منہ کی صفائی صحت مند زندگی کیلئے کیوں ضروری ہے؟

ہم ہمیشہ صحت مند زندگی کے لیے اچھی غذا اور ورزش کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ نیند کے اوقات کو بھی مانیٹر کرتے ہیں لیکن اس سب کے درمیان ہم اپنے منہ کی صفائی کو بھول جاتے ہیں اگر منہ کی صفائی نہ ہو تو ورزش، صحت مند کھانہ بھی ہمیں بیماریوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔طبی سائنسدان گلینڈا ڈویژن نے اسی اہم موضوع پر تحقیق میں بتایا ہے کہ منہ کی صفائی حفظان صحت کے لیے بہت ضروری ہے، منہ کی صفائی (اورل ہائیجین) میں اگر حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر نہ رکھا جائے تو اس سے غیر معمولی بیکٹیریل کمیونٹیز پنپنے لگتی ہیں جس سے جگر کی بیماری، گردے کی خرابی، کینسر، دل کی بیماری اور ہائی بلڈ پریشر تک ہو سکتا ہے۔منہ کو معدے اور باقی جسم کی بیماریوں کا ’دروازہ‘ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ہماری آنتوں کی طرح ہمارا منہ بیکٹیریا، پھپوندی، وائرس اور پروٹوزوا کی کئی متنوع کالونیوں کا گھر ہے، منہ میں پلنے والے جراثیموں (مائیکرو آرگینیزم ) کی 700 سے زیادہ اقسام ہیں۔منہ کے اندر پائے جانے والے یہ جرثومے ہمارے دانتوں، مسوڑھوں، زبان، تالو اور تھوک سمیت پورے منہ میں پائے جاتے ہیں اور عام طور پر ان کا ہمارا ساتھ زندگی بھر کا ہوتا ہے تاہم اگر ان میں توازن بگڑ جائے تو صحت کے لیے نقصان دہ بیکٹیریا غالب ہو سکتے ہیں، منہ کے اندر پی ایچ (تیزابیت یا الکلائنٹی) کا تناسب، درجہ حرارت اور آکسیجن میں تبدیلیاں بیکٹیریا کے گروپوں کی غیر معمولی نشوونما کا سبب بنتی ہیں، منہ کے اندر پائے جانے والے بیکٹیریا کی ترتیب میں خلل آنے سے منہ کے اندر سوزش اور مسوڑھوں کی بیماریوں، ان سے خون کا اخراج اور دانتوں کے سڑنے کا سبب بنتا ہے۔اس کے نتیجے میں ٹائپ ٹو ذیابیطس، خون کی شریانوں کا سخت ہو جانا اور موٹاپے سمیت بہت سی دیگر بیماریوں کی نشوونما کے ساتھ دائمی مگر کم درجے کی سوزش تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انسانی جسم میں 39 کھرب جرثومے (مائیکروبس) موجود ہیں جو ایک اندازے کے مطابق 30 کھرب انسانی سیلز سے بھی ذیادہ ہیں اور یہ انسانی جسم کے تقریباً ہر عضو اور شگاف میں رہتے ہیں یہ جرثومے ہماری آنت، جلد، پھیپھڑوں، مرد وخواتین کے جنسی اعضا کی رطوبتیں، آنکھوں، کھوپڑی اور منہ میں جاتے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر جرثومے پیدائش کے وقت ہمیں ہماری ماؤں سے مل جاتے ہیں اور دنیا میں آنے کے ساتھ ہی ہمارے اندر منتقل ہو جاتے ہیں، بچہ دانی جراثیم سے پاک ہوتی ہے لیکن جیسے ہی بچہ ماں کے پیٹ سے نکل کر باہر کی دنیا میں آتا ہے، منہ کی اچھی صحت ( اورل ہیلتھ) میں دانتوں کا باقاعدگی سے معائنہ، دانتوں کو پابندی سے برش کرنا، کاربوہائیڈریٹس اور شوگر والی والی غذاؤں سے پرہیز کرنا شامل ہے، منہ میں بیکٹیریا کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ سفارش بھی کی جاتی ہے کہ تازہ پھل اور سبزیوں پر مشتمل اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذاؤں کو خوراک میں شامل کیا جائے۔ورزش کی کمی اور بڑھتے تناؤ (سٹریس) کی کیفیت بھی منہ میں موجود بیکٹیریا کے توازن میں رکاوٹ کا سبب بن جاتے ہیں لہٰذا مناسب آرام کے ساتھ ایک متوازن غذا اور حفظان صحت کے اصولوں کے ساتھ منہ کی اچھی صفائی کی سفارش کی جاتی ہے، منہ آنت اور باقی جسم کا گیٹ وے ہے۔ بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے وہاں رہنے والے جرثوموں کی ہم آہنگی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

Back to top button