حکومت نے شدت پسند جہادی کے سامنے پھر گھٹنے ٹیک دئیے

وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے مرکز میں واقع لال مسجد پر کئی مہینوں سے قابض شدت پسند جہادی مولانا عبدالعزیز کے سامنے ایک مرتبہ پھر گھٹنے ٹیک دئیے اور جامعہ حفصہ انتظامیہ کی شرائط مانتے ہوئے امن معاہدہ کرنے کے بعد لال مسجد سے نہ صرف پولیس کی نفری ہٹا دی ہے بلکہ مولانا پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔
یاد رہے کہ یہ وہی لال مسجد ہے جسے جولائی 2007 میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعے مولانا عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالرشید غازی کے قبضے سے چھڑوانے کی کوشش میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں آرمی کے ایس ایس جی کمانڈوز بھی شامل تھے۔ اس آپریشن کے دوران مولانا عبدالعزیز کو ایک برقع پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار کر لیا تھا اور پھر پی ٹی وی پر ان کا اعترافی بیان نشر کیا گیا تھا۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان نے مولانا عبدالعزیز کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر کے انہیں آزاد کر دیا اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ آج پھر لال مسجد پر قابض ہیں اور حکومت ایک بار پھر ان کے سامنے سرنڈر کر گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم لال مسجد کی انتظامیہ اور حکومت کے درمیان ایک مرتبہ پھر معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد مسجد کے اطراف سے تمام رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں۔ حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان معاہدہ سپاہ صحابہ پاکستان کے شدت پسند سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کروایا ہے جو ماضی میں لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی ساتھی تھے۔ ملک اسحاق کو ریاستی اداروں نے 2015ءمیں ان کے ساتھیوں اور بیٹوں سمیت ایک مبینہ مقابلے میں ختم کر دیا تھا۔
دو ماہ پہلے مولوی عزیز نے پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین طاہر اشرفی کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرنے کے بعد اسے توڑ دیا تھا۔ اب معلوم ہوا یے کہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نےفریقین کی طرف سے بطور ضامن ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے ساتھ ایک اور معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ حکومت اور شدت پسند مولانا عبد العزیز کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق مولانا تین روز میں لال مسجد سے جامعہ حفصہ جی سیون منتقل ہوجائیں گے اور دو ماہ تک لال مسجد نہیں آسکیں گے۔ اس کے علاوہ لال مسجد کا کنٹرول مولانا عبدالرشید غازی کے بیٹے ہارون الرشید غازی اور مفتیان عظام کے پاس رہے گا جبکہ مولانا عبدالعزیز دو ماہ بعد ملک بھر میں دورے شروع کرسکیں گے۔
معاہدے کے مطابق جامعہ حفصہ کو ایچ الیون میں دئیے گئے پلاٹ کا تنازعہ دو ماہ میں حل کر لیا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق جامعہ حفصہ ایچ الیون کے پلاٹ پر دو ماہ تک کسی فریق کا قبضہ نہیں رہے گا۔ پلاٹ پر جامعہ حفصہ اور حکومت کا ایک، ایک چوکیدار ڈیوٹی دے گا۔ پلاٹ کے گیٹ پر تالہ جامعہ حفصہ کا لگے گا۔
طے پانے والے معاہدے کے بارے وفاقی انتظامیہ نے کسی قسم کا رد عمل دینے سے انکار کیا ہے تاہم مولانا عبدالرشید کے صاحبزادے ہارون رشید غازی نے حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ وفاقی انتظامیہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت لال مسجد کے اطراف سے پولیس کی اضافی نفری اور رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’مولانا عبدالعزیز پر عائد سفری پابندیاں ہتانے کیلئے حکومت نے کچھ وقت مانگا ہے۔‘
واضح رہے کہ لال مسجد تنازعہ جون 2019 سے چلا آ رہا ہے۔ جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں خون خرابہ کروانے والے مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسام 200 کے قریب خاتون طالب علموں کے ہمراہ مسجد پرقابض ہیں۔ مولانا کا مطالبہ ہے کہ انہیں لال مسجد کا خطیب اور ان کے بھتیجے اور مولانا عبدالرشید غازی کے صاحبزادے ہارون رشید کو نائب خطیب مقرر کیا جائے۔ مولانا عبدالعزیز کے ضدی رویہ کی وجہ سے صورتحال کشیدگی کا شکار رہی. رواں برس فروری کے اوائل میں حالات اس وقت دوبارہ کشیدہ ہو گئے جب مولانا عبدالعزیز نے سرکاری مسجد میں داخل ہو کر اس کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ تین روز یہ تنازعہ رہنے کے بعد حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے مابین معاہدہ طے پا گیا تھا لیکن مولانا عبدالعزیز کی طرف طے شدہ معاہدے سے انخراف کے بعد 18 فروری کو دوبارہ حالات کشیدگی کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے۔ لال مسجد کا خطیب بننے پر بضد شر پسند مولانا عبدالعزیز نے ایک طے شدہ معاہدے کو توڑتے ہوئے علمائے کرام کی سفارشات اور وزارت داخلہ کے انتباہ کو مسترد کردیا تھا اور لال مسجد کا قبضہ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ جس پر وفاقی انتظامیہ نے دوبارہ لال مسجد کے اطراف کو بند کر دیا تھا اور مسجد میں لوگوں کی آمد روک دی تھی۔ تاہم اب ایک بار پھر لال مسجد انتظامیہ کا انتظامیہ سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ شدت پسند مولانا عبدالعزیز اپنے وعدے پر قائم رہتے ہیں یا ماضی کی طرح پھر مکر جاتے ہیں۔
