رانا ثناء اللہ نے ڈی جی اے این ایف کے بیان پر اپنا جوابی رد عمل دےدیا

ن لیگ کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کا کہناتھا کہ ڈی جی اے این ایف اس عدالت جانے کا کہہ رہے ہیں جس کا جج ان کی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے اور اگر کام نہ کرے تو اس کا واٹس ایپ پر تبادلہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این ایف کے جج ارشد منظور کے سامنے میری ضمانت کی درخواست زیر سماعت تھی، جب عدالت مجھے ضمانت دینے کی خواہاں ہے تو عدالت سے ایک گھنٹے کا وقت لیا گیا، 35 منٹ میں جج کو واپس بھیج دیا گیا۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے کیس میں آزاد یا پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے، اسپیکر میرے کیس میں کمیشن یا کمیٹی کے قیام کے حامی ہیں مگر ان کی بھی کچھ مجبوریاں ہیں، اسپیکر 6 ماہ میں میرے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرسکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی جی انسداد منشیات فورس (اے این ایف) میجر جنرل عارف ملک کا کہنا تھا رانا ثناءاللہ کا معاملہ عدالت میں ہے اس لیے وہ ثبوت بھی عدالت میں دیں۔ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عارف ملک نے کہا کہ کیا کوئی گرفتار ہونے والا شخص کہتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں، سر عام قتل کرنے والا بھی خود کو بے گناہ کہتا ہے۔
یاد رہے کہ انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔ رانا ثناء اللہ نے عدالت سے رجوع کیا اور پھر 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر اپنی بے گناہی ثابت کی تھی اور ساتھ ہی اپنے خلاف کیس بنانے والوں کو بدعائیں بھی دی تھیں۔
گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران رانا ثناء اللہ اور وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کے درمیان قرآن پاک پر حلف اٹھانے کے معاملے پر گرما گرمی ہوئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button