کیا مذاکرات کے ذریعے سیاسی کشیدگی میں کمی ممکن ہے؟

ملک میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کے حوالے سے متعدد سیاسی جماعتوں کی جانب سے مثبت بیانات بھی سامنے آئے ہیں تاہم یہ سوالات اب بھی زیر بحث ہیں کہ حکومتی اتحادی جماعتیں عمران خان پر اعتبار کرنے پر کیسے آمادہ ہونگی؟ سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا اور یہ مذاکرات کس حد تک سودمند ثابت ہو سکیں گے؟
پنجاب میں انتخابات کے معاملے پر ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے تو دوسری جانب اس فیصلے کو حکومت قومی اسمبلی سے قراردادوں کے ذریعے مسترد کراتی چلی آرہی ہے۔یہاں تک کہ رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو میں یہاں تک کہہ دیا کہ کچھ بھی ہو جائے پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو نہیں ہوں گے۔ اس تمام صورت حال کے بعد اب ملک میں دن بہ دن سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ملک میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اب سیاسی جماعتیں بھی متحرک ہو گئی ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر متفق نظر آ رہی ہیں۔ایک طرف حکومتی اتحادی جماعتوں کی آپس میں ملاقاتیں جاری ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی متحرک ہو گئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف نے بھی مذاکرات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی آئندہ ماہ آل پارٹیز کانفرنس بلا رکھی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، نوید قمر اور قمرالزمان کائرہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات سے قبل حکومتی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اسی سلسلے میں پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن، جے یو آئی، شاہ زین بگٹی، محسن داوڑ، بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل سے ملاقاتیں کر چکی ہے۔
ایسے میں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ صورت حال میں کیا سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے؟ پی پی پی کی اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے اقدام پر اتحادی جماعتوں میں کیا اختلافات ہیں؟ اور یہ کہ موجودہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر، کیا جماعتیں خاص طور پر پی پی پی سب کو ایک پیج پر لانے کے لیے قائل کرنے میں کامیاب ہو گی؟
مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف کے مطابق سیاست میں مذاکرات کی خواہش کرنا بہت صحت مند بات ہے اور ساری باتیں مذاکرات سے ہی ہوتی ہیں، لیکن مذاکرات کا ایجنڈا اور مقاصد کو پہلے سے حتمی شکل دی جانی چاہیے۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وہ ’ان مذاکرات کے حامی نہیں ہیں تاہم یہ ان کی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ ذاتی رائے ہے۔‘
سینیئر صحافی حامد میر نے کا سیاسی جماعتوں کے باہمی مذاکرات بارے کہنا ہے کہ ’مذاکرات سے راستہ نکلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ پی پی پی مذاکرات کا اس لیے اصرار کر رہی ہے کیوں کہ الیکشن ہونے کی صورت میں انہیں پتہ ہو گا کہ ایک صوبے میں ان ہی کی جماعت کی دوبارہ حکومت میں ہو گی، یہی وجہ ہے کہ انہیں عدم تحفظ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی بھی بار بار الیکشن کروانے کا اس لیے کہہ رہی ہے کیوں کہ انہیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اکثریت سے جیتنے کا اندازہ ہے۔‘حامد میر نے کہا کہ ’اس لیے جو عدم تحفظ کا شکار نہیں ہے وہ الیکشن اور مذاکرات کا کہہ رہا ہے اور مہنگائی میں اضافے کے ذمہ داران کو پتہ ہے کہ ووٹرز ان سے بدلہ لیں گے، اسی لیے وہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔’مسلم لیگ ن اکتوبر، پی ٹی آئی 14 مئی جبکہ باقی جماعتیں درمیان کی تاریخوں پر بات کہہ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بیچ کی تاریخوں میں الیکشن ہو بھی جائیں تو کیا تب بھی مسلم ن انتخابات جیتے گی؟‘
صحافی عاصمہ شیرازی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’حکمران اتحاد کے درمیان کافی زیادہ اختلافات ہیں۔ یاد رہے کہ یہ اتحاد ایک دو جماعتوں کا نہیں 10 جماعتوں کا ہے۔ عمران خان کے ساتھ مذاکرات کے طریقہ کار کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے شدید تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔‘پی پی پی اور اے این پی بات کرنا چاہتی ہے کیوں کہ یہ دونوں جماعتیں سمجھتی ہیں کہ انتخابات پر ڈیڈ لاک برقرار رہنے کی صورت میں سیاسی ویکیوم کا کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔‘ان کے مطابق سپریم کورٹ کی چار اپریل کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی ’مذاکرات کی راہ نکالیں ورنہ پھر ہم کروائیں گے‘ کے ریمارکس کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعتیں ساتھ بیٹھ رہی ہیں۔
عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’گذشتہ روز تمام اتحادی جماعتوں نے پی ٹی آئی سے مشروط بات چیت نہ کرنے پر اتفاق کیا جبکہ پی ٹی آئی مشروط یعنی الیکشن پر ہی بات کرنے پر زور دے رہی ہے، اس دوران معاشی اعتبار سے بھی ملک کو سیاسی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔‘حکومتی جماعتوں کی ملاقاتوں سے روشن امکان ہے کہ درمیانی راستہ نکالے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم حکمران اتحاد پی ٹی آئی کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتا کیوں کہ اس میں پرویز خٹک کے علاوہ کوئی سینیئر رہنما نہیں ہے۔حکومت نے اتحادی جماعتوں کے درمیان مزید مشاورت کا بھی عندیہ دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں بھی اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق کہا کہ کوشش ہے ملک میں سیاسی ڈائیلاگ شروع ہو۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک جماعت کے علاوہ تمام حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ بلاول مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات پر قائل کریں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات پر آمادہ ہو رہی ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں امیر جماعت اسلامی بھی شہباز شریف اور عمران خان سے مل چکے ہیں۔
