مواخذے کی زد میں آنیوالے تیسرے امریکی صدر کا مواخذہ شروع

امریکہ کی تاریخ میں مواخذے کی زد میں آنے والے تیسرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی شروع ہو گئی اور سینیٹ اراکین سے حلف لے لیا گیا۔ اس سے پہلے صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
امریکی صدرٹرمپ کے مواخذےکے آغاز میں سینیٹ میں قانون سازوں سے حلف لیا گیا کہ وہ امریکا کے 45ویں صدر کو عہدے پر رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے فیصلہ غیر جانبداری سے کریں گے۔امریکی تاریخ میں یہ تیسرا موقع ہے جب سینیٹ چیمبر کو مواخذے کی عدالت میں تبدیل کردیا گیا جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے کی اور اراکین سینیٹ سے حلف لیا۔اس دوران جان رابرٹس نے سینیٹرز سے پوچھا کہ کیا وہ امریکی آئین کے مطابق غیر جانبدارانہ انصاف کریں گے تو حاضر 99 اراکین نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کر کے جواب دیا کہ ’ہم کریں گے‘۔
قبل ازیں سینیٹ فلور پر وہ 2 آرٹیکلز پڑھ کر سنائے گئے جس کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جارہی ہے وہ دو الزامات جو اختیارات کا ناجائز استعمال اور کانگریس کی راہ میں رکاوٹ بننا تھے۔ ایوان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شِف ٹرائل میں مرکزی پراسیکوٹر کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سنگین جرائم اور بداعمالیوں کے الزامات پڑھے۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر الزامات ہیں کہ انہوں نے یوکرین کی فوجی امداد روکنے اور وائٹ ہاؤس میں ملک کے صدر سے ہونے والی ملاقات کے بدلے ممکنہ انتخابی حریف جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے اختیارات کا غلط استعمال کیا ۔اس حوالے سے غیر جانبدار حکومتی احتساب کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کانگریس کی منظور کردہ امداد روک کر وائٹ ہاؤس نے وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی ہےجبکہ امریکی صدر پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے کانگریس کے سمن کے باوجود ایوان میں مواخذے کے تفتیش کاروں کو گواہان اور دستاویزات فراہم نہیں کیں ۔
دوسری جانب امریکی صدر کئی ماہ سے مواخذے کی کارروائی کا مذاق اڑاتے آئے ہیں اور انہوں نے ٹرائل کے آغاز کو ایک اور چکما قرار دیا۔ امریکی صدر کے مطابق یہ سب بہت تیزی سے ہونا چاہیے، یہ مکمل طور پر جانبدار ہے، مجھے دھوکا دہی کا سامنا ہے یہ چکما ہے جو ڈیموکریٹس نے دیا تا کہ وہ کوشش کر کے انتخابات جیت لیں۔
واضح رہے کہ ڈیموکریٹس اراکین کی اکثریت پر مشتمل امریکی ایوانِ نمائندگان نے 18 دسمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ووٹ کیا۔تاہم ریپبلکن اراکین کی اکثریت پر مشتمل سینیٹ سے امریکی صدر کی بریت کا امکان ہے کیوںکہ صدر کو مجرم ٹھہرا کر عہدے سے ہٹانے کے لیے 2 تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کے لیے حلف اٹھانے کے بعد اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔
