کراچی: لیاری میں 2 منزلہ رہائشی عمارت منہدم، 2 افراد جاں بحق

کراچی کے علاقے لیاری کی بہار کالونی میں کوئلہ گودام کے قریب 2 منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی جس کے نتیجے 2 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے، ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے تاہم مزید افراد کے ملبے تلے پھنسے ہونے کی اطلاع بھی ہے۔رینجرز نے علاقے کو سیل کر دیا ہے جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاہم گنجان آباد علاقے کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو آپریشن میں پریشانی کا سامنا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ حادثے میں ایک خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہوئے۔عمارت کے ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکال کر سول ہسپتال کراچی منتقل کردیا گیا جبکہ ریسکیو کا عمل بدستور جاری ہے۔
لیاری کوئلہ گودام کے قریب عمارت گرنے کا واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے مطالبہ کیا کہ غفلت برتنے والے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کوگرفتار کیا جائے۔رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے کا ادارہ سندھ حکومت کا اے ٹی ایم بنا ہوا ہے، آئے روز شہر میں حادثات انسانی جانوں کے نقصان پر سندھ حکومت کو شرم آنی چاہیے۔خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے میں زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں،ریسکیو آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کو ریسکیو کے کام میں اداروں کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ رواں برس کے دوران کراچی میں کسی رہائشی عمارت کے گرنے کا یہ پانچواں واقعہ ہے۔محض 2 روز قبل ہی کورنگی کے علاقے اللہ والا ٹاؤن میں 5 منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت 4 جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔رواں برس سب سے ہولناک حادثہ 6 مارچ کو گلبہار میں پیش آیا تھا جہاں کثیر المنزلہ عمارت گرنے سے 27 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔اس حادثے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایس بی سی اے کے عہدیداروں نے رشوت لے کر غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی تھی۔
بعدازاں 8 جون کوکراچی کے علاقے لیاری میں 5 منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس حادثے کے بعد وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ نسیم الثانی کو ہدایت دی تھی کہ وہ شہر میں غیر قانونی عمارتوں کی نشاندہی کریں اور متعلقہ بلڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔علاوہ ازیں 8 جولائی کو لیاقت آباد میں سندھی ہوٹل کے قریب 5 منزلہ مخدوش عمارت زمین بوس ہوگئی تھی تاہم متاثرہ عمارت کو پولیس اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ایک روز قبل ہی خالی کراولیا گیا تھا جس کے باعث اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button