کیا عمران کا چند کروڑ روپوں کی خاطر نااہل ہونا بنتا تھا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار رووف کلاسرا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ہاتھوں توشہ خانہ ریفرنس میں نااہل ہونے والے عمران خان کو وزیراعظم بننے کے بعد بہت ہی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا کیونکہ وہ خود کو ایمانداری کا مینار سمجھتے تھے اور اپنے تمام سیاسی مخالفین کو کرپٹ قرار دیتے تھے۔ کلاسرا کا کہنا ہے کہ خان صاحب کی بیگم صاحبہ اور ان کے قریبی لوگوں کو تو اور بھی زیادہ احتیاط کرنی چاہئے تھی تا کہ وہ جس کاز کیلئے لڑ رہے تھے وہ کمزور نہ پڑتا اور لوگوں کا اعتماد نہ ٹوٹتا، لیکن وہی ہوا جس کا ڈر تھا، ہیرے جواہرات اور گھڑیاں دیکھ کر انکی آنکھیں چندھیا گئیں۔ گوتم بدھ کا مشہور قول ہے کہ انسان کی خواہشات اسکی دشمن ہیں لہٰذا خان صاحب کو چاہئیے تھا کہ اپنی خواہشات پر قابو پاتے اور اپنی بیگم صاحبہ کو بھی منع کرتے، عمران خان دوسرے سیاست دانوں سے مختلف ہونے کا دعویٰ تو کرتے رہے لیکن وقت آنے پر وہی چند کروڑ روپوں کا کھیل کھیل کر نا اہل ہو گے اور بدنامی بھی مول لے لی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ دنیا کے چند عظیم ناولوں میں سے ایک گاڈ فادر کے مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اگر بدلہ لینا ہو تو ٹھنڈا کر کے بدلہ لو۔ مطلب جلدی نہ کرو۔ اس کا اپنا سواد ہے کہ جس بندے سے آپ نے بدلہ لینا ہواسے یاد ہی نہیں ہے کہ آپ نے اس سے بدلہ لینا ہے۔ جب وہ آپ سے کوئی خطرہ محسوس نہ کرنے لگے اور بھول جائے تو پھر پوری طاقت سے بدلہ لو۔ ایک تو وہ حیرانی میں مارا جائے گا اور دوسرا اس کی تیاری مکمل نہیں ہوگی جبکہ آپ پوری تیاری کے ساتھ اس پر حملہ آور ہو کر اپنی مرضی کا دن وقت، سال یا جگہ کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اس کے پیچھے بڑی فلاسفی ہے کہ انتقام جلدی نہیں لینا چاہئے کیونکہ آپ غصے میں ہوتے ہیں اور غصے میں آپ درست فیصل نہیں کرتے اور مارے جاتے ہیں ۔ خیر عمران کو شدید غصہ تھا کہ انہیں وزیراعظم ہاؤس سے نکالا گیا ہے۔ ویسے بھی وہ جمہوریت صرف اسے سمجھتے ہیں جس میں وہ وزیراعظم ہوں اور اگر وہ نہیں ہیں تو پھر وہ 2014ء کی طرح دھرنے دے کر سڑکوں پر اگلے چار سال گزاریں گے۔ وہ وزیراعظم بن گئے تو ان کے نزدیک پارلیمنٹ ٹھیک ہوگئی، عمران نے بھی وزیراعظم بننے کیلئے وہی گیٹ نمبر چار استعمال کیا جو شہباز شریف کرتے تھے۔خان صاحب ساڑھے تین سال بعد وزیراعظم کی کرسی سے اس طرح ہٹا دیے گئے جیسے نواز شریف کو ہٹادیا گیا تھا تو وہ بھی پارلیمنٹ سے باہر چلے گئے۔ وہی مزاج اور رویہ کہ اگر میں اس پارلیمنٹ کا وزیر اعظم نہیں ہوں تو نہ پارلیمنٹ اصلی ہے نہ وزیر اعظم۔ اصلی پارلیمنٹ وہی ہوگی جس میں وہ وزیراعظم ہوں گے۔

رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد خان صاحب اپنا بدلہ لینے پر تل گئے کہ اگر میں نہیں تو پھر کوئی نہیں۔ وہی رویہ جو ہندوستان میں افغان پٹھان ترک ایرانی عرب سینٹرل ایشیا کے جنگجو دلی کے بادشاہوں کے ساتھ روا رکھتے تھے کہ فیصلہ تلوار کرتی تھی کہ نیا بادشاہ کون ہوگا۔ عمران بھی قدیم ہندوستان کے جنگجوؤں اور سرداروں والا رویہ اپنائے ہوئے ہیں کہ بادشاہ اگر ہمارا ہوا تو تسلیم کریں گے ورنہ جنگ ہوگی۔ انگریزوں نے اس خونی کشمکش کو روک کر جمہوریت کے ذریعے بادشاہ کی تبدیلی کا نظام متعارف کرایا لیکن کیا کریں کہ پاکستانیوں کا ڈی این اے بھی تو ان افغان پٹھان ترک عرب ایرانی یا سینٹرل ایشیا اور ہندوستان کی مقامی اقوام سے بنا ہے، لہٰذا ہمارے اندر جمہوریت نہیں ہے۔ ہم آج بھی تلوار پر فیصلہ چاہتے ہیں، ہم پارلیمنٹ کے بجاۓ سڑکوں پر لڑنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ ہزاروں سال سے ہمارے مزاج کا حصہ ہے کہ فیصلہ تلوار کرے گی۔

روؤف کلاسرا کہتے ہیں سوال یہ ہے کہ عمران خان کیوں چھ ماہ یا ایک سال پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر انتظار نہیں کر سکتے؟ اگر ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کا فورم وہی پارلیمنٹ ہے۔ ہر وقت لڑنے مرنے پر تیار یا لانگ مارچ کرنے سے ماضی میں کیا نتائج نکلے ہیں؟ ملک تباہی کے کنارے پہنچ چکا۔ اس وقت اگر کسی کو دھیرج اور احتیاط سے چلنے کی ضرورت ہے تو وہ عمران خان ہیں کیونکہ اگلی حکومت ان کی بننے کے زیادہ چانسز ہیں، لیکن خان صاحب کا وہی خیال ہے جو 1993 میں نواز شریف کا تھا کہ ہر وقت جنگ کرنے سے وہ دوبارہ اقتدار تک پہنچیں گے، پھر میاں صاحب 1997 میں اقتدار میں لوٹے بھی مگر صرف دو سال بعد 1999 میں وہ لانڈھی جیل میں بیٹھے تھے۔

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو وہ خود فرماتے ہیں کہ میں بڑے بڑے مافیاز کیخلاف لڑ رہا ہوں، اس ملک سے اقربا پروری، کرپشن اور لوٹ مار ختم کروں گا اور کسی کو دھیلا بھی نہیں بنانے دیں گا، ایسے میں خان صاحب کو اپنے گھر کی حفاظت کی زیادہ ضرورت تھی کہ کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جس سے لاکھوں لوگوں کا اعتماد ٹوٹے یا ان کے دشمنوں کو موقع ملے کہ وہ انہیں کرپٹ ثابت کر دیں لیکن افسوس۔کہ وقت پڑنے پر عمران خان بھی وہی چند کروڑ روپوں کا کھیل کھیل کر نا اہل ہوں گے۔

Back to top button