مولانا فضل الرحمن عمران خان سے مذاکرات سے انکاری کیوں؟

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے مولانا فضل الرحمٰن کو منانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔پی ڈی ایم کے صدر اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے نہ صرف چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سماعت کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ عمران خان کے ساتھ مذاکرات سے بھی صاف انکار کر دیاہے۔
ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کے وفد نے چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں مولانا سے ڈیرہ اسماعیل کے قریب ان کے آبائی گھر میں ملاقات کی لیکن یہ وفد مولانا کو پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات پر راضی نہ کر سکا۔ انہوں نے مہمانوں کو بتایا کہ ان کی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی سے فاصلہ اختیار کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول نے ڈیرہ اسماعیل سے واپسی پر وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی اور انہیں مولانا کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے مبینہ طور پر بلاول بھٹو سے کہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی رائے کا احترام کرتے ہیں کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت کے حوالے سے مولانا کی رائے غلط نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے صدر کی حیثیت سے ہم مولانا کی رائے کا احترام کرتے ہیں، اور عید کی چھٹیوں کے بعد آئندہ ہفتے ان کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل میں ملاقات کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے بلاول نے مولانا کو آصف زرداری کا پیغام بھی پہنچایا۔ مولانا نے آئندہ ہفتے اسلام آباد میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد حکمران اتحاد کی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوگا جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے صدر نے آنے والے مہمانوں کو بتایا کہ عمران خان ناقابل بھروسہ انسان ہیں اور وہ سیاسی شخصیت نہیں ہیں، اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ جو وعدہ وہ کریں گے وہ اس پر یو ٹرن نہیں لیں گے۔ تاہم دوسری طرف بلاول بھٹو کی رائے تھی کہ سیاست میں مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے ۔ اس پر مولانا کا کہنا تھا کہ عمران سیاسی شخصیت نہیں، وہ غیر ملکی قوتوں کے ایجنٹ ہیں اور یہودیوں کے پٹھو ہیں، آپ کے اصرار پر میں اپنی جماعت سے ایک مرتبہ مشورہ کروں گا اور اس کے بعد حتمی جواب دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی عمران خان کے ساتھ مذاکرات میں مثبت جواب کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔
پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو کو دوران ملاقات کہاکہ جو جماعتیں عمران کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہیں جاکر کریں، میں نہیں کروں گا۔ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ عمران خان قابل اعتماد آدمی نہیں ہیں،میری جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ملاقات میں بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں،ملک میں موجود سیاسی اور معاشی بحرانوں کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاپیپلز پارٹی نے تین رکنی کمیٹی تمام اتحادی جماعتوں کے پاس بھیجی،تمام اتحادی جماعتوں نے مذاکرات کو ہی مسائل کا واحد حل قرار دیا ہے،تمام اتحادی جماعتوں نے مذاکرات کے لئے مثبت جواب دیا ہے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن سےگفتگومیں بلاول بھٹونے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے معاملے پر تمام اتحادی جماعتوں کا ایک ہی مشترکہ موقف ہو،سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں لیکن یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ جن سے مذاکرات ہوں وہ خود کتنے سنجیدہ ہیں؟مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ماضی میں بھی سیاسی جماعتیں متعدد بار مذاکرات کی کوشش کر چکی ،ماضی میں پی ٹی آئی کےساتھ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟پی ڈی ایم سربراہ نے کہا ہم توعمران خان کو پاکستان کی سیاست کا غیر ضروری عنصر سمجھتے ہیں۔میں مفتی محمود ہوں نہ ہی آپ ذولفقار علی بھٹو، تاہم مولانا فضل الرحمن نے دوران ملاقات پارٹی سے بھی مشورہ کرکے حتمی فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ بالغ النظری کا مظاہرہ کریں، عجیب بات ہے کہ عمران خان کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ ڈائیلاگ جیسے اچھے لفظ کے پیچھے کیا تباہی چھپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ماضی میں عمران خان کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ سب سچ ثابت ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا لیکن سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے بھی یا نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سیاسی جماعتوں نے عدالتی فیصلوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا ہے؟ ہم سیاسی مارشل لاز کی باقیات سے نفرت کرتے ہیں۔ اس لئے عمران سے قطعا مذاکرات کیلئے تیار نہیں۔
