مہوش نے بھی تسلیم کر لیا ایوارڈز تعلقات پر ملتے ہیں


بالآخر تمغہ امتیاز سمیت کئی اہم شوبز ایوارڈز جیتنے والی خوبصورت اداکارہ مہوش حیات نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں 75 فیصد سے زائد ایوارڈز ذاتی تعلقات کی بنا پر ملتے ہیں اور اس میں ٹیلنٹ کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

جیو ٹی وی کے پروگرام ’جشن کرکٹ‘ میں بات کرتے ہوئے مہوش حیات نے نہ صرف ایوارڈز کے حوالے سے عوامی رائے پر بات کی بلکہ انہوں نے آئٹم نمبرز کے حوالے سے لوگوں کے خیالات پر اظہار خیال کیا۔ پروگرام میں مہوش حیات سے ایوارڈز، فلموں اور آئٹم نمبرز کے حوالے سے لوگوں کی رائے سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ پروگرام کے فارمیٹ کے تحت مہوش حیات سے وہی سوال کیے گئے جن سے متعلق پہلے ہی سروے کرائے گئے تھے اور لوگوں سے رائی معلوم کی گئی تھی اور وہی سوال اداکارہ سے کیے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں فلاں معاملے پر کتنے لوگ کیسا سوچتے ہیں؟

پروگرام کے دوران مہوش نے سابق خاتون وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم پر بات کی اور بتایا کہ تاحال وہ ابتدائی مراحل میں ہے اور وہ اس ضمن میں فی الحال کوئی تفصیلات عام نہیں کرنا چاہتیں۔ مہوش حیات نے بینظیر بھٹو کی زندگی پر فلم بنانے کے حوالے سے بختاور بھٹو کے اعتراضات کو غیر اہم قرار دیا اور کہا کسی کی زندگی پر فلم بنانے کے لیے قانونی طور پر اجازت درکار نہیں ہوتی، تاہم وہ اخلاقی طور پر فلم بنانے سے قبل سابق وزیر اعظم کے خاندان کے پاس جائیں گی۔ فلموں میں آئٹم نمبرز کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اب لوگوں کی سوچ تبدیل ہوگئی ہے، تاہم اس کے باوجود 20 فیصد افراد اب بھی چاہتے ہیں کہ فلموں میں آئٹم گانے شامل ہوں۔

انہوں نے ’نامعلوم افراد‘ میں اپنے آئٹم گانے ’بلی‘ کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے 2014 میں گانا ریکارڈ کروایا تھا، اب 2021 آگیا ہے اور لوگوں کی سوچ تبدیل ہوگئی ہے۔ مہوش حیات نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں ناچ اور گانے فلموں کا حصہ ہوتے تھے اور ان کے خیال میں اب بھی اگر ناچ گانا فلم کی کہانی کا حصہ ہو تو اداکارا کو ضرور کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں متعدد بار ائٹم گانوں کی پیش کش بھی ہوئی مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا، کیوں کہ وہ کوئی بھی کام دوسری بار نہیں کرتیں۔

ایک سوال کے جواب میں مہوش حیات نے کہا کہ پاکستان کے 50 فیصد مرد اپنا پیٹ چھپانے کے لیے شلوار قمیض پہنتے ہیں، تاہم ساتھ ہی کہا کہ بہت سارے لوگ جمعے کے مبارک دن پر احترام کے طور پر بھی شلوار قمیض پہنتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ 60 فیصد افراد عوامی ٹوائلٹس کی ناقص صورتحال کا ذمہ دار عام لوگوں کو ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے پروگرام کے دوران یہ بھی کہا کہ ڈراموں میں بولڈ سین یا متنازع مواد کو دکھانے سے متعلق پروڈیوسرز و ہدایت کاروں کو سوچنا اور سمجھنا چاہیے، اس پر حکومت ہدایات جاری نہ کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ اب پاکستانی ڈراموں میں یکسانیت ہوگئی ہے، ایک ہی طرح کے اسکرپٹس پر کام ہو رہا ہوتا ہے۔

پروگرام میں انہوں نے فلمی ایوارڈز سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ان کا خیال ہے کہ 75 فیصد افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ’ایوارڈز‘ تعلقات کی بنیاد پر ملتے ہیں۔انہوں نے اسی معاملے پر مزید کہا کہ ’نیشنل ایوارڈز‘ احترام و عزت کے طور پر دیے جاتے ہیں، ان کے لیے ایک کمیٹی ہوتی ہے جو لوگوں کا انتخاب کرتی ہے، تاہم فلمی ایوارڈز سے متعلق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تعلقات کی بنیاد پر ملتے ہیں۔ میزبان نے ان سے پوچھا کہ ان کے تو بہت سارے تعلقات ہیں، پھر انہیں تو کئی ایوارڈز ملے ہوں گے، جس پر مہوش حیات ہنس پڑیں۔ یاد رہے کہ مہوش کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ انہیں زیادہ تر ایوارڈز اپنے ذاتی تعلقات کی وجہ سے ملے ہیں۔

Back to top button