موٹروے ریپ کیس، ملزمان کا تیسرا ساتھی بالا مستری بھی گرفتار

پولیس نے موٹروے ریپ کیس میں ملزمان کے مبینہ تیسرے ساتھی بالا مستری کو بھی گرفتار کر لیا ہے تاہم کیس کا مرکزی ملزم عابد تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہے.
موٹروے زیادتی کیس میں پولیس نے ایک اور گرفتاری کر لی۔بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اقبال عرف بالا مستری کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔بالا مستری کو ملزم وقار اور عباس کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم واردات کی پلاننگ میں شامل تھا تاہم واردات سے قبل ہی راستے سے واپس چلا گیا تھا. تاہم ماضی میں بالا مستری ملزم عابد کے ساتھ متعدد وارداتوں میں ملوث رہا۔ بالا مستری کو چیچہ وطنی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ملزم عابد علی اور شفقت بالا مستری کے پاس کام کرتے تھے۔ شفقت نے بتایا کہ عابد علی نے فون کر کے مجھے اور بالا مستری کو بلایا ہم نے مل کر واردات کی پلاننگ کی لیکن رات کو بالا مستری واردات سے قبل ہی واپس چلا گیا. ۔بالا مستری کو وقار الحسن اور عباس کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس اب گرفتار ملزم سے مزید تفتیش کرے گی۔
خیال رہے کہ قبل ازیں پولیس نے 13 ستمبر کی رات ملزم شفقت علی کو دیپالپور سے گرفتار کیا تھا. جس کا نہ صرف ڈی این اے میچ کر گیا ہے بلکہ اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے جبکہ متاثرہ خاتون نے بھی ملزم کا شناخت کر لیا ہے. پولیس کے مطابق ملزم شفقت علی ضلع بہاولنگر تحصیل ہارون آباد کا رہائشی ہے وہ پنجاب میں مختلف گینگز کے ساتھ منسلک رہا ہے جبکہ شفقت علی اور اس کا خاندان پہلے بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم شفقت علی نے عابد کے ساتھ مل کر 11 وارداتیں کیں۔ملزم شفقت علی نے پولیس کو دئیے گئے اعترافی جرم میں بتایا ہے کہ میں نے اور عابد نے مل کر موٹروے پر ڈکیتی کی تھی۔ واقعے کا مرکزی ملزم عابد علی جرائم میں میرا ساتھی ہے۔پہلے ہم نے ڈکیتی کی،بعدازاں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ شفقت کے مطابق موٹروے پر واردات کے بعد ایک رات قلعہ ستار گاؤں میں گزاری۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دیپالپور چلا گیا تھا۔جبکہ عابد علی والد کے پاس چلا گیا تھا،عابد سے آخری رابطہ تین روز قبل ہوا۔ پولیس کی طرف سے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کیلئے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم پولیس کو ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button