میر حاصل بزنجو کون تھے؟

بلوچ قوم کے حقوق کے لیے ساری عمرجدوجہد کرنے والے میر حاصل بزنجونے 1958 میں ضلع خضدار کی تحصیل نال میں بلوچستان کے سابق گورنر میرغوث بخش بزنجو کے گھر میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مڈل ہائی اسکول نال سے حاصل کی۔ جب ان کے والد کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا، اس وقت وہ ساتویں جماعت میں تھے۔ ان کا خاندان کوئٹہ آگیا، جہاں انہوں نے اسلامیہ ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔ 1977ءمیں میٹرک کرنے کے بعد 1979ءمیں گورنمنٹ کالج کوئٹہ سے انٹر کیا ۔80 ءکی دہائی میں کراچی چلے گئے جہاں جامعہ کراچی سے آنرز کرنے کے بعد فلسفے میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔
8 اگست1988ءکو شادی ہوئی، ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ ان کے تین بھائی تھے۔ حاصل بزنجو کھیلوں میں فٹبال اور والی بال میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فلم بینی اور موسیقی کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول ”73ءسے76ءتک جتنی بھی پاکستانی فلمیں بنیں، وہ سب دیکھیں ۔“۔ وحید مراد، ندیم، شبنم اور محمد علی ان کے پسندیدہ اداکا رہیں۔ احمد رشدی، سہل لتا، مکیش اور کشور کمار سننا پسند کرتے ہیں۔ کتابوں میں تاریخ اور سوانح پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ مارکس اور لینن کی شخصیت سے متاثر ہیں۔
حاصل بزنجو کے آباﺅ اجداد سات پشتوں سے بلوچستان میں آباد ہیں۔ ان کے داد فقیر محمد بزنجو، محراب خان کے زمانے میں (مکران ڈویژن میں ) 40سال تک خان آف قلات کے نائب رہے ۔ اس زمانے میں نائب کی حیثیت گورنرکے مساوی ہوتی تھی۔
حاصل بزنجو نے 70ءکی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔1972ءمیں بی ایس او نال زون کے صدر اوربعدمیں تنظیم کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 1987ءمیں بی ایس او اور بی ایس او عوامی کے اتحاد کے خلاف تنظیم سے علیحدگی اختیار کی۔ حاصل بزنجو جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف تشکیل دیے جانے والے قوم پرست اور ترقی پسند طلباءکے اتحاد یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس موومنٹ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں ۔1985ء تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی ) میں متحرک رہے۔ 1988ءمیں پاکستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور نال سے انتخابات میں حصہ لیا ۔1989ءمیں والد کی وفات کے بعد پاکستان نیشنل پارٹی کی سرگرمیوں میں زیادہ فعال ہو گئے جس کی قیادت ان کے بڑے بھائی میر بیزن بزنجو نے سنبھالی۔ بیزن بزنجو 1990ءکے عام انتخابات قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب ہوئے بعد ازاں ایک نشست چھوڑ دی جس پر حاصل بزنجو نے انتخاب لڑا اور پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1996ءمیں حاصل بزنجو پاکستان نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہوئے ۔
1997ءکے عام انتخابات میں وہ دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومت کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں انہیں کچھ عرصہ قید بھی کاٹنی پڑی۔ 2002ءمیں ان کی پارٹی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کا الحاق ہوا اور نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر حاصل بزنجو منتخب ہوئے۔ پارٹی کے پہلے کنونشن میں جنرل سیکرٹری اور دوسرے کنونشن میں سینئر نائب صدر منتخب ہوئے۔
2009ءمیں بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے ۔ان کی جماعت نیشنل پارٹی نے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے فروری 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن 2009 میں سینیٹ کے انتخاب میں نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔
