی حقوق کا علم بلند کرنے والے متحرک سماجی کارکن اورنیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل ادریس خٹک سات ماہ گزرنے کے بعد بھی بازیاب نہ کرائے جا سکے۔ تاہم ان کی بیٹی کے مطابق یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بھائی لوگ اتنا لمبا عرصہ ادریس خٹک کو اپنی تحویل میں رکھ کر کیا کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف سماجی و سیاسی تنظیمیں پچھلے کئی ماہ سےادریس خٹک کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی جانب سے ان کے اغواء یا گرفتاری کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
ضلع نوشہرہ کے قصبے سیدو سے تعلق رکھنے والے ادریس خٹک 13 نومبر 2019 کے روزاس وقت پر اسرار طور پر غائب ہوگئے تھے جب وہ اسلام آباد سے واپس خیبر پختونخوا آ رہے تھے۔ ادریس خٹک کے قریبی ساتھی قیصر خان کے مطابق جب ادریس خٹک صوابی انٹر چینج پہنچے تو سادہ لباس افراد ادریس خٹک کو ڈرائیور شاہ سوار سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں ان کے ڈرائیور کو اسلام آباد ٹول پلازہ پر چھوڑ دیا گیا اور اُنہیں گاڑی دے کر گھر جانے کی ہدایت کی گئی اور اس حوالے سے کسی سے بھی گفتگو کرنے سے سختی سے منع کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈرائیور شاہ سوار کی واپسی کے بعد صوابی کے قصبے چھوٹا لاہور پولیس تھانے میں مقدمہ درج کرنے کے لیے رجوع کیا گیا مگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔ بعد ازاں عدالتی حکم پر صوابی پولیس نے مقدمہ درج کیا۔قیصر خان نے بتایا کہ ادریس خٹک کے غائب ہونے کے بعد انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں سینئر وکیل لطیف آفریدی کے ذریعے ایک درخواست دائر کی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے سات مختلف اداروں سے جواب طلب کیا ہے مگر ابھی تک صرف دو اداروں نے پشاور ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا ہے۔
مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق 13 نومبر 2019 کو غائب ہونے کے بعد رات 11 بجے ادریس خٹک نے اپنے ہی موبائل فون کے ذریعے بیٹیوں شمائلہ خٹک اور طالیہ خٹک سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے بیٹیوں سے کہا تھا کہ ان کے پاس موبائل فون کا چارجر نہیں ہے لہذا آئندہ چند دن تک ان کا فون بند رہے گا جبکہ 14 نومبر کو ادریس خٹک نے ایک دوست کو فون کرکے لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک بھیجنے کا کہا تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت تک وہ اغواء ہو چکے تھے اور اپنے اغواءکنندگان کی تحویل میں تھے۔ ذرائع کے مطابق ادریس خٹک گھر میں اکیلے رہتے تھے اس لیے اُنہوں نے دو آدمیوں کے ذریعے گھر کی چابیاں بھیج کر دوست کو فون کے ذریعے نشاندہی کرکے لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک وغیرہ اٹھانے اور ان دو آدمیوں کے حوالے کرنے کا کہا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک لے جانے کے اگلے دن شام کے وقت ڈرائیور شاہ سوار کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب چھوڑا تھا اور ادریس خٹک کی کار ان کے حوالے کرکے اُنہیں سیدھا گھر جانے کی ہدایت کی تھی۔
دوسری طرف نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر مختار باچا نے ادریس خٹک کے غائب ہونے اور طویل عرصے سے بازیاب نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ان کو ادریس خٹک کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اُنہوں نے تمام تر اُمیدیں پاکستان کی عدالتوں سے وابستہ کی ہوئی ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ اور عوامی نیشنل پارٹی اے این پی کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے ادریس خٹک کے فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادریس خٹک ایک سوشل ایکٹویسٹ ہیں اگر ان کے خلاف کوئی الزام یا ثبوت ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس طرح کسی بھی شہری کو اٹھانا اور غائب کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔اُنہوں نے سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے ادریس خٹک کی بازیابی میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کے پراسرار طور پر غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ بشری علوم میں روس سے پی ایچ ڈی کرنے والے ادریس خٹک انسانی حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔ ادریس خٹک خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی اضلاع میں پراسرار طور پر گمشدہ یا لاپتا افراد کے واقعات کے بارے میں رپورٹس بناتے رہے ہیں۔ادریس خٹک کے اہلیہ کا پہلے ہی سے انتقال ہو چکا ہے جب کہ ان کی ایک بیٹی شادی شدہ ہیں اور دوسری انجیئنرنگ یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ ادریس خٹک کی بیٹی طالیہ خٹک نے عید کے موقع پر ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان اور انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے والد کی بازیابی میں مدد کی اپیل کی ہے۔ عید سے کچھ دن قبل جاری ہونے والی ویڈیو میں طالیہ خٹک نے کہا کہ ان کے والد ذیابیطس کے مریض ہیں جب کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر دوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ طالیہ خٹک نے مزید کہا تھا کہ ان کے والد چونکہ گھر پر نہیں ہیں لہذٰا وہ عید کے موقع پر اپنے گھر بھی نہیں جا سکتی۔
واضح رہے کہ ادریس خٹک کے خاندان والوں اور قریبی دوستوں کو یقین ہے کہ ان کو سیکیورٹی اداے کی طرف سے غائب کیا گیا ہے کیونکہ ان کی طرف سے لاپتہ افراد کے حوالے سے آواز بلند کرنا مقتدر حلقوں کو ناگوار گزرتا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر شہریوں کی جبری گمشدگی کے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم ان اداروں اور حکومت کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے لاپتا یا جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے خصوصی کمیشن بھی بنایا تھا لیکن یہ بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ صرف ملک بھر میں جاری ہے بلکہ تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button