صحافی ارشد شریف کا کینیا میں قتل،سیکریٹری داخلہ و خارجہ کو نوٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ نے معروف صحافی ارشد شریف کے کینیا میں مبینہ قتل کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پرسیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری خارجہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک رپورٹ طلب کرلی ۔
عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر شعیب رزاق کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی ،جس میں استدعا کی گئی کہ کمیشن بنا کر تحقیقات کرائی جائیں کہ ارشد شریف کن حالات میں باہر گئے، سیکیورٹی ایجنسیز کو کینیا کی ایجنسیز سے رابطہ بنا کر تحقیقات کا حکم دیا جائے اورارشد شریف کی میت پاکستان لانے کیلئے اقدامات کا حکم دیا جائے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ارشد شریف کی لاش کہاں ہے؟ بیرسٹر شعیب رزاق نے جواب دیا کہ ارشد شریف کی میت نیروبی میں ہے۔بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل تک واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری خارجہ کو نوٹس جاری کردیا۔
اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے جاری نوٹس میں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے نامزد افسر کو ارشد شریف کی فیملی سے فوری ملاقات کی ہدایت کی گئی۔
معروف اینکر پرسن ارشد شریف کو کینیا میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے، فیملی ذرائع اور ساتھیوں کی جانب سے ارشد شریف کی موت کی تصدیق کی ہے۔
کینین میڈیا میں آنے والے بیان کے مطابق مقامی حکام نے پولیس فائرنگ سے پاکستان کے سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ارشد شریف پر فائرنگ شناخت کی غلطی کے باعث کی گئی۔
کینیا کی پولیس کے مطابق سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف شناخت میں غلطی کے باعث پولیس فائرنگ کا نشانہ بنے، ارشد شریف کی نیروبی مگاڈی ہائے وے پر آمد سے قبل گاڑی چھیننے اور بچے کو یرغمال بنانے کی واردات ہوئی تھی۔ ملزموں کو پکڑنے کے لیے گاڑیوں کی چیکنگ کی جارہی تھی۔ پاکستانی صحافی ارشد شریف اور ان کے ڈرائیور کورکنے کا اشارہ کیا تاہم انہوں نے رکاوٹ کی خلاف ورزی کرکے آگے جانے کی کوشش کی۔
کینیا پولیس کے دعوے کے مطابق پولیس نے ارشد شریف کے نہ رکنے پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ارشد شریف کی موت ہوگئی اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا،ارشد شریف اور ان کے ڈرائیور پر نیروبی میں پولیس نے اتوار کی رات فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ارشد شریف سر پرگولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کینیا کی مقامی پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق ارشد شریف کچھ روز پہلے دبئی سے لندن گئے اور پھر وہاں سے کینیا چلے گئے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا جمہوریہ کینیا کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ولیم روٹو نے صحافی ارشد شریف کے قتل کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ جلد دینے کی یقین دہائی کرائی،ٹیلیفونک رابطے میں وزیراعظم نے کینیا کے صدر سے پاکستانی سینئر صحافی ارشد شریف کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر بات کی، واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات پر زور دیا اور پاکستانی قوم اور میڈیا برادری کی جانب سے واقعے پر شدید تشویش سے کینیا کے صدر کو آگاہ کیا۔
شہباز شریف نےصحافی ارشد شریف کی میت کی جلد وطن واپسی کے لئے ضابطے کی کارروائی جلد مکمل کرنے کی درخواست کی،کینیا کے صدر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے، تحقیقاتی رپورٹ جلد دینے میت کی واپسی کے عمل کو تیز بنانے کی یقین دہانی کرائی.
دریں ثنا وزیراعظم شہباز شریف، صدر ڈاکٹر عارف علوی، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، وزیر خارجہ بلاول بھٹو سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے قتل پر اظہار افسوس کیا ہے
وزیر اعظم شہبا ز شریف نےسماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے صبر جمیل کی دعا کی.
صدر مملکت عارف علوی نے بھی اپنے ٹویٹ میں صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی وفات پاکستان اور صحافت کا بہت بڑا نقصان ہے
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر صحافی ارشد شریف کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا ہے.
ایک ٹویٹ میں عمران خان نےکہاارشد شریف نے سچ بولنے کی آخری قیمت اپنی جان کی صورت میں ادا کی، صحافی ارشد شریف کے قتل پر صدمہ ہوا ہے، آج قوم ارشد شریف کی وفا ت پر سوگوار ہے، ارشد شریف کے بیانات اور شواہد کی جانچ کے لئے عدالتی تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہیے.
وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے صحافی ارشد شریف کے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کا قتل صحافی برادری کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے، ارشد شریف کے قتل کا واقعہ صدمے کا باعث ہے۔انہوں نے ارشد شریف کے ورثاء ، صحافی برادری سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ ارشد شریف قتل کے معاملے پر وزارت خارجہ کینیا کے حکام سے رابطے میں ہیں.
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کینیا میں ارشد شریف کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے، ہم غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر شریک ہیں، واقعے سے متعلق حقائق جاننے کے لئے کینیا کی حکومت سے رابطے میں ہیں، نیروبی میں موجود پاکستانی سفارتخانہ معاملے میں مکمل معاونت کررہا ہے.
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ہائی کمشنر، کینیا کے پولیس حکام اور ڈاکٹرز اس وقت نیروبی میں ڈیڈ ہاؤس میں ہیں، پاکستانی سفیر نے مرحوم ارشد شریف کی شناخت کرلی ہے جس کے بعد اب میت کی واپسی کے لیے قانونی عمل شروع کردیا گیا ہے، ارشد شریف کی وطن واپسی کے لیے ضابطے کی کارروائی کی جارہی ہے، کینیا کے حکام کو ضابطے کی کارروائی جلد مکمل کرنے کی درخواست کی ہے.
امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کا بیرون ملک قتل افسوسناک اور قابل مذمت ہے، مشکل کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندان کےغم میں برابر کا شریک ہوں، انہوں نے دعا کی کہ اللہ مرحوم کےدرجات بلند فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیں، اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق عطاء فرمائے۔
ادھر مسلم لیگ ق کے صدر اور سینئر سیاستدان چوہدری شجاعت اور ان کے صاحبزادے شافع حسین نے بھی سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک بے باک اور تحقیقاتی صحافت کرنے والے سچے پاکستانی سے محروم ہوگیا،ا نہوں نے دعا کی کہ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ صبر جمیل عطا کرے۔
