ملک ریاض نیب کے نوٹس کو ردی کا ٹکڑا کیوں سمجھتے ہیں؟

ساٹھ ارب روپے کی کرپشن کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے شریک ملزم پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے نیب میں طلبی کے دوسرے نوٹس کو بھی ردی کا ٹکڑا سمجھ لیا . پوچھ گچھ لئے نیب میں 23 جون کو پیش ہونے کے دوسرے نوٹس کو بھی ملک ریاض نے نظر انداز کر دیا اور قومی احتساب بیورو کے سامنے پیش نہ ہوۓ. انگریزی اخبار ڈان نے نیب ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ ادارے پر شدید دباؤ تھا کہ القادر ٹرسٹ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو تو نیب میں طلب کر لیا جاۓ مگر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو نہ بلایا جاۓ . معلوم ہوا ہے کہ دباؤ کے باوجود ملک ریاض کو القادر ٹرسٹ ریفرنس میں پوچھ گچھ کے لیے جمعہ کے روز نیب دفتر پیش ہونے کے لئے دوسرا کال اپ نوٹس جاری کیا گیا تھا مگر ملک ریاض نے ایک مرتبہ پھر قونی احتساب بیورو کے ایسے کسی نوٹس کو اہمیت نہ دی اور پیش نہ ہوۓ . واضح رہے کہ نیب قوانین کے مطابق اگر کوئی تین طلبی کے نوٹسز کو نظر انداز کرتا ہے اور تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوتا تو نیب کسی بھی ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے۔ تاہم اس بات کا بھی امکان ہے کہ ملک ریاض نے نیب کے نوٹسز کا تحریری جواب بھیجا ہو اور ذاتی طور پر پیش ہونے سے گریز کیا ہو۔ پراپرٹی ٹائیکون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہائی پروفائل القادر ٹرسٹ کیس کے اہم ملزمان میں سے ایک ہیں، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ پر پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران بحریہ ٹاؤن سے اربوں روپے اور سیکڑوں کنال کی ڈیل حاصل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ گزشتہ مہینے نیب نے عمران خان کو اسی کیس میں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی حامیوں نے مظاہرے کیے تھے، انہوں نے سرکاری اور نجی املاک بشمول عسکری تنصیبات کو جلادیا تھا۔ اس کیس میں قومی احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم کے ساتھی اعظم خان کو بھی 2 طلبی کے نوٹس بھیجے تھے لیکن وہ جون 9 جون اور 19 جون کو نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ یاد رہے کہ 190 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کا سراغ لگانا برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی سب سے بڑی کارروائی تھی جبکہ اتنی بڑی رقم کی منی لانڈرنگ کی ریکوری پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی پاکستان سے لوٹی گئی اس رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانا چاہئے تھا نہ کہ کسی کے ذاتی اکائونٹ میں۔‘ 2018 میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے منی لانڈرنگ تحقیقات کے نتیجے میں پاکستان کے ایک نامور پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے برطانیہ میں مختلف اکائونٹس میں 190 ملین پائونڈز کی رقم کا سراغ لگایا جو مبینہ طور پر پاکستان سے غیر قانونی طور پر برطانیہ منتقل کی گئی تھی اور یہ رقم NCA کے مطابق اُسی ملک کو واپس کی جاتی ہے جہاں سے لوٹی گئی ہو۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں منگوایا جاتا مگر یہ رقم سپریم کورٹ کے اُس اکائونٹ میں جمع کرادی گئی جہاں سپریم کورٹ نے پراپرٹی ٹائیکون کو زمینوں کی خریداری میں ہیرا پھیری پر 460 ارب روپے سے زائد کا جرمانہ جمع کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس فراڈ پر پردہ ڈالنے کیلئے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے 3 دسمبر 2019 کو کابینہ اجلاس میں ایک بند لفافہ لہراتے ہوئے یہ کہہ کر منظوری حاصل کی کہ ’’اس لفافے کو کھولنا اور اس پر بحث کرنا ملکی مفاد میں نہیں۔‘‘ اس طرح 190 ملین پائونڈز کی یہ رقم قومی خزانے میں جانے کے بجائے اُسی پراپرٹی ٹائیکون کے اکائونٹ میں منتقل ہوگئی ،جس نے یہ رقم ملک سے لوٹی تھی۔ بعد ازاں یہ انکشاف سامنے آیا کہ پراپرٹی ٹائیکون نے اس سہولت کےعوض 60 ایکڑ زمین، جس کی مالیت اس وقت ساٹھ ارب روپے بنتی تھی، پہلے عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کے نام ٹرانسفر کی اور بعد ازاں القادر ٹرسٹ ،جس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور بشریٰ بی بی شامل ہیں، کے قیام کے بعد اس قیمتی زمین کو زلفی بخاری سے لے کر ٹرسٹ کے نام پر ٹرانسفر کرالیا گیا.اطلاعات کے مطابق اس پورے معاملے میں عمران خان حکومت کے مشیر احتساب شہزاد اکبر بھی ملوث تھے جنہوں نے سہولت کاری کے عوض پراپرٹی ٹائیکون سے 2 ارب روپے بٹورے جبکہ اس بہتی گنگا سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید بھی مستفید ہوئے جنہوں نے سہولت کاری کے عوض 4 ارب روپے ہتھیائے جس کا انکشاف گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کیا۔ نیب کے پاس اس تمام غیر قانونی کام کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جس کی بنیاد پر نیب نے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور برطانیہ سے 190 ملین پائونڈ فراڈ کے کیس کی انکوائری شروع کی اور عمران خان، بشریٰ بی بی، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کردیا مگر کئی مرتبہ طلبی کے نوٹس کے باوجودملک ریاض نیب میں پیش نہ ہوئیں۔
