میں نے بھنگ کی فیکٹری لگانے کا اعلان کیا تھا، چرس کی نہیں

مسلم لیگی رہنما رانا ثناءاللہ خان کو منشیات کا بڑا اسمگلر ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے اور پھر خدا کی جھوٹی قسمیں کھانے والے وزیر منشیات کنٹرول شہریار آفریدی نے اب یہ انکشاف کیا ہے کہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی ذاتی خواہش پر خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں چرس کی فیکٹری لگا رہی ہے جس سے ادویات بنیں گی۔ تاہم سوشل میڈیا پر اپنی تقریر وائرل ہونے اور تنقید کی زد میں آنے کے بعد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے وادی تیراہ میں ایک بھنگ کی فیکٹری لگانے کا اعلان کیا تھا، چرس کی نہیں اور ان کے اس اعلان کو غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ تاہم شہریار آفریدی یہ ہوشربا اعلان کرتے وقت بھول گئے کہ چرس بھی بھنگ ہی سے بنتی ہے اور یہ کہ ان کے پاس انسداد منشیات کی وزارت ہے فروغ منشیات کی نہیں۔
یاد رہے کہ کپتان کی خواہش پر چرس کی فیکٹری لگانے کا بڑا اعلان شہریار آفریدی نے ایک تقریر میں کیا جس کی ویڈیو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ ’جان اللہ کو دینی ہے‘ کے تکیہ کلام سے معروف شہریار آفریدی اس ویڈیو میں قبائلی عوام سے مخاطب ہو کر انہیں بتا رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں چرس سے دوا بنانے کی فیکٹری کھولی جائے۔ اس ویڈیو میں آفریدی کو لوگوں سے پشتو زبان میں خطاب کرتے دکھایا گیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ‘حکومت، وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر ایک فیکٹری بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ چرس کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیکٹری میں چرس سے دوا تیار کی جائے گی کیونکہ ہم ہر سال بڑی مقدارمیں ہیروئن، چرس اور افیون پکڑتے ہیں اور پھر اسے جلادیتے ہیں۔’ انہوں نے کہا کہ ‘دیگر ممالک چرس سے ادویات تیار کرتے ہیں اور ہم اسے جلا دیتے ہیں، آفریدی نے بتایا کہ چرس فیکٹری کے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے، اور اللہ کے فضل سے ہم منشیات سے دوا بنانے کی فیکٹری تیراہ میں لگائیں گے۔ وزیرمملکت کے خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے اور صارفین کی جانب سے تنقید کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
دوسری جانب وزیرمملکت شہریار آفریدی نے وائرل ویڈیو پر ردعمل میں کہا ہے کہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات کے ساتھ وائرل ہے، میں کوہاٹ میں اپنے قبائلی عوام کو بتارہا تھا کہ حکومت تیراہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں نامیاتی دوائیں بنانے کے کارخانے لگائے گی۔ حالانکہ اپنی وائرل ویڈیو میں وہ واضح طور پر چرس کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔
آفریدی نے مزید کہا کہ ہم بھنگ سے نکلنے والے والے ہیمپ آئل نامی تیل کی فیکٹریاں لگائیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے سیاسی مخالفین کے میڈیا سیل کے پاس اب جھوٹ بیچنے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ میں نے بھنگ کے تیل کی بات کی تھی اور انہوں نے اسے چرس بنا ڈالا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شہریار آفریدی کی نظر میں بھنگ اور چرس میں بھی اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ ویڈیو اور فوٹیج میں ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل شہریار آفریدی نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر ان سے منشیات برآمد گی کے ویڈیو ثبوت ہونے کا دعوی کیا تھا اور بعد میں بولے کہ میں نے تو فوٹیج کی بات کی تھی ویڈیو کی نہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں بھنگ کے تیل کی بات کی تھی، چرس کی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button