نئے ڈی جی ISIسر پھری پی ٹی آئی کو پٹو کیسے ڈالیں گے؟

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو اپنا عہدہ چھوڑتے وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والی تحریک انصاف سے نمٹنے کا تھا۔ اب لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ریٹائر ہو چکے ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے ان کی جگہ بھی لے لی ہے لیکن تحریک انصاف سے نمٹنے کا چیلنج جوں کا توں موجود ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بے دخلی کے بعد جنرل قمر جاوید باجوا کے علاوہ جنرل ندیم انجم کو بھی نشانے پر لے لیا تھا اور مسلسل ان پر الزامات کی بارش کر رہے تھے۔ ایسے میں جنرل ندیم انجم نے عمران خان کے فوج مخالف بیانیے کو کاؤنٹر کرنے کی خاطر اپنے مزاج کے برعکس ایک پریس کانفرنس بھی کر ڈالی تھی۔
چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹننٹ جنرل عاصم ملک عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے فوج مخالف بیانیے کو کس طرح کاؤنٹر کریں گے۔ عاصم ملک کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں خفیہ ایجنسیوں کے سیاست میں کردار اور شہریوں کی نگرانی جیسے معاملات پر بحث ہو رہی ہے، لہٰذا انہیں ایسے الزامات سے نمٹنے کا چیلنج بھی درپیش ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا کردار پاکستان میں سب سے الگ ہے، وہ عسکری اور سویلین قیادت دونوں کےلیے قومی سلامتی کے معاملات پر ڈی فیکٹو مشیر ہیں اور دونوں ہی ان کی معلومات، تجزیوں اور رائے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان کو ان معاملات میں جہاں آئی ایس آئی کا کردار ہے وہیں اندرونی اور بیرونی دونوں ہی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے اہم امریکہ اور چین ہیں جن کے ساتھ پاکستان کی خواہش ہو گی کہ اس کے سکیورٹی اور معاشی تعلقات بہتر ہوں، اسی طرح انڈیا کا بڑی مغربی قوتوں کے ساتھ گہرا ہوتا ہوا تعلق ہے بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انڈیا کی کوشش ہے کہ اسے سلامتی کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت ملے، اس کے علاوہ وہ نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا حصہ بننے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ لہٰذا نئے ڈی جی آئی ایس آئی کو یہ تمام چیلنجز درپیش ہوں گے۔ آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے لیے ایک اور بڑا چیلنج افغانستان میں طالبان کی قیادت کو قائل کرنا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی پشت پناہی بند کر دے جو کہ اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ چیلنج لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کے لیے کافی مشکل ہوگا چونکہ جنرل فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس آئی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنائے ہوئے تھے۔
عاصم ملک 30 ستمبر 2024 کو اپنا نیا عہدہ سنبھالیں گے۔ وہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی جگہ لیں گے جنھیں چھ اکتوبر2021 کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا، تاہم گذشتہ برس نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دی تھی۔ پاکستان آرمی کی بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے اعزازی شمشیر کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ وہ امریکہ کے فورٹ لیون ورتھ آرمی کالج کے علاوہ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے بھی فارغ التحصیل ہیں۔
یہ وہی برطانوی کالج ہے جہاں سے پاکستان کی برّی فوج کے سابق سربراہان پرویز مشرف، اشفاق کیانی اور راحیل شریف بھی کورس کر چکے ہیں۔انہیں بلوچستان کے امور پر دسترس رکھنے والے افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اپنے عسکری کریئر میں انہوں نے دالبندین میں 41 ویں انفنٹری ڈویژن کی کمان کے علاوہ وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کی کمان بھی سنبھالی۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ’وار ونگ‘ کے چیف انسٹرکٹر اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں بھی بطور انسٹرکٹر تعینات رہ چکے ہیں۔ عاصم ملک ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز کے عہدے پر بھی کام کر چکے ہیں اور بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔
یہ ادارہ پاکستان کی فوج میں ڈسپلن اور ویلفیئر کا ذمہ دار ہے۔ جب فیض حمید کے کورٹ مارشل سمیت فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی کے معاملات سامنے آئے تو ان کی تحقیقات ایڈووکیٹ جنرل کے ماتحت جج ایڈجوٹنٹ جنرل برانچ نے ہی کی جس کی سربراہی عاصم ملک کے پاس تھی۔
نئے ڈی جی آئی ایس آئی فورٹ لیون ورتھ آرمی کالج کے علاوہ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے بھی فارغ التحصیل ہیں
ماضی کی کنگ میکر MQM اب ہر حکومت کا ٹٹو کیوں بن جاتی ہے؟
لیفٹینٹ جنرل عاصم ملک فوج میں ایک بااصول اور ڈسپلن کے پابند لیکن اہلکاروں اور شہداء کے لواحقین کے تئیں ہمدرد افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف جنرل عاصم نظم و ضبط کے پابند افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، وہیں انہیں ایک ہمدرد شخصیت بھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ بطور ایڈجوٹنٹ جنرل ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں اور شہداء کے اہل خانہ سے متعلق معاملات میں نرمی اختیار کرتے رہے ہیں جب کہ ایسے معاملات میں جہاں مسئلہ ادارہ جاتی اور انضباطی شکایت کی بجائے انسانی غلطی کا رہا ہو، انہوں نے اہلکاروں کو ریلیف بھی دیا ہے۔‘
عاصم ملک نے گذشتہ سال پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری لانے کےلیے بنائے گئے منصوبے ’ایس آئی ایف سی‘ کے تحت ملک میں زرعی اصلاحات کےلیے ’گرین انیشیئیٹو‘ پروگرام کی منصوبہ بندی کی اور بحیثیت ایڈجوٹنٹ جنرل اس کے منتظم رہے ہیں۔ ایک فوجی افسر کا کہنا تھا کہ ’جدید زرعی اسکیم اور ایس آئی ایف سی کے زیرِ انتظام مختلف منصوبوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں جنرل عاصم ملک کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ وہ گرین انیشیئیٹو منصوبوں پر عملدرآمد کے ابتدائی مراحل میں اس کی نگرانی کر رہے تھے اور اسٹریٹجک فارمنگ کے منصوبے میں بھی ان کا مرکزی کردار تھا۔‘
لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کا تعلق ایک عسکری خاندان سے ہے اور ان کے والد لیفٹیننٹ جنرل (ر) جنرل غلام محمد ملک 90 کی دہائی کے اوائل میں راولپنڈی کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ایک ناکام فوجی بغاوت ہوئی تھی جس پر میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی، بریگیڈیئر مستنصر باللہ سمیت متعدد افسران کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل بھی ہوا تھا۔
