مہنگائی سے تنگ ممبران پارلیمنٹ کا تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

عام عوام کے بعد بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ اراکین پارلیمنٹ نے بھی گزارا نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے اپنی سرکاری تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کے لیے سینیٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معاشی مسائل سے مجبور ارکان پارلیمنٹ نے چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں میں 400 فیصد جبکہ ارکان قومی اسمبلی اورسینیٹ کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کیلئے قانون کا مسودہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے، ساتھ ہی تمام ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کے سفری الاؤنس میں اضافے کیلئے نظرثانی کی درخواست بھی کی ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ انہوں نے تنخواہوں میں بھاری اضافے کا مطالبہ مہنگائی کی حالیہ لہر اور روپے کی قدر میں کمی کو دیکھتے ہوئے کیا ہے، سینیٹ میں جمع کروائے گئے قانون کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی نے نہ صرف عام عوام بلکہ چیئرمین، اسپیکر، ڈپٹی چیئرمین، ڈپٹی اسپیکر اور پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو بھی متاثر کیا ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے قانون کا یہ مسودہ رائے معلوم کرنے کیلئے وزارت پارلیمانی امور اور وزارت خزانہ کو بھیج دیا ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کے لیے مجوزہ قانون میں چیئرمین اینڈ اسپیکر سیلریز، الاؤنسزاینڈ پرویلیجز ایکٹ 1975ء میں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ کو ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ 70 ہزار روپے کیا جاسکے۔ یہ رقم سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے مساوی ہے۔ بل میں ڈپٹی چیئرمین اور ڈپٹی اسپیکر سیلریز، الائونسز اور پرویلیجز ایکٹ 1975ء میں بھی ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ ایک لاکھ 85 ہزار روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ 29 ہزار روپے کی جا سکے، جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے مساوی ہے۔
قانون کے مسودے میں ارکان پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الائونسز ایکٹ 1974ء میں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ارکان سینیٹ اور ارکان قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کی جائے۔ قانون میں یہ ترمیم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو ان کے حلقے کے قریب ایئر پورٹ سے اسلام آباد تک کیلئے بزنس کلاس کے 20 اوپن ایئر فضائی ٹکٹ فراہم کیے جائیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر یا رکن پارلیمنٹ کے 18سال تک کے بچوں اور شریک حیات کو بھی ملک میں یہ ٹکٹ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیشن یا کمیٹی کے اجلاس یا پھر رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے کسی سرکاری کام کاج کیلئے اپنے شہر سے آنے اور پھر جس شہر میں اجلاس منعقد ہو رہا ہو وہاں سے واپس جانے کیلئےایک بزنس کلاس فضائی ٹکٹ کے مساوی رقم دی جائے گی۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے وزارت پارلیمانی امور کو 28 جنوری کو لکھے گئے ’’فوری‘‘ کے عنوان سے خط میں سینیٹر نصیب اللہ بازئی، سجاد حسین طوری، سردار محمد یعقوب خان نصر، دلاور خان، ڈاکٹر اشوک کمار اور شمیم آفریدی نے توجہ دلائو نوٹس میں بل پیش کرنے کی بات کی ہے۔ بل پیش کرنے کے مقاصد میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے باوجود ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً، چیئرمین یا اسپیکر، ڈپٹی چیئرمین یا ڈپٹی اسپیکر اور ارکان اسمبلی اور ارکان سینیٹ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کر سکیں۔
بل میں کہا گیا ہے کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے عام عوام کے ساتھ چیئرمین اور اسپیکر، ڈپٹی چیئرمین اور ڈپٹی اسپیکر اور ارکان پارلیمنٹ بھی متاثر ہوئے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کو باعزت طریقے سے زندگی گزارنے کے لیے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
