کیا گاڑی میں پڑا بوتل کا پانی کینسر کا موجب بن سکتا ہے؟

ہم اپنے معمولات زندگی میں چھوٹی چھوٹی عادات تبدیل کر کے بڑی بیماریوں سے بچائو کو ممکن بنا سکتے ہیں، متوازن غذا، پانی کے بہتر استعمال اور ورزش سے صحت مند زندگی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔پانی کی ایک پلاسٹک بوتل میں تقریباً دو لاکھ 40 ہزار نینو پلاسٹک اور 240 سے 300 کے آس پاس مائیکرو پلاسٹک کے ذرات ہوتے ہیں جو آپ کے اندر جاتے ہیں، گاڑی میں پڑی ہوئی گرم پانی کی بوتل سے پانی پی لینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے کینسر ہونے کا امکان نہیں ہے۔کینیڈین کینسر سوسائٹی نے اس بارے میں لکھا کہ ’پلاسٹک والی پانی کی بوتلوں کا پانی جو منجمد یا زیادہ گرم ہوتا ہے، اسے پینے سے کینسر کا خطرہ نہیں بڑھتا۔ہاں ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ’ڈسپوزایبل پانی کی بوتلوں کو ایک سے زیادہ بار استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے، اگر انہیں اچھی طرح سے صاف اور خشک نہ کیا جائے۔کینسر سوسائٹی نے مزید واضح کیا کہ ’کینسر کے کسی بھی خطرے کے بغیر، پلاسٹک کی بوتلوں سے پانی پینا محفوظ ہے یہاں تک کہ جب بوتل کو گرم کاروں میں چھوڑ دیا گیا ہو، منجمد کیا گیا ہو یا دوبارہ استعمال بھی کیا گیا ہو۔ اس بات سے اختلاف کرنے کے لیے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔مجموعی طور پر، پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی، پینے کے لیے محفوظ ہے. دھات یا شیشے کی بوتلوں میں بھی پانی اتنا ہی محفوظ ہوتا ہے۔ اس ساری تحقیق کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ نئی پانی کی بوتل گاڑی میں پڑی پڑی گرم ہو گئی ہو تو بغیر کسی خطرے کے اسے پیا جا سکتا ہے۔مائیکرو پلاسٹک کا ذرہ ایک انسانی بال سے 70 فیصد مزید باریک ہو سکتا ہے جب کہ نینو پلاسٹک کا ایک ذرہ کتنا چھوٹا ہوتا ہے؟ ایک مائیکرو میٹر سے بھی کم، یعنی سمجھ لیں اس کا لاکھواں حصہ۔اب یہ نینو اور مائیکرو پلاسٹک آپ کے گردوں، جگر، خون ہر جگہ گھومے گا۔ خون میں ہے تو پورے جسم تک اس کی رسائی ہے، ماں کے دودھ تک میں سائنس دانوں نے اسے ٹریس کر لیا ہے۔ پلاسٹک کے ان ذروں سے کیا بیماریاں ہو سکتی ہیں، ان پر فی الحال اس وقت سائنس کا بہت کام باقی ہے۔پلاسٹک سے بالکل جان چھڑانی ہے تو پھر مٹی کے گھڑے اور سٹیل کے برتن زندہ باد، ابالیں اور ٹھنڈا کر کے پرانے زمانوں کی طرح استعمال کریں۔
