70 ارب روپے کی پشاور BRT بس سروس ایک ماہ بعد ہی بند

دو سال اور چار ماہ کی تاخیر کے بعد پچھلے مہینے شروع کیا جانے والا نا مکمل بی آر ٹی پشاور بس پراجیکٹ بسوں میں آگ لگنے کے پے در پے واقعات رونما ہونے کے بعد منہ کے بل جاگرا اور اسے وقتی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
70 ارب روپے کی خطیر لاگت کے ساتھ اکتوبر 2017 میں شروع کئے جانے والے پشاور بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح 13 اگست 2020 کے روز وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا اور پشاور بس ریپیڈ ٹرانزٹ یعنی بی آر ٹی پشاور میں عالمی معیار کی سہولیات پہنچانے کے دعوے کئے گے تھے۔ کپتان کے دعوے تو سچ نہ ہو سکے لیکن مسلسل سامنے آنے والے بد انتظامی اور آگ لگنے کے واقعات نے اپوزیشن کی طرف سے بی آر ٹی میں کرپشن کے الزامات کو ضرور تقویت دی ہے۔ بی آر ٹی کے بہترین سسٹم کی قلعی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب افتتاح کے پہلے ہی دن بس میں سوار ہونے کیلئے نصب کردہ خودکار سسٹم جواب دے گیا جس کے بعد مسافر بسوں میں پھنسے رہے۔ بعد ازاں اپنی مدد آپ کے تحت جنگلوں اور رکاوٹوں کو پھلانگ کر مسافر بسوں سے باہر نکل سکے۔ بعد ازاں 70 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے اس بڑے منصوبے میں بسوں میں آگ لگنے اور آن روڈ بسوں کی خرابی کے واقعات تدلدل کے ساتھ سامنے آنا شروع ہوگئے۔ بس میں آگ لگنے کا پہلا واقعہ 26 اگست کو پیش آیا جب ایک بس حیات آباد سٹیشن پر آکر رکی اور اس میں آگ لگ گئی۔ اس کے بعد تین اور11 ستمبر کو بسوں میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے جبکہ چوتھا واقعہ 16 ستمبر کو سامنے آیا۔ حالیہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بی آر ٹی بس میں لگی آگ پر قابو پایا جا رہا ہے۔ ایک ماہ کے اندر بی آر ٹی بسوں میں آتشزدگی کے چار واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ ہر واقعہ کے بعد کہا جاتا ہے کہ حادثے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور جلد وجوہات کا تعین کر کے ذمہ داران کو سامنے لایا جا ئے گا۔
لیکن تاحال نہ تو کسی حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکا ہے اور نہ ہی کسی کو ان حادثات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اب تازہ اطلاعات کے مطابق بی آر ٹی کی بس سروس کو افتتاح کے ایک ماہ بھی ہی معطل کر دیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کب تک معطل رہے گی۔ ٹرانس پشاور کے ترجمان عمیر کے مطابق پشاور میں ماس ٹرانزٹ منصوبے بی آر ٹی کی بس سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ بسوں میں آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے بس بنانے والی کمپنی کی ٹیم پشاور پہنچ چکی ہے جو بسوں کا معائنہ کرے گی اوربس کی حفاظت اور بس بنانے والی کمپنی کی سفارش پر بی آر ٹی کی سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بس بنانے والی کمپنی نے تمام بسوں کی جامع جانچ کی مہلت مانگی ہے اور بسوں کو تکنیکی اعتبار سے دوبارہ کلیئر کرنے کے بعد سروس کو بحال کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اکتوبر 2017 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے بی آر ٹی پشاور منصوبے کو شروع کیا تھا، ساتھ ہی 49 ارب روپے کی لاگت سے 6 ماہ یعنی اپریل 2018 میں اس کے مکمل ہونے کی تاریخ دی گئی تھی۔ تاہم اس منصوبے کے ڈیزائن میں مسلسل تبدیلی اور نئی چیزوں کے شامل کرنے کی وجہ سے نہ صرف منصوبے کی تکمیل کی پہلی ڈیڈلائن کو گزار دیا بلکہ اس کی لاگت میں بھی 17 ارب روپے کا اضافہ کردیا اور اسے 66 ارب 43 کروڑ روپے تک پہنچا دیا۔ اس کے باوجود منصوبے کے منیجر اس کے آغاز کی تاریخ میں کئی مرتبہ تبدیل کرتے رہے اور اسے پہلے 2018 میں 20 مئی سے 30 جون اور پھر 31 دسمبر کردیا گیا تاہم جب دسمبر 2018 میں بھی اس کا افتتاح نہیں ہوا تو پھر 2019 میں 23 مارچ کی تاریخ دی گئی جسے بعد میں جون 2020 کردیا گیا۔ تاہم ڈیزائن اور دیگر مسائل کی وجہ سے جون 2020 کی دی گئی تاریخ پر بھی اس منصوبے کا آغاز نہیں ہوسکا۔ پشاور بی آر ٹی کے اس منصوبے میں نہ صرف تاخیر ہوئی بلکہ اسے تحقیقات کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچا۔ تاہم اب یہ منصوبہ اپنے افتتاح کے ایک مہینے بعد ہی معطل ہوگیا ہے۔
