ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ کو مزید برداشت نہیں کرینگے

چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم اس ربڑاسٹیمپ پارلیمنٹ کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ہماری آوازنہیں سنی جائےگی توہمیں بھی سوچناپڑے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ نئے پاکستان میں ہمارےحقوق سلب کیے جارہے ہیں۔ پارلیمان میں رولزتوڑکرقانون پاس کرالیا جاتاہے۔بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو عدالت یا ڈنڈے سے چلایا گیا تو کمپنی نہیں چلے گی، زبردستی اور غیرقانونی طریقے کی قانون سازی کا کوئی مستقبل نہیں، 18ویں ترمیم اور این ایف سی حکومتی نشانے پر ہیں. انھوں نے موٹر وے پر ریپ کے حادثے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون کا تحفظ جن کی ذمے داری ہے وہ ریپ کرنے والوں کے بجائے متاثرہ خاتون پر سوال اٹھاتے ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نہیں تھے، وہ آج ہمارے درمیان ہیں، اس وقت انہیں کافر اور غدار کہنے والے آج انہیں شہید ماننے کو تیار ہیں اور ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ججزتعیناتی میں عوام،بار کونسل،عدلیہ کا کردارہوناچاہیے،چارٹرآف ڈیموکریسی پربہت کام کیاجورہ گیاوہ عدلیہ سےمتعلق ہےانہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ وہ لوگ بھی موجود ہیں جو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو کہتے ہیں کہ آپ خاتون ہیں اس لیے آپ وزیر اعظم نہیں بن سکتیں، جو انہیں کرپٹ تھے وہ آج انہیں شہید مانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں زبردستی قانون سازی منظور کی جا رہی ہے لیکن اگر قانون سازی زور اور دھمکی سے کی جائے گی تو اس کا اور اس طرح کی پارلیمان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں ہر کسی سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم پر حملے بھی ہوتے ہیں، میڈیا پر ہماری کردار کشی ہوتی ہے، ہمارے شہیدوں کی کردار کشی کی جاتی ہے لیکن ہم اپنے موقف اور منشور پر قائم ہیں، کبھی کبھار ہم کامیاب ہوتے ہیں، کبھی ہم کامیاب نہیں ہوتے تو ہمارا ایمان ہے کہ ہار جیت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن محنت ہمارے سیاسی کارکن نے کی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جو اکا دکا چھوٹی موٹی جمہوریت رہی ہے، جو تھوڑی بہت میڈیا کو آزادی میسر ہے، جو میرے نزدیک محض کاغذ پر ہی صحیح لیکن قانون تو موجود ہے اور وہ ان قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان ایک ایسے وقت سے گزر رہا ہے کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم مدینہ کی ریاست میں ہیں لیکن مدینہ کی ریاست کا یہ حال ہے کہ پاکستان کے سب سے مشہور موٹر وے پر ایک عورت کا اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عورت کو تحفظ دینا جن کی ذمے داری ہے اور جن کی ذمے داری تمام عورتوں کو یہ باور کرانا ہے کہ آپ کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے، وہ ریپ کرنے والے پر نہیں بلکہ متاثرہ خاتون پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ جو لوگ ریپ کی متاثرہ خاتون پر سوال اٹھاتے ہیں، ان کے دفاع میں اس ملک کے وزیر اور وزیر اعظم سامنے آ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مدینہ کی ریاست کا یہ حال ہے کہ ملک بھر میں اس وقت سیلاب متاثرین ہیں، میرے اپنے صوبہ سندھ میں 25لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، ان کے گھر اور 1.8ملین ایکڑ فصل تباہ ہو چکی ہے، بلوچستان میں بھی بارشوں اور سیلاب کے متاثرین موجود ہیں، ملاکنڈ ڈویژن، سوات اور خیبر پختونخوا میں سیلاب کے متاثرین موجود ہیں، گلگت بلتستان میں بھی متاثرین موجود ہیں لیکن ہمارے مین اسٹریم میڈیا میں ان کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی جماعتوں یاد ہوگا کہ جب 2011 میں بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آیا تھا تو ریاست پاکستان اور وفاق کا سب سے اہم کردار تھا، ان کو وطن کارڈ دیا تھا، ان کو معاوضہ دیا گیا تھا، آج ہمارے سیلاب متاثرین لاوارث ہیں، ان کو سنبھالنے اور معاضہ دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔
