نا اہلی کے باوجود عمران کی لانگ مارچ میں تاخیر کیوں؟


توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے بعد عمران خان نے جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان تو کر دیا ہے مگر جو سوال کپتان کےعمرانڈوز اور یوتھیوں کو تنگ کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ خان صاحب اب مزید تاخیر کیوں کر رہے ہیں جب کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اب پی ٹی آئی بھرپور قوت سے سڑکوں پر سیاسی میدان سجائے گی اور لانگ مارچ کا اعلان ہو گا۔ لیکن ایک مرتبہ پھر ایسا نہیں ہو پایا۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے سے قبل بہت سے پارٹی رہنماؤں نے اپنی پریس کانفرنسز اور سوشل میڈیا پر عمران کو اپنی ریڈ لائن قرار دیا تھا۔ انکی نااہلی کا فیصلہ آنے کے فوری بعد متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنےعوام سے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا کہا۔فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے باہر ہی ‘اس نظام کو پلٹنے’ کی دھمکی دی جبکہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اب عوام پیچھے ہٹنے کو کسی صورت تیار نہیں ہے۔ مگر پھر پی ٹی آئی نے پارٹی اجلاسوں کے بعد اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے بڑے پیمانے پر ردعمل دینے کی بجائے قانونی راہ اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔ مگر جہاں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد یہ ابہام رہا کہ عمران کی نا اہلی کتنی مدت کی ہے وہیں عوامی حلقوں میں یہ بات بھی زیر بحث رہی کہ خان نے جمعے کی شام کو اپنے کارکنان کو احتجاج ختم کرنے کی ہدایت کیوں کی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سنیئر رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ پارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے، عمران اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور کسی اور کے ٹائم ٹیبل کے مطابق فیصلے کرنے کو تیار نہیں۔ ان کی تیاری چل رہی ہے اور وہ اپنے طے شدہ وقت پر ہی لانگ مارچ کریں گے۔ انھیں کسی اشارے یا ڈیل کا انتظار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد پارٹی میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمران کو کہا کہ اس وقت عوام بہت جذباتی ہیں لہذا آپ فوراً لانگ مارچ کا اعلان کر دیں مگر عمران نے کہا کہ نہیں، میں اپنے منصوبے کے مطابق چلوں گا اور جذباتی ہو کر فیصلہ نہیں کروں گا۔انھوں نے کہا کہ ہم جلدبازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھےجس سے لانگ مارچ کے اصل مقصد کو نقصان پہنچتا۔

سنیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید عمران خان حکومت کے ساتھ ہونے والے خفیہ مذاکرات کے حتمی نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں۔ عمران نے اگلے روزخود ایک پریس کانفرنس میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے لیکن انہیں نہیں لگتا کہ حکومت فوری الیکشن پر آمادہ ہوگی لہٰذا وہ جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ دیں گے۔ مظہر عباس نے پس پردہ مذاکرات کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شاید عمران لانگ مارچ کا اعلان کرنے میں اس لیے احتیاط برت رہے ہیں کیونکہ وہ ان مذاکرات کےنتیجے کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لانگ مارچ کی ہوا ضرور بنا رہے ہیں مگر وہ اس سے گریز اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ لانگ مارچ کس کے خلاف کریں گے۔ اگر ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے تو عمران اس پر فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ وہ لانگ مارچ کو کس نہج پر لے جائیں گے۔ کیونکہ اگر 25 مئی کی طرح لانگ مارچ ناکام ہو گیا تو پارٹی ورکرز میں بہت زیادہ مایوسی پھیل سکتی ہے۔ ایسے میں حکومت پر دباؤ بنائے رکھنا اور لانگ مارچ کا بھرم قائم رکھنا ان کے حق میں ہے۔

میڈیا پر چلنے والی خبروں میں پس پردہ مذاکرات اور پی ٹی آئی کی جانب سے لچک اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کے سوال پر پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری نے کہا کہ حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کوئی مذاکراتی ٹیمیں ہیں۔ البتہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے انفرادی حیثیت پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ مگر کسی بھی طرح کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ’لانگ مارچ کا اعلان جلد ہو گا، ہم حکومت کو وقت دے رہے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لے ورنہ ہم باہر نکل آئے تو حکومت لاکھوں لوگوں کو سنبھال نہیں سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو نہ کسی اشارے کا انتظار ہے نہ ضرورت، اور اگر شہباز شریف نے اکتوبر کے آخر تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو ہم ملک گیر سطح پر احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیں گے۔لیکن مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عمران الیکشن کمیشن کی جانب سے خود کو نااہل کئے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردہ اپیل کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔

Back to top button