ملک ریاض بمقابلہ حامد میر: ٹھیکیدار نے بالآخر سچ بول دیا

پاکستان کے نمبر ون ٹیلی ویژن اینکر حامد میر نے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کی جانب سے پاکستانی میڈیا پر اپنی ایک عزیزہ کی غنڈہ گردی کی خبر کا بلیک آؤٹ کروانے کے خلاف بغاوت کر دی اور ٹوئٹر پر یہ انکشاف کردیا کہ ان کے اپنے پروگرام سمیت "ٹھیکیدار کی عزیزہ” کے حوالے سے کیے گئے تمام ٹی وی پروگراموں کو بڑے چینلز نے اس لیے سنسر کردیا کیونکہ ملک ریاض ان کے مالکان کے بہت قریب ہیں۔ حامد میر کے اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا اور صارفین نے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین کی دھلائی کر ڈالی۔
یاد رہے کہ جب فلم ایکٹریس عظمی خان نے ملک ریاض کی عزیزہ کی جانب سے اپنے گھر پر ہونے والے حملے اور تشدد کے بارے میں لب کشائی کی تو ملک ریاض نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس واقعے میں ان کے خاندان کا کوئی فرد ملوث نہیں۔ تاہم ان کا یہ جھوٹ تب پکڑا گیا جب ان کی اپنی عزیزہ نے ایک ویڈیو پیغام میں اس واقعے کے ہونے اور ملک ریاض سے اپنی رشتے داری کی تصدیق کردی۔
اس واقعے کو سوشل میڈیا نے تو بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا لیکن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا منہ ملک ریاض نے نوٹوں اور تعلقات کی بنا پر بند کروا دیا۔ تاہم 28 مئی کو جیو ٹی وی پر اپنے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں حامد میر نے تمام پابندیوں کے باوجود ملک ریاض کی عزیزہ کی غنڈہ گردی کا معاملہ اٹھا دیا اور یہ تک کہہ دیا کہ ٹی وی پر آ کر ان پر تنقید کرنا پاکستان میں مشکل ترین کام ہے لیکن جیو کی انتظامیہ نے حامد میر کے پروگرام کا یہ حصہ سنسر کر دیا کیونکہ کیپٹل ٹاک لائیو نشر کرنے پر پابندی ہے اور اسے کچھ گھنٹے قبل ریکارڈ کرنے کے بعد نشر کیا جاتا ہے۔ جیو انتظامیہ کی جانب سے کیپٹل ٹاک کا مخصوص حصہ سنسر ہو جانے پر بطور احتجاج حامد میر نے ٹوئٹر کا سہارا لیتے ہوئے یہ انکشاف کردیا کہ اس معاملے پر ان کے سمیت بڑے بڑے ٹی وی چینلز کے پروگرام سینسر کردیے گئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک ریاض جیسے بااثر آدمی کے بارے میں سچ بولنا بھی کتنا مشکل کام ہے۔ اس سے پہلے ایک اور ٹویٹ میں حامد میر نے یہ بھی لکھا کہ جس بھی صحافی نے ملک ریاض سے پلاٹ یا پیسہ لیا ہو اس پر ایک سو مرتبہ لعنت اور اس حوالے سے ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں پر بھی ایک ہزار مرتبہ لعنت ہو۔
یاد رہے کہ ماضی میں خفیہ ایجنسیوں کے پالتو ایجنٹ اور دو نمبر صحافتی گھس بیٹھیے حامدمیر کےحوالے سے بے بنیاد الزامات لگاتے رہے ہیں۔ چنانچہ حامد میر کی یہ سخت ٹوئٹ اسی پس منظر میں تھی۔ حامد میر نے اپنی اس ٹویٹ میں مزید لکھا کہ تحریک انصاف کے وہ حمایتی جو ملک ریاض کے حوالے سے ان پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں اور گالی گلوچ کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ میں نے ہی موصوف کے خلاف 2012 میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت کے دوران میرے حوالے سے تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے تھے بلکہ میں نے تو صحافیوں کو رشوت دینے کے لیے قائم وزارت اطلاعات کا سیکریٹ فنڈ بھی بند کروا دیا تھا۔ حامد میر نے مزید لکھا کہ اگر ان کا چینل ملک ریاض کی وجہ سے ان کی آزادی پر قدغن عائد کرے گا تو وہ بھی خاموش نہیں رہیں گے۔
حامد میر کی جانب سے ان گرماگرم ٹوئٹس کی حرارت محسوس کرتے ہوئے بالآخر بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے 29 مئی کو دو وضاحتی ٹویٹس کیں اور لکھا کہ حامد میر پاکستان کے ایک انتہائی قابل احترام، معتبر اور غیر جانبدار اینکر ہیں اور لوگ ان کے اصولی موقف اور پروفیشنل سٹینڈرڈز سے آگاہ ہیں۔ حامد میر میرٹ پر صحافت کرتے ہیں اور انہوں نے ماضی میں بھی اپنے صحافی کیریئر کے دوران لینڈمارک رپورٹنگ کی ہے ۔ ملک ریاض نے مزید لکھا کہ میں تمام تر قیاس آرائیوں کو باضابطہ طور پر رد کرتے ہوئے آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے زندگی میں کبھی حامد میر کو کسی قسم کی کوئی آفر نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کبھی مجھ سے کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل کیا ہے۔
ملک ریاض کی اس ٹویٹ کے بعد حامد میر نے 29 مئی کی رات ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے آج میرے اس موقف کی تصدیق کردی ہے کہ میں نے زندگی بھر ان سے نہ تو کوئی پلاٹ لیا ہے اور نہ ہی کوئی پیسہ، لہذا آج کے بعد جو کوئی بھی یہ جھوٹا الزام لگائے وہ لعنتوں کو دعوت دے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک ریاض نے اپنی ٹویٹس میں صرف حامد میر کے حوالے سے وضاحت کی اور کسی اور صحافی یا اینکر کا ذکر نہیں کیا۔ اس حوالے سے ایک ٹوئٹر صارف نے یہ تبصرہ نما سوال داغ دیا کہ کیا ملک ریاض کی ٹویٹ کا یہ مطلب ہے کہ حامد میر پاکستان کے واحد صحافی ہیں جنہوں نے کبھی ان سے کوئی فیور نہیں لی۔ اس ٹویٹ کے جواب میں حامد میر نے لکھا کہ اس سوال کا جواب تو ملک ریاض ہی دے سکتے ہیں لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ ملک صاحب ابھی تک بھولے نہیں ہوں گے کہ ان کے خلاف 2012 میں بھی سپریم کورٹ میں درخواست میں نے ہی دائر کی تھی اور آئندہ بھی ان کے خلاف عدالتی کارروائی میں ہی کر سکتا ہوں۔ شاید اسی لیے انہوں نے وضاحتی ٹوئیٹس بھی صرف میرے حوالے سے کی ہیں۔
