کیا صدر پوٹن تاحیات ملکی قائد بننے جارہے ہیں؟

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کےلیے آئین میں ترامیم کی تجویز کے بعد ملک کے وزیراعظم دمیتری میدویدیف (Dmitry Medvedev)اور ان کی کابینہ نے استعفیٰ دے دیا ہے جو صدر نے منظور کرلیا جبکہ صدر پیوٹن نے فیڈرل ٹیکس سروس کے سربراہ میخائیل مِشُوسٹِن (Mikhail Mishustin)کو اگلا وزیراعظم بنانے کی تجویز دی، جسے روسی پارلیمان نے منظور کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے آئین میں اصلاحات کی تجویز کے بعد روسی حکومت نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ یہ اعلان صدر پیوٹن کے اتحادی دمیتری میدویدیف نے اس وقت کیا جب صدر نے قوم سے اپنے سالانہ خطاب میں ملک بھر میں آئینی اصلاحات کے پیکج پر ووٹنگ کا کہا تھا ۔
خطاب کے چند گھنٹوں بعد میدویدیف اور پیوٹن سرکاری ٹی وی پر ایک ساتھ آئے اور اعلان کیا کہ حکومت مستعفی ہورہی ہے، سابق وزیراعظم میدویدیف نے کہا کہ آئینی تجاویز سے ملک میں طاقت کے توازن میں اہم تبدیلیاں آئیں گی، اور اس لیے حکومت موجودہ حال میں مستعفی ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے صدر کو موقع دینا چاہیے تاکہ وہ تبدیلی کےلیے تمام ممکنہ اقدامات لے سکیں تمام دیگر فیصلے صدر خود ہی کریں گے۔ جن مجوزہ اصلاحات کا اعلان صدر پیوٹن نے بدھ کو کیا ان کے تحت پارلیمان مزید مضبوط ہوگی، وزیراعظم اور سینئر کابینہ ممبران کا انتخاب بھی صدر کی جگہ پارلیمان ہی کرسکے گی۔
خیال رہے کہ موجودہ نظام کے تحت وزیراعظم اور کابینہ کے ممبران کا انتخاب صدر کرتا ہے۔
صدر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہمارا معاشرہ تبدیلی مانگ رہا ہے۔ لوگ ترقی چاہتے ہیں، وہ اپنے کیریئر، تعلیم میں آگے بڑھنے کےلیے کوشش کررہے ہیں تاکہ کامیاب ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی پیکج پر ووٹ ہوگا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ووٹ کب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف تب ہی مضبوط اور کامیاب روس بناسکتے ہیں جب ہم عوامی رائے کی عزت کریں۔
ایک روسی اخبار نے اپنے ایک مضمون میں اس پیش رفت کو ‘انقلابِ جنوری‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ صدر ولادی میر پیوٹن تاحیات ملکی قائد بننے جارہے ہیں۔
بعد ازاں صدر پیوٹن نے وزیراعظم کے عہدے کےلیے میخائل مِشُوسٹِن کا نام پیش کیا تھا، جسے روسی پارلیمان نے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔ 53 سالہ مِشُوسٹِن کو پارلیمان کے 424 اراکین میں سے 383 کی حمایت حاصل رہی جبکہ ان کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔ اس انتخاب میں 41 اراکین نے اپنے ووٹ کا حق محفوظ رکھا۔
پارلیمان کی جانب سے منظوری کے بعد صدر پیوٹن نے بھی مِشُوسٹِن کے بطور وزیراعظم عہدہ سنبھالنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ مِشُوسٹِن نے جلد ہی اپنی کابینہ کے ناموں کا اعلان کرنے کا کہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مِشُوسٹِن کا روسی ٹیکس سروس کی سربراہی اور صدر پیوٹن کے ساتھ آئس ہاکی کھیلنے کے علاوہ ملک میں کوئی اور سیاسی تعارف نہیں ہے۔
سیاسی اصلاحات کے ذریعے 67 سالہ ولادی میر پیوٹن، جو موجودہ دستور کے مطابق 2024 تک صدر کے عہدے پر فائز رہ سکتے تھے، کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ مزید اقتدار میں رہ سکیں۔ سابق وزیراعظم میدویدیف حکومت کے اچانک خاتمے کے ذریعے پیوٹن نے عوام کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے پینشن کی عمر میں اضافے اور بچتی اقدامات کے مطالبات کو سمجھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم میدویدیف سن 2012 سے روسی حکومت کے سربراہ تھے، تاہم مغربی ممالک کی پابندیوں کے تناظر میں روس مالیاتی بحران، مختلف شعبوں میں کٹوتی اور دیگر غیر معروف فیصلوں کی وجہ سے عوامی غصے کا سامنا کر رہا ہے۔ روس میں گزشتہ پانچ برسوں میں تنخواہوں میں کمی کے تناظر میں حکومتی مقبولیت میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ صدر پیوٹن بھی ماضی کے مقابلے میں اب کم مقبول ہیں۔
مبصرین کا کہنا تھا کہ اگر مقبولیت میں گراوٹ کا یہ سلسلہ جاری رہا، تو آئندہ آنے والی روسی پارلیمان صدر پیوٹن کےلیے کم دوستانہ روئیے کی مظہر ہو سکتی ہے۔ نئی سیاسی اصلاحات کے مطابق ایک ریفرنڈم کے ذریعے صدر پیوٹن مستقبل میں یا تو بطور وزیراعظم زیادہ اختیارات کے ساتھ حکومت کریں گے یا پھر ریاستی کونسل کے سربراہ کا ایک نیا اور بااختیار عہدہ حاصل کرلیں گے۔ صدر پیوٹن ماضی میں کئی بار ریاستی کونسل کے قیام کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔
خیال رہے کہ پیوٹن تقریباً 2 عشروں سے روس میں برسر اقتدار ہیں پہلی بار وہ 1999 میں قائمقام صدر بنے تھے جس کے بعد سن 2000 اور 2004 کے الیکشن میں صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔
2008 سے 2012 تک وہ روس کے وزیراعظم رہے اس دوران صدارت کی ذمہ داریاں دمیتری میدیدوف نے انجام دیں، جس کے بعد 2012 اور 2018 میں بھی پیوٹن روس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس دوران 2008 میں صدارت کے عہدے کی میعاد 4 سے بڑھا کر 6 سال کردی گئی تھی۔
یاد رہے کہ ولادی میر پیوٹن جوزف اسٹالِن کے بعد روس یا سوویت یونین کا بطور سربراہ سب سے زیادہ عرصہ ہے۔ ملک کے موجودہ قانون کے مطابق صدارت کی یہ مدت پوری ہونے کے بعد انہیں عہدہ چھوڑنا ہوگا کیوں کہ قانون کے مطابق کوئی بھی شخص مسلسل دو مدت تک ملک کا صدر رہ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button