نااہلی کی مدت 5 سال مقرر، بل سے اصل فائدہ کسے ہو گا؟

قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور کر لیا ہے جس کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی ختم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ یہ بل سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے اور صدر مملکت عارف علوی کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران قائم مقام چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بل پر دستخط کریں گے جس کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو گا۔منظور کیے گئے بل کے مطابق جس جرم کی سزا کی مدت کا تعین نہیں وہاں نااہلی پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔عدالتی فیصلے، آرڈر یا حکم کے تحت سزا یافتہ شخص فیصلے کے دن سے پانچ سال تک کے لیے نااہل ہو سکے گا، آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت پانچ سال سے زیادہ کی نااہلی کی سزا نہیں ہو گی۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جولائی 2017 میں نااہل قرار دیا گیا تھا اور اُن کی نااہلی کی پانچ سالہ مدت 2022 میں پوری ہو چکی ہے۔
نئے قانون کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صدر اور صوبائی گورنرز سے لے کر الیکشن کمیشن کو دے دیا گیا ہے۔الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 کے مطابق الیکشن کمیشن نئے شیڈول اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا۔
خیال رہے کی یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب صدر ملکت عارف علوی حج کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور اس وقت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی قائم مقام صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔صدر کی غیر موجودگی میں اس بل پر قائم مقام صدر کے دستخط ہونے سے یہ قانون فوری طور پر لاگو ہو جائے گا۔
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ قومی اسمبلی سے بھی نااہلی کی سزا پانچ سال کرنے کا قانون منظور ہونے کے بعد اصل میں کس کس کو فائدہ ہوگا؟
الیکشن ایکٹ اصلاحات بل کی سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد کہا جارہا ہے کہ اس قانون کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن اِن چیف جہانگیر ترین کو ہوگا جن کی تاحیات نااہلی ختم ہونے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل پانامہ لیکس کیس میں نواز شریف اور برطانیہ میں آف شور کمپنیاں ظاہر نہ کرنے کے الزام میں نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر تاحیات نااہل کردیا گیا تھا۔نواز شریف کو متحدہ عرب امارات میں موجود ان کے بیٹے کی کمپنی کے بطور ڈائریکٹر لکھی جانے والی تنخواہ کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔اس فیصلے کے بعد احتساب عدالت کو نواز شریف، مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمہ چلانے کا کہا گیا تھا جس میں احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے مطابق نواز شریف کو دس سال کی سزا سنائی گئی تھی۔مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو ملنے والی سزا اسلام آبادہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دی تھی جب کہ جہانگیرترین کو دسمبر 2017 میں ان کی برطانیہ میں موجود آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔
مسلم لیگ(ن) کے حنیف عباسی کی طرف سے دائر درخواست میں جہانگیرترین اور عمران خان کے خلاف پٹیشن فائل کی گئی تھی لیکن اس میں عمران کو صادق اور امین جبکہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ معلومات بھی سامنے آئی تھیں کہ جہانگیرترین کو بیلنسنگ ایکٹ کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
نئے قانون کی منظوری کے حوالے سے سیاسی تجزیہ کاراور کالم نگار سلمان عابد کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست کا المیہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کی حمایت میں سیاسی انجنئیرنگ کا کھیل کھیلا ہے۔ اس میں اسٹیبلشمنٹ اولین کردار ادا کرتی ہے۔ کبھی کسی کو ملک سے نکالتے ہیں، کبھی کسی کو نااہل کرتے ہیں اور کبھی نااہلی ختم کرنے کے لیے قوانین بناتے ہیں۔ان کے بقول نواز شریف کا معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے عدالتوں کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا وہ عدالتوں کو مطلوب تھے اوراشتہاری تھے۔ اب یہ قانون سازی ہورہی ہے تو یہ بھی سیاسی انجینئرنگ کا حصہ ہے۔
سلمان عابد کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ سیاسی تنہائی میں نہیں ہورہا بلکہ یہ ایک بڑے سیاسی گیم پلان کا حصہ ہے جس میں عدلیہ، میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک کھیل ہے جو قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں بلکہ سیاسی تقاضوں کے مطابق ہورہا ہے۔ان کے مطابق ماضی میں انہی کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ انہیں سیاست سے الگ کرنا ہے، یہ درست ہے یا غلط یہ الگ معاملہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کب تک پاکستان میں سیاست کے فیصلے ایسے کیے جائیں گے؟
سلمان عابد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی اس قدر آسان بھی نہیں ہے کیوں کہ ان کے خلاف کیسز بدستور موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کہا جارہا تھا کہ لیول پلئینگ فیلڈ مہیا کی جائے لیکن اس وقت جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہورہا ہے اس کے مطابق انہیں لیول پلئینگ فیلڈ مہیا نہیں کیا جارہا اور ان کے خلاف سیاسی اور قانونی کارروائیاں کر کے انہیں نااہل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
