سانحہ APS: طالبان کو معافی دینے کی مخالفت

کپتان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے سفاک دہشت گردوں کو عام معافی دینے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی والے ہمارے مجرم ہیں لہذٰا اُنہیں معافی دینے یا نہ دینے کا اختیار بچوں کے والدین کے پاس ہے اور یہ اختیار ریاست کو نہیں دیا جا سکتا۔ انکاکہناہے کہ حکومت کو مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ہمیں پوچھنا چاہیے تھا۔
یاد رہے کہ سولہ دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملوں میں 140 سے زائد افراد شہید ہو گئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ اس سانحے کو سات برس گزر گئے لیکن ریاست پاکستان دہشت گردوں کی سرکوبی کی بجائے اب انہیں عام معافی دینے کے اعلانات کر رہی ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دہشت گرد ریاست سے زیادہ مضبوط ہیں۔ شہدا کے لواحقین نے اس سانحے میں مجرمانہ غفلت کے ذمہ دارن کو سزا دینے اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ شہید بچوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور قاتل طالبان کو تختہ دار تک پہنچایا جائے گا۔ تاہم اب عمران خان حکومت نے یہ یکطرفہ اعلان کیا ہے کہ حکومت تحریک طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے اور انھیں عام معافی دی جانے کا امکان ہے۔
شاہانہ اجون تب اے پی ایس کے مظاہرین میں شامل تھیں جب پشاور کے آرمی اسکول پر حملے کے بعد تب کے اپوزیشن رہنما عمران خان نے اُنہیں دلاسہ دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ اُن کے بچے کے قاتلوں کو سزا دلوانے میں وہ بھرپور کردار ادا کریں گے۔ شاہانہ اجون کا 15 سالہ بیٹا اسفند اُن سینکڑوں معصوم بچوں میں شامل تھا جو آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے تھے۔ شاہانہ آج بھی انصاف کی منتظر ہیں اور اس کے لیے اُن سمیت سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے لواحقین نے سپریم کورٹ سے رُجوع کر رکھا ہے۔
شاہانہ اجون کے بقول اُنہوں نے عمران خان کو آرمی پبلک سکول کے گیٹ پر روک کر کہا تھا کہ صوبے کی عوام نے تحریکِ انصاف کو ووٹ اسی لیے دیے تھے تاکہ وہ انہیں تحفظ دے سکیں جس میں وہ ناکام رہی لہذٰا خیبر پختونخوا کی انتظامیہ اس سانحے کی ذمہ دار ہے۔ شاہانہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے ذمے داروں کو سزا دلوانے کے لیے ہر فورم پر سرگرم رہی ہیں اور ہر سماعت پر عدالت بھی جاتی ہیں۔ لیکن وہ وزیرِ اعظم، صدرِ اور وزیرِ خارجہ کے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات اور اُنہیں مشروط معافی دینے کے بیانات پر اب سدید مایوس ہیں۔ شاہانہ کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی والے ہمارے مجرم ہیں انہوں نے ہمارے بچے قتل کیے۔ لہذٰا اُنہیں معافی دینے یا نہ دینے کا اختیار سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کے پاس ہے۔ یہ اختیار ریاست کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جن والدین کے معصوم بچے مارے گئے ان کے دکھ کا وزیراعظم اور صدر کو اندازہ بھی نہیں ہو سکتا لہاز حکومت کو یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں پوچھنا چاہیے تھا۔ شاہانہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں بڑے سانحات کے ذمے دار بڑے لوگ ہمیشہ بچ نکلتے ہیں اور ہمیشہ چھوٹے اہل کاروں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ لہذٰا ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر اُن سب کو سزا ملے جن کی غفلت کی وجہ سے معصوم بچوں کی جانیں گئیں۔
شاہانہ کی طرح سانحہ آرمی پبلک اسکول کے دیگر متاثرین بھی حکومتِ کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اعلان پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کو اعتماد میں لیے بغیر مذاکرات کے اعلان سے اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ خیال رہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان نے ایک انٹرویو میں تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ٹی ٹی پی کے کارکن عام شہریوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے سانحہ آرمی پبلک اسکول پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ والدین نے اس وقت کے اعلٰی فوجی اور سول حکام کو سانحے کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ اے پی ایس متاثرین کا گلہ ہے کہ جو ادارے بچوں کی سیکیورٹی کے ضامن تھے ان کے خلاف ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔متاثرہ والدین نے اس وقت کے آرمی یف جنرل راحیل شریف، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان، خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلٰی پرویز خٹک، کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام اور وفاقی سیکرٹری داخلہ اختر علی شاہ کو بھی غفلت کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔دورانِ سماعت سانحے می شہید ہونے والے بچوں کے والدین کا مؤقف تھا کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو تو سزائیں دی گئیں، لیکن غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں اس سے قبل بھی امن کی خاطر کالعدم تنظیموں سے براہ راست مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ تاہم ان کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران تحریک طالبان نے ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں 100 سے زائد حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے جس میں زیادہ نشانہ سیکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہی بنایا گیا ہے۔ لہذا ان حالات میں اگر حکومت جی ڈی پی کے لیے عام معافی کا اعلان کرتی ہے تو اس سے ریاست پاکستان کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور دہشت گرد اسے اپنی جیت سے تعبیر کریں گے۔
