منشیات کے خلاف 300 کلومیٹر پیدل مارچ

بلوچستان کے شہر خضدار سے آٹھ نوجوان منشیات کے پھیلاؤکے خلاف تین سو کلو میٹر پیدل لانگ مارچ کرتے ہوئے کوئٹہ کی حدود میں داخل ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق لانگ مارچ کی قیادت لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگری کلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز وڈھ کیمپس کے طالب علم سجاد بلوچ کر رہے ہیں جبکہ خضدار سے تعلق رکھنے والے کالج اور یونیورسٹیوں کے چھ دیگر طالبعلم اور ایک مزدور بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
6 فروری کو خضدار سے نکلنے والے لانگ مارچ کے شرکاء جمعرات کو مستونگ پہنچے جہاں سے وہ کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے اور جمعے کو کوئٹہ کی حدود میں داخل ہوئے جبکہ کوئٹہ پریس کلب پہنچ کر شرکا کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 70 لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد ہونے کی وجہ سے بلوچستان منشیات سمگلروں کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔افغانستان میں پیدا ہونے والی منشیات کا ایک بڑا حصہ بلوچستان کے زمینی اور سمندری راستے سے سمگل کیا جاتا ہے۔ گزرگاہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں منشیات ہر علاقے میں آسانی سے ملتی ہیں جس کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد منشیات کی لت میں مبتلا ہے۔
لانگ مارچ کی قیادت کرنیوالے سجاد بلوچ نے بتایا کہ ہم اس لیے منشیات کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں کہ یہ ناسور پورے معاشرے میں پھیلا ہوا ہے اور ملک و قوم کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ان کے مطابق ہمارے نوجوان اور طالب علم اس لت میں مبتلا ہو رہے ہیں، انہیں ہر قسم کی منشیات آسانی سے مل رہی ہیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے اور آسانی سے دستیابی کی وجہ سے منشیات کے متاثرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔سجاد بلوچ کے مطابق لانگ مارچ کا مقصد لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔ ہم جہاں جہاں سے گزر رہے ہیں لوگ ہمارا استقبال کر رہے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ تین سو کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا کتنا مشکل ہے؟ سجاد بلوچ نے بتایا ظاہر سی بات ہے کہ آپ تین سو کلومیٹر سے زائد کا پیدل سفر کر رہے ہیں تو مشکلات ہوں گی۔ان کے بقول کہیں تھکاوٹ ہوتی ہے، کہیں پر سونے تو کہیں پر کھانے کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاﺅں میں چھالے پڑ چکے ہیں، کچھ دوستوں کے پاﺅں زخمی ہوئے۔ مگر جس طرح عام لوگوں، سماجی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہماری حوصلہ افزائی ہورہی ہے تو ہمارے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سڑک حادثات اور کینسر کی بیماری جیسے بڑے مسائل کی وجہ بھی منشیات ہی ہیں۔ اگر سڑک حادثات کی تحقیقات کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر ڈرائیورز نشے کی حالت میں گاڑیاں چلاتے ہیں۔ان کے بقول اسی طرح کینسرکے 35 سے 40 فیصد کیسز منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ منہ اور خوراک کی نالی کے کینسر کی وجہ پان، چھالیہ، نسوار اور دیگر منشیات کا استعمال ہے۔
سجاد بلوچ کے ہمراہ لانگ مارچ میں شامل ایک مزدور حیات بلوچ نے بتایا کہ وہ روزانہ اجرت پر کا م کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں مگر وہ دس دن کے لیے کام چھوڑ کر اس لانگ مارچ میں اس لیے شریک ہوئے ہیں کہ منشیات ہماری نسل کو تباہ کررہی ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو بچانے کے لیے نکلے ہیں۔

