نادیہ جمیل کو مشکل وقت میں سوشل میڈٰیا نے کیسے سہارا دیا؟

معروف اداکارہ نادیہ جمیل نے انکشاف کیا ہے کہ مشکل وقت میں سوشل میڈیا مداحوں کی دعائوں نے سہارا دیا، نادیہ آج کل ٹی وی سکرین پر ایک اہم کردار میں نظر آ رہی ہیں، وہ ڈرامہ سیریل ’خوشبو میں بسے خط‘ میں ڈاکٹر عدیلہ کا کردار نبھا رہی ہیں۔ ایک پڑھی لکھی، خود مختار خاتون ہونے کے باوجود عدیلہ اپنے شوہر کی زیادتیاں برداشت کرتی ہے۔بی بی سی اُردو سے خصوصی گفتگو میں نادیہ نے بتایا کہ عدیلہ کے کردار سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا، اس کردار میں ایک تحمل، ٹہراؤ اور وقار تھا۔ جو مجھ سے بالکل برعکس ہے ’میں بے ہنگم بولنے والی شخصیت ہوں، یہ کردار میرے دل کے بہت قریب ہے۔ لائف کوچ ہونے کی وجہ سے میرے بہت سارے کلائنٹ بھی اس چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس سے نکلنا چاہتے ہیں، ڈرامے میں نادیہ اداکار عدنان صدیقی کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدنان کے ساتھ کام کر کے انھیں کافی مزہ آیا۔ پچھلے کچھ سالوں کے دوران نادیہ سکرین پر نظر نہیں آئیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ 2020 میں نادیہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی۔ اس وجہ سے وہ پہلے کی طرح کام نہیں کر رہی تھیں۔سکرین پر واپسی کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’واپس آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ ’کیموتھراپی کے اثرات دو سال تک رہتے ہیں اور یہ تیسرا سال چل رہا ہے۔گرمیوں کے دنوں کی شوٹننگ میرے لیے چیلنجنگ تھی۔ جو ادویات میں کھا رہی ہوں ان کی وجہ سے میرا باڈی ٹمپریچر بڑھا ہوا رہتا ہے۔ اسی لیے گرمیوں میں کام کرنا تھوڑا مشکل رہا۔ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان 76 سال پرانا ملک ہے اور اس کی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی صفر ہے، ہم اپنی حقیقی اور ڈرامائی زندگی دونوں میں بچّوں کو نظر انداز کرتے ہیں، تکلیف ایک بہت خوبصورت استاد ہے، اس سے یا تو آپ ڈوب سکتے ہیں یا اُڑ سکتے ہیں، میں ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں پر بہت پیار و محبت سے میری پرورش ہوئی۔ میرے اردگرد بے انتہا پیار تھا۔ لیکن زندگی میں جنسی تشدد کے حوالے سے کچھ ایسے حادثے اور واقعات رونما ہوئے جس کی وجہ سے میری دماغی صحت بہت زیادہ متاثر ہوئی۔نادیہ نے بتایا کہ ان کی عمر 17 برس تھی جب انھوں نے بچوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔مجھے بچوں کے ساتھ کام کر کے تھوڑا سکون ملتا تھا۔ کینسر کی تشخیص کے بعد انھیں سٹیرایڈز سے منسلک ذیابیطس ہو گئی اور اُس وقت اُن کی حالت بہت خراب رہی، کچھ وقت میں کومے اور وینٹیلیٹر پر رہی۔ بعد ازاں جب میں ہوش میں واپس آئی تو مجھے بہت زیادہ کمزوری ہو گئی تھی۔ جب کبھی میں کسی ویڈیو کے دوران اُلٹے ہاتھ سے کچھ کھا رہی ہوتی ہوں تو اس پر مجھے اتنے بُرے الفاظ اور باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ میرے بیٹے پریشان ہو جاتے ہیں، نادیہ کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا ایک بہت خوبصورت جگہ ہے لیکن بات وہی ہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔

Back to top button