ببلاول نے کہا کہ جب ہم اپنے ملک کی اہم ترین قانون سازی کرنے جاتے ہیں تو وہ ہم آزاد ماحول میں نہیں کرتے، آج تک اس قومی اسمبلی میں جو اہم قانون سازی ہوئی ہے وہ قانون اور آئین کو پس پشت ڈال کر اور پارلیمان کو بے اختیار کر کے زبردستی سے پاس کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ دوسرے فریق کو اختلاف رائے کی اجازت اور موقع نہیں دیا جاتا، کل کا مشترکہ اجلاس اس کی مثال ہے جس میں اسپیکر صاحب ووٹ کی دوبارہ گنتی کے مطالبے پر ساتھ نہیں دے رہے تھے، ہمارا حق ہے کہ ہر ووٹ پر وہ ہماری تعداد گنیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ووٹ نہیں گنا جائے گا، ہماری آواز نہیں سنی جائے گی تو ہم جیسی جماعتوں کو بھی سوچنا پڑے گا کہ آخر ہم کب تک اس پارلیمان کو ایک ربڑ اسٹیمپ کی حیثیت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مدینہ کی ریاست میں بولنے کی آزادی تو تھی لیکن یہاں تو نام نہاد حکمرانوں کے پاس بھی وہ آزادی نہیں ہے، قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن اراکین کے لیے زیادہ پابندیاں ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مالکان جو ہمیں دھمکی دیتے تھے اور جمہوری حکومتوں کو کہتے تھے کہ ہم حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں، آج وہ پابندیاں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل جو سلیکٹڈ ہوتے تھے، جو ایک دوسری طرح کی سیاست کے عادی تھے وہ بھی سب انقلاب اور عوام کے نعرے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں قابل احترام بار کے اراکین اور وکلا برادری نے مدعو کیا لیکن میں ان سے ایک شکوہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب افتخار چوہدری کی عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں پیپلز پارٹی نے اپنا آزادانہ موقف سامنے رکھنا چاہا تو کیا اس وقت آپ نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا یا آزاد عدلیہ کے نام پر نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری عدلیہ کو ایک آمرانہ ادارہ بنانے میں ساتھ دیا۔
بلاول نے کہا کہ میں پوچھنا چاہوں گا کہ کیا دھاندلی، آمریت، سلیکٹڈ، میڈیا کی آزادی کا معاملہ کیا پانامہ کے خلاف شروع ہوا، جب پاکستان پیپلز پارٹی اینٹ سے اینٹ بجانے نکلی تھی تو باقی سب نے ہمیں کیا کہا کہ ہم صرف اپنے کرپشن بچانے کے لیے بیانات دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ نشانے پر ہیں، اس وقت تو ہمارے ساتھ بہت سی جماعتیں کھڑی ہیں لیکن ایک وقت تھا جب ہم کہتے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے اور وہ اس لیے کیونکہ ہم نے 1973 کے آئین کو بحال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں جتنی بھی جماعتیں بیٹھی ہیں، ان سب کی شکایتیں ہیں اور ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستاب بار کونسل نے ہمارے سامنے تین نکات رکھے ہیں جو نئے نکات نہیں ہیں اور ہمیں آج کم از کم ان تین نکات پر متفق ہونا چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں تھا کہ ہم ججوں کا تقرر کیسے کریں گے، اس میں تھا کہ آئینی عدالتیں ہوں گی جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی بھی ہو گی، ہم نے اس پر بہت کام کیا تھا، جو کام رہتا ہے وہ عدلیہ سے متعلق ہے، ہم کرنا چاہتے تھے لیکن ہمیں نہیں کرنے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ 19ویں ترمیم ہماری پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرائی گئی اور 18ویں ترمیم کے ذریعے ہم نے جو 1973 کے آئین کو بحال کیا تھا جس پر ایک لائن کی وجہ سے ایک ادارے کی طرف سے صاف دھمکی دی گئی اور وہ لائن یہ تھی کہ ہم نے پارلیمانی اراکین اور قانونی برادری کی رائے سے ججز کا فیصلہ کرنا ہے لیکن اس بات کو انہوں نے ایک خطرے کے طور پر دیکھا۔انہوں نے کہا کہ ایک دھمکی کے نتیجے میں 19ویں ترمیم پاس کی گئی اور وہ دھمکی 1973 کا آئین تھا جو ایک اسلامی، وفاقی، پارلیمانی نظام ہے جو اس ملک کو جوڑتا ہے لیکن اگر قانون سازی زور اور دھمکی سے کی جائے گی تو اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور اس پارلیمان کا کوئی مستقبل نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔
