’’میڈ اِن پاکستان‘‘ ہوم اپلائنسز کی عدم دستیابی کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

ملک میں ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ ہوم اپلائنسز کی عدم دستیابی کی بڑی وجہ ڈالر کی بڑھتی قیمتیں، ایل سییز پر پابندی کو قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ میڈ ان پاکستان ہوم اپلائنسز میں صرف 20 سے 30 فیصد پرزہ جات پاکستانی ہوتے ہیں جبکہ 70 فیصد سامان بیرون ممالک سے منگوا کر اسمبل کیا جاتا ہے۔
حمیرا بیگ حال ہی میں جب کراچی کی الیکٹرانکس مارکیٹ میں اپنے شوہر کے ساتھ گھر کے لیے نیا فریج خریدنے پہنچیں تو ان کی نظرین ایک مخصوص کمپنی کے خاص سائز کے فریج کو تلاش کر رہی تھیں، حمیرا نے جب اس کمپنی کے فریج کے بارے میں دکاندار سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اُن کا مطلوبہ فریج فی الحال الیکٹرانکس مارکیٹ میں شارٹ ہے اور اُن کی دکان پر دستیاب نہیں ہے۔
دوسری جانب کراچی کی الیکٹرانکس مارکیٹ میں ہوم اپلائنسز کی دکان کے مالک شجاعت اللہ اس وقت حمیرا بیگ سے بھی زیادہ فکر مند ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شجاعت کی دکان سے ہر روز بہت سارے گاہک صرف اس لیے خالی ہاتھ واپس جاتے ہیں کیونکہ ان کی مطلوبہ ہوم اپلائنسز مارکیٹ میں شارٹ ہیں اور دستیاب نہیں ہو پا رہیں۔
کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایسشن کے صدر رضوان عرفان کے مطابق اس وقت ہوم اپلائنسز کی فروخت 30 فیصد تک گری ہوئی ہے جس کی وجہ ان کی کم سپلائی کے ساتھ ان کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔
پاکستان میں تیار اور فروخت ہونے والی بیشتر ہوم اپلائنسز جیسا کہ ریفریجریٹر، ڈیپ فریرز، واشنگ مشین، اے سی، ٹی وی، واٹر ڈسپنزر، مائیکرو ویو اون وغیرہ پر اکثر ’میڈ ان پاکستان‘ کا لیبل چسپاں ہوتا ہے جس کا بظاہر یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ یہ چیزیں مقامی سطح پر پاکستان ہی میں تیار کی گئی ہیں۔
تاہم رضوان عرفان کہتے ہیں کہ بظاہر تو ان پر ’میڈ ان پاکستان‘ کا لیبل ہوتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مصنوعات صرف پاکستان میں اسمبل ہوتی ہیں جبکہ ان میں استعمال ہونے والے زیادہ تر پارٹس باہر سے درآمد ہوتے ہیں۔
پاکرا کی ریسرچر ثانیہ توصیف کے مطابق پاکستان میں ریفریجریٹر کی پیداوار میں لوکلائزیشن 20 سے 25 فیصد ہے، ثنا کے مطابق اسی طرح اے سی کی تیاری میں بھی لوکلائزیشن 20 سے 25 فیصد، ڈیپ فریرز میں پانچ سے دس فیصد، واٹر ڈسپنسرز میں 20 سے 25 فیصد، ایل ای ڈی ٹی وی میں فقط دو سے پانچ فیصد اور واشنگ مشین میں لوکلائزیشن 20 سے 25 فیصد ہے۔
پاکستان میں الیکٹرانکس مصنوعات تیار کرنے والے صنعتی اداروں کی نمائندہ تنظیم ’پاکستان الیکڑانکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن‘ کے سیکریٹری جنرل تصور حنیف کے مطابق الیکٹرانکس مصنوعات پر لکھا تو ’میڈ ان پاکستان‘ ہوتا ہے مگر چونکہ حقیقت میں 100 فیصد ایسا نہیں کیونکہ ان مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے پارٹس یا تو باہر سے درآمد ہوتے ہیں یا پھر ان کی پاکستان میں تیاری کے لیے خام مال باہر سے منگوایا جاتا ہے، اسی لیے جب درآمدات میں مشکلات ہوں گی تو ’میڈ اِن پاکستان‘ ہونے کے دعوے کے باوجود مسائل پیش آئیں گے۔
تصور حنیف نے ہوم اپلائنسز کی سپلائی میں کمی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں پیداوار کا سب سے بڑا مسئلہ ہوم اپلائنسز کی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال اور پارٹس کی کمی ہے جو پاکستان میں درآمدات کی ایل سیز کھولنے میں مشکلات کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔اس شعبے سے منسلک ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہوم اپلائنسز انڈسٹری میں کم لوکلائزیشن کی بنیادی وجہ تکنیکی اور مالیاتی مسائل رہے ہیں جن میں ٹیکنالوجی اور مالیاتی طور پر ان کا پاکستان میں قابل عمل نہ ہونا ہے۔
عاصم ایاز نے اس سلسلے میں بتایا کہ کسی انڈسٹری میں لوکلا ئزیشن کے لیے بڑے حجم پر فروخت کی ضرورت ہوتی ہے تب ہی لوکلائزیشن مالی طور پر قابل عمل ہو پاتی ہے۔دوسری جانب تصور حنیف نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ کمپریسر کے علاوہ دوسرے پارٹس اور ہوم اپلائنسز کی باڈی بنانے میں استعمال ہونے والا خام مال بھی پاکستان میں نہیں بنتا اس لیے اسے باہر سے منگوانا مجبوری ہے۔
ثانیہ کے مطابق ہوم اپلائنسز کے شعبے میں پاکستان میں ’اسمبلنگ‘ ہوتی ہے نا کہ ’مینوفیکچرنگ ۔اس سلسلے میں حکومتی ادارے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ترجمان عاصم ایاز نے کم لوکلائزیشن کے باوجود ’میڈ ان پاکستان‘ لکھے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مارکیٹ کا سائز بڑھ رہا ہے بہت سارے پارٹس میں لوکلائزیشن کی جا سکتی ہے، اگرچہ یہ مصنوعات پاکستان میں اسمبل ہوتی ہیں تاہم پھر بھی یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ انھیں مکمل بلٹ اپ (سی بی یو) کی صورت میں پاکستان میں درآمد کیا جائے۔

Back to top button