چین میں محصور پاکستانی طلبہ پانی کو بھی ترس گئے

چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث حصول تعلیم کےلیے وہاں مقیم پاکستانی طلبہ کی مشکلات روز بروز بڑھتی جارہی ہیں، شہر کے مسلسل سیل ہونے اور نقل و حرکت انتہائی محدود نے کی وجہ سے اشیائے خوردونوش اور دیگر ذاتی ضروریات کا سامان بھی ناپید ہوگیا ہے۔ اس ابتر صورت حال میں طلبہ اور ان کے گھر والے شدید پریشان ہیں۔
وزارت قومی صحت کے ترجمان کے مطابق ’حکومت پاکستان کو صورت حال کا مکمل ادراک اور چینی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔ کھانے پینے اور ادویات کی کمی سے لے کر تمام امور پر دن میں متعدد بات رابطے اور بات چیت ہوتی ہے۔‘
لاہور سے تعلق رکھنے والی طالبہ اقرا منیر کا کہنا ہے کہ ’پہلے ہم مارکیٹ جا کر اپنے لیے خود خریداری کر سکتے تھے۔ اب کمرے سے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہے۔ پانی ختم ہو چکا ہے۔ بار بار درخواست کرنے پر بتایا جاتا ہے کہ باہر اتنا زیادہ وائرس ہے کہ پانی کی ڈیلیوری ممکن نہیں ہو پا رہی۔‘
اقرا منیر نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’میں ایک خاتون ہوں اور ہمیں کھانے کے علاوہ بھی زندگی گزارنے کےلیے چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ صابن، ہینڈ واش اور ماسک کی بھی قلت ہو رہی ہے۔ ذاتی استعمال کی چیزیں ختم ہوگئی ہیں اور وہ آن لائن بھی دستیاب نہیں۔‘
ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے ووہان یونیورسٹی کے طالب علم حسیب الرحمٰن نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے لیے صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ مریضوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ اب ہماری یونیورسٹی کے بلاکس میں بھی مریضوں کو لا کر رکھا جا رہا ہے جس سے ہمارے لیے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی وردا خالد محمود کا کہنا ہے ’تین دن سے آٹا نہیں تھا۔ بھوکے پیاسے تھے۔ ہم نے آج احتجاج کیا تو آٹا مہیا کیا گیا۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمیں مزید 14 دن محصور رکھا جائے گا۔ اس دوران وائرس پیک پر ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایک مہینے سے اپنے ہاسٹل کے کمروں کی دیواروں کو دیکھ دیکھ کر ہم میں سے آدھے ہمت ہار چکے ہیں۔‘
ایک اور طالبہ ردا ثاقب نے کہا کہ ’میڈیا پر چلنے والی خبروں کا بھی شاید اس لیے اثر نہیں ہوتا کہ میڈیا بھی صرف ریٹنگ کے لیے ہی سب کچھ کر رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں تین دن سے اپنی ماں کو تسلیاں دے دے کر تھک گئی ہوں اور سچی بات یہ ہے کہ مجھے شدید بھوک لگی ہے اور میرے پاس مرچ کے علاوہ کھانے کو کچھ نہیں ہے۔‘
سندھ سے تعلق رکھنے والے طالب علم یاسین بھٹو کی ہمشیرہ شمائلہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ’میرا بھائی فیملی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی ڈیڑھ سال کی بیٹی ہے۔ ان کے ہان راشن اختتام کے قریب ہے۔ وائرس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اگر ایسا ہی رہا تو ان کی زندگی تو اجیرن ہو جائے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں تو یہ سوچ کر ہی پریشانی ہوتی ہے اوپر سے بیماری کا خوف الگ ہے۔ ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو لے آئیں اور یہاں کسی محفوظ جگہ پر ان کو رکھ لیں کم از کم موت کے منہ سے تو نکالیں جیسے باقی ملکوں نے کیا ہے۔‘
