موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم تیسری بار پولیس کے سامنے فرار

لاہور سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد تیسری مرتبہ پولیس کے سامنے فرار ہوگیا، پنجاب پولیس کی بدترین نااہلی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ملزم آبائی گاؤں راجہ جنگ میں گھر کے دروازے پر آ کر پولیس کی موجودگی کا شک پڑنے پر فرار ہوا۔
پنجاب پولیس کی بدترین نااہلی کی وجہ سے سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم ایک مرتبہ پھر گرفتار ہونے سے بچ گیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم عابد قصور کی تحصیل راجہ جنگ میں اپنے رشتے دار کے گھر آئے گا۔ انٹیلی جنس رپورٹ ملنے کے بعد پولیس کے کچھ افسران اوراہلکار عابد علی کے رشتے دار کے گھر جا کر بیٹھ گئے۔ گزشتہ رات عابد علی جب رشتے دار کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو اسے پولیس کی موجودگی کا شک ہوا، ملزم گھر میں داخل ہونے کی بجائے پولیس کے سامنے سے فرار ہوگیا۔ یہ تیسرا موقع تھا جب ملزم پولیس کے سامنے سے فرار ہوا۔ ملزم کے فرار ہونے پر پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور کھیتوں میں کئی گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا،تاہم تب تک ملزم فرار ہو چکا تھا۔ ذرائع کا واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیس کو 16 ستمبرکی رات ملزم عابد کے راجہ جنگ گاؤں میں آنے کی اطلاع ملی تو اہلکار اس کے رشتہ دار کے گھر گھات لگا کر بیٹھ گئے۔ لاہور پولیس کو آبائی گاؤں راجہ جنگ ہزارہ روڈ قصور میں عابد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ حویلی آف شیخ شمس میں عابد علی کی بہن اور بہنوئی کام کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق عابد گزشتہ رات پونے آٹھ بجے مذکورہ حویلی میں بہن کے پاس پر پہنچا تھا۔ مبینہ طور پر پولیس کے صرف 4 اہلکار راجہ جنگ کے گھر میں موجود تھے۔ ملزم عابد کو پولیس کی موجودگی کا شک ہوا تو فوراً فرار ہو گیا۔ملزم عابد ملہی کے فرار ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری 5 گھنٹے تک سرچ آپریشن کرتی رہی لیکن ملزم ہاتھ نہ آیا اور دوبارہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
دوسری جانب پولیس نے ملزم عابد کی بیوی کا ابتدائی بیان ریکارڈ کر لیا ہے جبکہ بارہ سو اہلکاروں نے قصور میں سرچ آپریشن کے دوران ملزم کے پانچ قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ملزم شفقت سے جیل میں تفتیش جاری ہے۔ملزم عابد کی دوسری بیوی بشریٰ بی بی کے بیان کے مطابق واقعے کے بعد عابد گھر آیا تھا، وہ کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا، اس کی شناخت ہوئی تو وہ فرار ہو گیا، س کے بارے میں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے؟قصور روڈ کے قریب واقع نواحی گاؤں راؤ خان والا میں لاہور پولیس، سی ٹی ڈی، سی آئی اے اور مقامی پولیس کی بھاری نفری نے ملزم عابد علی کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کیا، پھر بھی مرکزی ملزم ہاتھ نہ آیا۔تاہم پولیس نے ملزم عابد سے مسلسل رابطے میں رہنے والے اس کے دو کزنوں، ایک خاتون اور دیگر دو رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دو روز قبل ان تمام افراد کا عابد ملہی سے رابطہ ہوا تھا۔ زیر حراست افراد کو قصور سے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ملزم عابد کو گرفتار کرنا پولیس کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔ پولیس اور حکومت پنجاب کی جانب سے بار بار دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا، ملزم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ملزم 3 مرتبہ پولیس کے سامنے سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ ملزم عابد پہلی مرتبہ قلعہ ستار شاہ، پھر ساہیوال اور اب قصور میں پولیس کے سامنے فرار ہوگیا۔ واضح رہے کہ پولیس نے گزشتہ روز ملزم عابد علی کی اہلیہ بشریٰ کو گرفتار کر لیا تھا۔ جبکہ سانحہ گجر پورہ میں ملوث دیگر ملزمان شفقت اور اقبال عرف بالا مستری بھی گرفتار کیے جا چکے۔ جبکہ سانحہ گجر پورہ کی متاثرہ خاتون نے جمعرات کے روز شناخت پریڈ کے دوران ملزم شفقت کی شناخت کر لی ہے۔
