آخری جیت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی ہی کیوں ہوتی ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ فوج کے سیاست سے تائب اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے ملازمت میں توسیع نہ لینے کے واضح اعلانات کے باوجود ساری نظریں اس وقت پارلیمنٹ کی بجائے جی ایچ کیو میں تبدیلی پر لگی ہوئی ہیں اور نئے آرمی چیف کا انتظار کیا جا رہا ہے، جب سیاست اس حد تک دیوالیہ پن کا شکار ہو جائے تو پھر بیچاری پارلیمنٹ کی بے نوری پر کون نوحہ گری کرے۔ امتیاز کے مطابق اگر ملک اور سیاست کے مستقبل کا فیصلہ عوام کے حق رائے دہی کی بجائے فوج کی دلالی کرنے والی عدالتوں نے کرنا ہے تو پھر سیاست کے لیے مغفرت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ لاڈلے کے انتخاب کی طرح، الیکشن کمیشن کے ہاتھوں اس کی نااہلی بھی متنازعہ ہو چلی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایک طویل تؤقف کے بعد عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں کرپٹ پریکٹسز، غلط بیانی، اثاثے چھپانے اور بدعنوانی کی بنیاد پر وقتی طور پر اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا ہے جس سے وہ پہلے ہی مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے تھے، مگر اپنے استعفیٰ کو اسپیکر کے روبرو کنفرم کرنے کو تیار نہ ہوئے۔ واحد صادق و امین کے کرپٹ قرار دئیے جانے پر جہاں اتحادی جماعتوں کو ”چور بھی کہے چور چور“ کا جوابی بیانیہ بنانے کا موقع ملا ہے تو وہیں وکلا کے جم غفیر کی لا متناہی موشگافیوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے اور اس کے عدالتی اختیار کو متنازعہ بنادیا ہے۔
عمران خان کی سیاست پر مکمل پردہ ابھی نہیں گرا، اس کھیل کے کئی ایکٹ ابھی عدالتی اسٹیج پر کھیلے جانے ہیں اور معاملہ گلیوں یا پھر ووٹ سے حل ہونے کی بجائے عدلیہ کے پلیٹ فارم پر طے کیا جانا ہے۔ فریقین کے مابین ایک طویل قانونی جنگ میں عدالت ہائے عالیہ و عظمیٰ میں ان کے اپنے فیصلے کی بے مثال نظیریں نظام انصاف کیلئے سوہان روح بنی رہیں گی۔ ایک اور سابق وزیراعظم اور جماعت کے سابق صدر جناب نواز شریف کی تاحیات نااہلی اور صدارت سے عدالتی علیحدگی ایک آسیب کی طرح عمران خان کے قانونی مستقبل پر چھائی رہے گی، تب معلوم پڑے گا کہ صداقت و امانت کی کسوٹیوں پر سیاست کی حشر سامانیوں میں کیا زقند لگتی ہے۔ سیاہی کس کے منہ پر لگتی ہے یا پھر کس کے گناہ کس کے صدقے سے معاف ہوتے ہیں جسے ”لیول پلینگ فیلڈ“ کی تیاری کا نام بھی دیا جارہا ہے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ آخری کامیابی ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ ہی کا مقدر رہتی ہے۔ بھلے فنانشل ٹاسک فورس کی گرے لسٹ کی سولی پہ چڑھایا جانا ہو یا اس سے اتروائے جانے کیلئے دہشتگردی کے گناہوں سے خلاصی پانے کیلئے ریاست کو ناک سے کتنی ہی لکیریں نکالنی پڑیں، ”تمہیں نے درد دیا ہے تم ہی دوا دینا“ کے مصداق سہرہ اسٹیبلشمنٹ ہی کے سر ہے۔ وزارت خارجہ اور بیچارے حماد اظہر، بلاول بھٹو اور حنا ربانی کھر مبارک بادیں کیا وصول کرتے، ٹرافی پہلے ہی کوئی اور اُچک چکا تھا۔
تاریخی طور پر مجذوب حکومت کے مقدر میں سیاستدانوں کی نااہلیاں ہی رہی ہیں، یا پھر ان زخموں پہ کی جانے والی احتجاجی سیاست۔ پروڈا تھا یا ایبڈو، نیپ، عوامی لیگ پر پابندی تھی یا بھٹو کی پھانسی، محترمہ بے نظیر بھٹو کا دن دہاڑے قتل یا پھر میاں نواز شریف کی تاحیات نااہلی اور پارٹی صدارت سے قانونی بے دخلی، سب منہ پھاڑے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تراشے ایک اور عوامی کلٹ کو ہڑپ کرنے کھڑے ہیں۔ لاڈلا، لاڈلا نہ رہا، اک عذاب بن گیا۔ لیکن اب متحارب سیاست کو کون عقل کے ناخن دے۔ جس طرح بھٹو کی پھانسی پہ قومی اتحاد والوں نے مٹھائیاں بانٹی تھیں اور نواز شریف کی تاحیات نااہلی پہ تحریک انصاف نے بھنگڑے ڈالے تھے، اسی طرح عمران کی نااہلی پر اتحادی پارٹیاں مبارکبادیں وصول کرتی نظر آ رہی ہیں۔
عمران خان کی نااہلی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے امتیازعالم کہتے ہیں کہ حیرانی الیکشن کمیشن کے فیصلے پر نہیں ہوئی، بلکہ اس بات پر ہے کہ اس فیصلے کا اعلان ضمنی انتخابات سے پہلے کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی اور حیرانی اس پر بھی ہے کہ قائد انقلاب نے لواحقین کو صبر کرنے کی استدعا کی اور معاملہ عدالتوں کے سپرد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ بھلا عدالتوں نے کب سیاست اور جمہوریت کی شان میں اضافہ کیا ہے، جو اب اس کی اُمید کی جائے۔ اس سے قطعٔ نظر کہ عدالت عالیہ و عظمیٰ اپنے ہی سابقہ فیصلوں کی تشریح میں کیا نیا کرتی ہیں، سیاستدانوں کو پرانے گناہوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک نئے جمہوری و آئینی عمرانی معاہدے پر اتفاق کرنے کے لیے اپنی ہی پارلیمنٹ سے باوقار رجوع کرنا چاہیے۔ سیاست دانوں کے جھگڑے کوئی اور ضامن نمٹائے گا تو ان کے ہاتھ کیا آئے گا؟
ویسے بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ سیاست کو مسخ کرنے کی عدالتی اور عسکری مداخلتوں سے ملک سنورا نہ جمہوریت آئی۔ آئندہ بھی اس کی توقع کوئی نابینا ہی کرسکتا ہے۔ سیاستدانوں کے غیر سیاسی اور غیر جمہوری طریقوں سے پہلے کوئی لیڈر اپنے تاریخی رول سے بے دخل ہوا ہے، نہ بھٹو، نہ نواز شریف ہوئے اور نہ اب عمران خان تاریخ کے کوڑے کی نذر ہوں گے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ آئینی و جمہوری حکمرانی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوا اور تاریخی شرمندگی ہی کا بار بار سامنا کرنا پڑا جو پاکستانی ریاست کی ناکامی کا ایک بڑا مظہر ہے۔