حاصل بزنجو وفاق میں مسلم لیگ نواز کے حامی اور مضبوط اتحادی رہے ہیں۔ سنہ 2013 کے انتخابات میں ان کی جماعت نے مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد کیا۔ جبکہ 2014 میں نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہونے کے بعد حاصل بزنجو کو 2015 میں بندرگاہ اور شپنگ کی وزارت ملی تھی۔انھوں نے سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب بھی لڑا تھا، اور جب صادق سنجرانی کو بطور چیئرمین منتخب کیا گیا تھا تب حاصل بزنجو نے اسمبلی کے فلور پر اس فیصلے کی بھرپور مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ‘ایوان سے بھی بڑی کسی طاقت نے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کیا ہے۔’
سینیٹ انتخابات کے نتائج میں ناکامی کے بعد مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار حاصل بزنجو نے اپنی شکست پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے مرکزی انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مبینہ عمل دخل کے حوالے سے الزام عائد کیا تھا۔
میر حاصل بزنجو 1990 کی دہائی سے مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کے اتحادی رہے جبکہ نظریاتی طور پر وہ ترقی پسند سیاست کے وارث ہیں۔ میر حاصل بزنجو کا اس سیاسی اتحاد پر کہنا تھا کہ ‘یہ محض اتفاق ہے۔”جب ہم جیتے تو نواز شریف بھی جیتے، جب وہ ہارے تو ہم بھی ہارے۔ اس لیے اپوزیشن میں بھی ان کے ساتھ رہے اور حکومت میں بھی ساتھ رہے۔ لیکن موجودہ وقت میں نواز شریف کی مسلم لیگ کافی اینٹی اسٹیبشلمنٹ موقف اختیار کرچکی ہے۔ یقیناً اس کو لبرل یا پروگریسو جماعت نہیں کہہ سکتے۔ لیکن اسے کسی لبرل خانے میں داخل کرنا ہوگا۔’
میر حاصل بزنجو کے والد میر غوث بخش بزنجو تحریک بحالی جمہوریت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ رہے۔ انھوں نے لیاری سے گرفتاری بھی پیش کی تھی لیکن بعد میں دونوں جماعتوں میں فاصلہ پیدا ہو گیا۔حاصل خان بزنجو نے ایوان میں کئی بار بلوچستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ریاست نے وہاں کئی ناانصافیاں کی ہیں جس کے نتیجے میں وہاں پیدا ہونے والی شورش میں کمی نہیں آرہی ہے۔’ میر حاصل نے زمانہ طالب علمی سے سیاست کا آغاز کیا تھا، وہ کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے اور جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں ایک بار ایک گروہ کے حملے میں زخمی بھی ہوئے تھے۔
سینیٹ انتخابات کے نتائج میں ناکامی کے بعد مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار حاصل بزنجو نے اپنی شکست پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے مرکزی انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مبینہ عمل دخل کے حوالے سے الزام عائد کیا تھا۔میر حاصل بزنجو نے پاکستانی فوج کے مرکزی انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مبینہ عمل دخل کے حوالے سے الزام عائد کرنے کے بعد بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ماضی کے ٹریک ریکارڈ کی بات کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ نے آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) دیکھی، آپ نے جنرل حمید گل کو دیکھا، آپ نے اسد درانی کو دیکھا۔ اصغر خان کیس سب کے سامنے ہے۔ فیض آباد دھرنے کے جو ویڈیو کلپ سامنے آئے وہ بھی لوگوں نے دیکھے۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کو جس طرح نکالا گیا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے جن کمنٹس پر ٹرائل ہو رہا ہے، ان تمام کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے۔”میں نے جو بات کی ہے اس کا جواب عدالت کو دوں گا اور مجھے تین عدالتوں میں بلایا گیا ہے۔ میں نے ادارے کی بات نہیں کی، سربراہ کی بات کی ہے۔ میں نے جنرل فیض کی بات کی تھی۔’
تاہم بلوچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والا میر حاصل بزنجو 20 اگست 2019 کے روز کینسر کے ہاتھوں موت کا شکار ہو گیا۔