دوسری طرف پنجاب پولیس کی جانب سے موٹروے گینگ ریپ کے مرکزی ملزم کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے کی جانے درخواست کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس کا نام ‘بلیک لسٹ’ میں ڈال دیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک بھر کی تمام چیک پوائنٹس پر اس سے آگاہ کردیا۔
گینگ ریپ کیس میں مرکزی ملزم عابد ملہی کو شدت سے تلاش کرنے والی پنجاب پولیس نے ایف آئی اے سے درخواست کی تھی جب کہ ملزم کی تفصیلات مختلف ٹیموں کو بھیج دی تھیں جو اس کا پتا لگانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے بتایا کہ ایف آئی اے کو عابد مالہی کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کا کہا گیا تھا اور اس کا نام واچ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں نام شامل کرنا ایک طویل عمل ہے لہٰذا پولیس نے فوری طور پر تمام ہوائی اڈوں، زمینی اور سمندری چیک پوسٹوں پر ایف آئی اے کو آگاہ کیا کہ ‘انتہائی مطلوب’ ملزم کو ملک چھوڑنے سے روکے۔ سی سی پی او کا کہنا تھا کہ پولیس ٹیمز ملزم کی تلاش کے لیے سخت کوششیں کر رہی ہیں اور امید ہے کہ وہ جلد اسے پکڑ لیں گی۔
واضح رہے کہ پولیس ٹیمز نے عابد ملہی کو گرفتار کرنے کے لیے مختلف شہروں کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں لیکن اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ایف آئی اے کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ جب بھی پولیس کی جانب سے اپنی مطلوب فہرست پر موجود شخص کو ملک سے جانے سے روکنے کا کہا جاتا ہے اس کا نام ‘بلیک لسٹ’ میں شامل کردیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔ اس دوران خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا تھا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔تاہم جب خاتون مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے، بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے نقدی اور قیمتی سامان بھی لے گئے۔
اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔تاہم اس واقعے کے بعد سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے تنازع کھڑا کردیا اور عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ مسلم لیگ (ن) نے ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سی سی پی او نے کہا تھا کہ ‘خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں’۔
بعدازاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس انعام غنی نے موٹروے پر اجتماع زیادتی کا شکار خاتون سے متعلق متنازع بیان پر کیپیٹل سٹی پولیس افسر لاہور عمر شیخ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تاہم 14 ستمبر کو انہوں نے اپنے بیان پر معذرت کرلی تھی۔ یہی نہیں واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا جس پر حکومت بھی ایکشن میں آئی تھی اور آئی جی پنجاب پولیس نے مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی تھیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی صوبائی وزیرقانون راجا بشارت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔ علاوہ ازیں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب انعام غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
ساتھ ہی اس موقع پر بتایا گیا تھا کہ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔
تاہم 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔14 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ خاتون کے ریپ میں ملوث ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا ہے جس کا نہ صرف ڈی این اے جائے وقوع کے نمونوں سے میچ کرگیا بلکہ اس نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ 15 ستمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
اسی روز پولیس نے شریک ملزم شفقت علی کی جانب سے دوران تفتیش فراہم کی گئی معلومات پر تیسرا ملزم اقبال عرف بالا کو گرفتار کرلیا تھا۔
