موٹروے ریپ کے مرکزی ملزم کے بھائی اور باپ گرفتار

موٹروے ریپ کیس میں پولیس تاحال مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے جبکہ پولیس نے ملزم عابد علی کی گرفتاری میں ناکامی کے بعد ملزم کے 2بھائیوں اور والد کو حراست میں لے لیاہے۔
موٹر وے زیادتی کیس میں نامزد ملزم وقار الحسن نے خود پولیس کو گرفتاری دے دی ہے جب کہ مرکزی ملزم عابد کو پولیس اب تک گرفتار نہیں کر سکی ہے۔پولیس ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے اور آج بھی پولیس نے ڈیرہ ملیاں غازی کوٹ میں ملزم عابد کے گھر کی تلاشی لی تاہم وہاں کوئی موجود نہ تھا۔اہل محلہ کاکہنا ہے کہ ملزم عابد ایک بدتمیز اور جھگڑالو شخص ہے، عابد اور اس کے گھر والوں سے کسی کی بول چال نہیں تھی، ملزم اور اس کے گھر والے چوری چکاری کرتے تھے۔رپورٹ کے مطابق ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے اور اس نے 2013 میں بھی خاتون اور اس کی بیٹی سے زیادتی کے بعد متاثرہ خاندان سے صلح کر لی تھی لیکن جرائم سے باز نہ آیا تو علاقے سے نکال دیا گیا۔2013 سے2017 تک زیادتی اور ڈکیتی سمیت دیگر جرائم کے 8 پرچے کٹے اور 8 سال میں کئی مرتبہ گرفتار ہوا مگر ضمانت پر رہا ہو گیا، وہ آخری بار 8 اگست 2020 کو گرفتار ہوا مگر چند دنوں بعد ہی اس کی ضمانت ہو گئی۔
موٹروے پر خاتون زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کا مزید مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آگیا ہے، ملزم عابد علی پر فورٹ عباس اور تھانہ کھچی والا میں قتل، ڈکیتی اور زنا زیادتی کے8 مقدمات درج ہوئے، ملزم مدعیوں پر دباؤ ڈال کر صلح کرلیتا اور عدالت سے باعزت بری ہوکر نئے علاقے میں نیا گینگ بنا لیتا تھا۔ذرائع کے مطابق موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد فورٹ عباس میں زمینوں پر غیرقانونی قبضے کروانے میں بھی ملوث رہا ہے۔ ملزم کے بھائی بھی چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ پورے علاقے میں ملزم کی فیملی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ فورٹ عباس میں قبضہ، ڈکیتی اور چوری کی درجنوں واردتیں ملزم عابد علی کر چکا ہے۔ملزم کو متعدد بار گرفتار کیا گیا لیکن مدعی پارٹی پر دباؤ ڈال کر صلح کر لی جاتی تھی۔اور ملزم عدالت سے باعزت بری ہو جاتا تھا جبکہ رہا ہونے کے بعد اپنا علاقہ تبدیل کرتا اور نیا گینگ بنا کر دوبارہ کریمینل سرگرمیاں شروع کر دیتا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ مرکزی ملزم عابد کیخلاف پہلا مقدمہ2013ء میں ڈکیتی اور زنا بالاجبر کی دفعات کے تحت تھانہ فورٹ عباس میں درج ہوا۔ ملزم کیخلاف قتل، ڈکیتی اور زنا زیادتی کے سات مقدمات تھانہ کھچی والا میں درج ہوئے۔جن میں ملزم عابد کیخلاف دوسرا مقدمہ 2014 میں سگے ماموں کو قتل کرنے کے جرم میں، تیسرا مقدمہ 2014 میں ڈکیتی، چوتھا مقدمہ 2014 میں ڈکیتی پر تھانہ کھچی والا میں درج کیا گیا۔ اسی طرح مرکزی ملزم عابد کیخلاف تھانہ کچھی والا میں پانچواں مقدمہ 2014 میں ڈکیتی، ڈکیتی کا چھٹا مقدمہ 2016 میں، زنا کا ساتواں مقدمہ 2017 میں اور آٹھواں مقدمہ 2017 میں ڈکیتی پر تھانہ کچھی والا میں درج کیا گیا
پولیس کی طرف سے موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کے ڈی این اے کی رپورٹ مثبت آنے کے بعد پولیس نے ملزم کی گرفتاری کیلئے شیخوپورہ کے علاقے قلعہ ستار ڈیرے پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم اپنی بیٹی کو گھر میں چھوڑ کر بیوی کو ساتھ لے کر فرار ہو گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے ملزم کے بھائیوں اور والد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم عابد کا بھائی قاسم ٹھوکر چوک میں پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے جبکہ دوسرا بھائی آصف بھی اس وقت پولیس کی حراست میں ہے، جسے گوجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ملزم کے والد اکبر کو مانگا منڈی کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا ہے جنہیں بعد ازاں لاہور منتقل کردیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عابد کے والد، بھائی اور بیٹی پولیس کی حراست میں ہیں جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ موٹر وے زیادتی کیس میں ایک ملزم کی شناخت ہوگئی ، ملزم عابد فورٹ عباس کا رہائشی ہے، ملزم کی شناخت ڈی این اے میچ ہونے کی بنا پر ممکن ہوئی، خاتون کے لباس سے ڈی این اے میچ ہونے والے ملزم کا پہلے بھی کریمنل ریکارڈ ہے جہاں ملزم کا ڈی این اے 2013ء کے ڈیٹا بیس سے میچ ہوا ، تاہم ملزم عابد کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا اس مقصد کیلئے سی ٹی ڈی کی طرف سے کارروائی کی جارہی ہے ۔
