کینیا میں ارشد شریف کی موت قتل ہے یا کہ حادثہ؟

کینیا پولیس کی جانب سے سے سینئر صحافی ارشد شریف کو نیروبی میں سفر کے دوران کار نہ روکنے کے بعد شناخت میں غلطی پر گولی مارنے کے دعوے کے باوجود تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے اس افسوسناک واقعے کو سازش اور قتل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے مخالفین کی جانب سے یہ الزام لگانا اس لیے بھی آسان ہے کیونکہ ارشد شریف اگست کے پہلے ہفتے میں شہباز گل کے خلاف غداری کیس درج ہونے کے بعد ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے پشاور ایئرپورٹ سے لندن روانہ ہوگئے تھے۔ ارشد تقریبا ایک ماہ پہلے لندن سے کینیا چلے گئے تھے اور نیروبی سے اپنے یو ٹیوب چینل پر روزانہ اسٹیبلشمنٹ مخالف وی لاگ اپ لوڈ کیا کرتے تھے۔

ارشد شریف کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے انکی ایک صحافی اہلیہ جویریہ صدیق نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو سر میں گولی ماری گئی۔ ان کی ڈیڈ باڈی کی تصویر بھی وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ارشد شریف ایک کار میں ڈرائیور کے ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر مردہ حالت میں سیٹ بیلٹ سمیت بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے سر سے خون بہہ رہا ہے۔ کینیا کے میڈیا کے مطابق ارشد شریف پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نیروبی میں کچھ بچوں کو یرغمالی بنا کر لے جانے والی ایک گاڑی کی تلاش جاری تھی، اس دوران پولیس ناکہ لگا کر گاڑی کی تلاش کر رہی تھی۔ ایک چیک پوسٹ پر ارشد شریف کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا کیونکہ وہ اس کار سے ملتی جلتی تھی جس میں بچوں کو اغوا کرکے لے جایا گیا تھا۔ لیکن جب گاڑی نہ رکی تو پولیس نے اسکا پیچھا کیا اور فائر کھول دیا جس سے ارشد شریف جاں بحق ہو گئے۔

نیروبی پولیس کے مطابق ارشد شریف کی موت شناخت میں غلطی کا کیس ہے لیکن ڈرائیور کو ناکہ نہیں توڑنا چاہئے تھا۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر پولیس کا ناکہ ڈرائیور نے توڑا تھا تو گولی ارشد شریف کو کیوں ماری گئی اور وہ بھی سیدھی سر میں جبکہ وہ غیر مسلح تھے؟ ڈرائیور کی جانب سے دیئے گئے بیان کے مطابق وہ ایک ڈویلپر ہے اور ارشد شریف کو ایک سائٹ دکھانے لے جا رہے تھے۔

کینیا کی معروف نیوز ویب سائٹ ’دی اسٹار‘ کے مطابق نیروبی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ارشد شریف کے ڈرائیور نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی جس پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی، سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ارشد شریف موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ڈرائیور زخمی ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستانی صحافی اپنے ڈرائیور کے ساتھ مگادی سے نیروبی کی جانب سفر کر رہے تھے کہ جہاں پولیس راستے میں روڈ بلاک کر کے چیکنگ کر رہی تھی۔ کینیا پولیس کے ایک آفیسر کی جانب سے جاری بیان میں ارشد شریف کے پولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا کہ غلط نشاندہی پر پاکستانی صحافی کا قتل ہوا اور اس حوالے سے مزید معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

پولیس کے مطابق ہمیں اطلاع ارشد شریف جیسی ہی ایک بار میں میں بچے کو یرغمال بنانے کی اطلاع ملی تھی جس پر روڈ بلاک کر کے کاروں کی چیکنگ کی جا رہی تھی۔ اس دوران پاکستانی صحافی کے ڈرائیور نے گاڑی روکنے کے بجائے ناکہ توڑ کر قانون کی خلاف ورزی کی جس پر ان کا پیچھا کیا گیا اور پھر یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ کینیا پولیس ہیڈکوارٹر کا کہنا ہے کہ انڈیپنڈنٹ پولیسنگ اوور سائٹ اتھارٹی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ ارشد شریف کا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا۔ مرحوم نے اپنے لواحقین میں پانچ بچے اور تین بیویاں چھوڑی ہیں۔ ارشد کے والد نیول کمانڈر تھے جو اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ (جو کہ میجر تھے) 2011 میں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ اپریل میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد ارشد شریف نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔

اگست کے پہلے ہفتے میں پشاور سے دوبئی کی فلائٹ لینے والے ارشد شریف پہلے لندن اور پھر کینیا چلے گئے تھے۔ ارشد کی موت کی تصدیق انکی صحافی اہلیہ نے کی۔ جویریہ صدیق نے ٹوئٹر پر لکھا کہ آج میں نے اپنا دوست، شوہر اور پسندیدہ صحافی کھو دیا۔ جویریہ نے لکھا کہ ’پولیس نے انھیں بتایا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں مار دیا گیا ہے۔‘ جویریہ نے اپیل کی ہے کہ ارشد کی کینیا کے مقامی ہسپتال میں لی جانے والی آخری تصویر کو شیئر نہ کیا جائے۔

سوشل میڈیا پر ارشد شریف کے قتل کی خبر نشر ہونے کے بعد اے آر وائی نیوز نے بتایا کہ انکی کینیا میں ایک حادثے میں موت واقع ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ ارشد شریف کے بیرون ملک چلے جانے کے چند دن بعد اے آر وائی نے یہ واضح کیا تھا کہ ارشد شریف اب اے آر وائی سے وابستہ نہیں رہے۔جہاں اے آر وائی میں کام کرنے والے ان کے ساتھیوں نے اس موت پر سوشل میڈیا پر دُکھ کا اظہار کیا وہیں چینل کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال نے بھی تعزیتی ٹویٹ کیا اور کہا کہ انھیں اس خبر پر یقین نہیں ہو رہا اور اس واقعے پر کہنے کو کوئی الفاظ نہیں مل رہے۔

کراچی میں پیدا ہونے والے 49 سالہ ارشد شریف نے کئی نیوز چینلز میں اہم عہدوں پر کام کیا تھا۔ وہ بیرون ملک سے اکثر وی لاگز کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے اور عمران خان کے خلاف ’بیرونی سازش‘ کے بیانیے کے حامی تھے، عمران خان نے بھی بارہا اپنے بیانات میں ارشد شریف کو ملنے والی دھمکیوں کی مذمت کی اور کہا کہ عتاب کا نشانہ بننے والے صحافیوں کے حق میں بھرپور آواز اٹھانی چاہئے۔

Back to top button