موٹروے گینگ ریپ کیس: متاثرہ خاتون کا بیان ریکارڈ

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں موٹر وے گینگ ریپ کیس میں اہم پیش رفت ہوئی جہاں متاثرہ خاتون نے اپنا ریکارڈ قلمبند کروایا اور کمرہ عدالت میں گرفتار دونوں ملزمان کی شناخت بھی کرلی۔
انسداددہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیس کی سماعت جیل کے احاطے میں کی جہاں مرکزی ملزمان کو بھی پیش کیا گیا۔عدالت میں سماعت کے دوران متاثرہ خاتون نے اپنا بیان قلمبند کروا دیا جبکہ عدالت نے بچوں کے کم عمر ہونے پر بیان ریکارڈ نہ کرنے کا حکم دیا۔متاثرہ خاتون نے کمرہ عدالت میں مرکزی ملزمان عابد ملہی اور شفقت عرف بگا کی شناخت کر لی اور واقعے سے متعلق اپنا مکمل بیان ریکارڈ کروایا۔
خیال رہے کہ متاثرہ خاتون نے ملزمان کی شناخت اسے پہلے جیل میں جا کر بھی کی تھی۔عدالت نے عابد ملہی اور شفقت بگا کا ڈی این اے لینے والے افراد کا بھی بیان ریکارڈ کیا اور پولیس افسر انسپکٹر محمد سلیم نے بھی بیان قلم بند کیا۔انسپکٹر سلیم کو متاثرہ خاتون نے بیان کے دوران ان کا نام خفیہ رکھنے کا کہا تھا۔موٹروے گینگ ریپ کیس میں اسپیشل پراسکیوٹر عابد بھٹی، اسپیشل پراسکیوٹر حافظ اصغر اور عبدالجبار نے بھی بیانات ریکارڈ کروائے جبکہ مجسٹریٹ کینٹ محمد علی اور انسپکٹر محمد وسیم کے بیان پر جراح بھی مکمل کر لی گئی۔
عدالت میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے قاضی لئیق کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا اور ملزموں کے وکیل گل شیر ایڈووکیٹ نے گواہوں پر جراح کی،انسداد دہشت گردی عدالت میں اے ایس آئی دانیال اشرف اور اے ایس آئی محمد یوسف سمیت 30 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
عدالت سے متعدد مرتبہ مہلت ملنے کے بعد پولیس نے 20 فروری کو عدالت میں 200 صفحات پر مشتمل چالان جمع کروایا تھا جس میں ملزمان کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔پولیس نے چالان میں 40 گواہان کے بیانات قلمبند کیے تھے اور چالان میں کہا گیا کہ عابد ملہی اور شفقت بگا نے خاتون کے ساتھ ڈکیتی اور زیادتی کی۔
چالان میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ جیل میں کرائی گئی اور ان کا ڈی این اے بھی کروایا گیا جو میچ کر گیا جبکہ دونوں ملزمان نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اقرار بھی کیا ہے۔بعد ازاں 3 مارچ کو عدالت نے دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی، اسے قبل 24 فروری کو سماعت میں سرکاری وکلا نے عدالت سے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے فرد جرم کے لیے 3 مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔ملزمان عابد ملہی اور شفقت بگا نے صحت جرم سے انکار کیا تھا جبکہ عدالت نے ملزمان کے خلاف استغاثہ کے گواہان کو طلب کر کے سماعت ملتوی کردی تھی۔
خیال رہے کہ 9 ستمبر 2020 کو لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔
اس دوران خاتون نے اپنے ایک رشتہ دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا تھا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔
تاہم جب خاتون مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تو 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے، بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے نقدی اور قیمتی سامان بھی لے گئے۔اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔
12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے اصل ملزمان تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔تاہم 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔14 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ خاتون کے ریپ میں ملوث ایک ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا ہے جس کا نہ صرف ڈی این اے جائے وقوع کے نمونوں سے میچ کرگیا بلکہ اس نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔
بعد ازاں کئی روز کی تلاش کے بعد موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو 12 اکتوبر کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔چار رکنی گینگ کا سربراہ عابد پنجاب کے مختلف تھانوں میں درج 10 دیگر مقدمات میں بھی پولیس کو مطلوب تھا۔پولیس نے 21 اکتوبر کو بتایا کہ کیمپ جیل میں ملزم کی شناخت پریڈ کا عمل مکمل کیا گیا جہاں متاثرہ خاتون نے ملزم کی شناخت کرلی۔
