عمران خان نے مجھے اقتدار دلوانے کا صلہ غدار بنا کر دیا

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحافیوں کے ساتھ ایک آف دی ریکارڈ سیشن میں تسلیم کیا یے کہ 2018 میں فوجی اسٹیبلشمنٹ ہی عمران خان کو اقتدار میں لیکر آئی تھی اور ایسا کرنے کے لیے اسے آؤٹ آف دی وے جا کر سیاسی کردار ادا کرنا پڑا۔ لیکن اس کا صلہ یہ ملا کہ اتنے سال فوج کی خدمت کرنے کہ بعد مجھے غدار کا لقب دے دیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی ملاقات ہے جس میں جنرل باجوہ نے 29 نومبر کو اپنے عہدے کی معیاد ختم ہونے کے بعد مزید توسیع نہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے ایوان صدر میں جنرل قمر باجوہ سے خفیہ ملاقات کے بعد عمران خان نے آرمی چیف کو اگلے الیکشن کے بعد نئی حکومت کے قیام تک عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز دی تھی جسے حکومت نے تسلیم نہیں کیا اور باجوہ کو اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنا پڑا۔
چند روز پہلے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کچھ سینئر صحافیوں کے ساتھ کھل کر گفتگو کی جس میں انہوں نے عمران کی ذات، ان کی سیاست، انکی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ تعلقات کا احاطہ کیا، انہوں نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کیساتھ اپنے تعلق بارے بھی گفتگو کی اور بتایا کہ انہیں کس نے اور کیوں نکالا تھا اور عمران خان کو اقتدار میں کون لے کر آیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس حقیقت سے پورا پاکستان واقف ہے لیکن جنرل باجوہ نے پہلی مرتبہ خود تسلیم کیا ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کا گناہ انہی کی زیر قیادت سر زد ہوا تھا۔ صحافیوں کے ساتھ کئی گھنٹوں پر محیط آف دی ریکارڈ سیشن کے دوران جنرل قمر باجوہ نے بتایا کہ عمران ایک منتقم مزاج انسان ہیں، اسی لیے اقتدار میں آنے کے بعد ایک روز انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ میں ساری اپوزیشن لیڈر شپ کو جیل میں ڈالنا چاہتا ہوں لہٰذا آپ میری مدد کریں۔ میں نے جواب دیا کہ جناب میں آرمی چیف ہوں، یہ فوج کا کام نہیں یے اور ویسے بھی اگر میں نے یہ سب کرنا ہے تو پھر مجھے آپکی سیٹ پر بیٹھنا ہو گا، میں نے واضح کیا کہ یہ فوج کا کام نہیں، اس لیے ہمیں اس سے دور ہی رکھیے۔ جنرل باجوہ کے بقول خان صاحب میرے اس جواب سے نالاں ہوگئے، ان کے مطابق خان صاحب اس قدر فاشسٹ ذہنیت کے مالک ہیں کہ اپنے علاوہ کسی اور کو سیاسیت میں برداشت ہی نہیں کرتے۔
ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے جنرل قمر باجوہ نے عمران کے امریکی سائفر اور ایبسلوٹی ناٹ کے بیانیوں کو سراسر جھوٹا اور جعلی پروپیگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے سیاسی سٹنٹس سے الٹا پاکستان کا نقصان ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سائفر پر ان کی عمران کیساتھ دو میٹنگز ہوئیں جن میں ان کو سمجھا دییا گیا تھا کہ معاملہ ویسا نہیں ہے جیسا اسے رنگ دیا جا رہا ہے، لیکن عمران خان نے جان بوجھ کر سیاسی فائدے کہ لئے اسے ایک ایشو بنا کر الٹا پاکستان کا نقصان کرنے کی کوشش کی۔ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بارے ایک سوال پر جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ موصوف خود میرے پاس آئے اور بولا کہ میں نے کور کمانڈ کرنی ہے تاکہ آرمی چیف کا امیدوار بن سکوں۔ میں نے بولا ٹھیک ہے، لیکن جب میں نے فیض کو بطور کور کمانڈر پشاور بھیجنے کا نوٹیفکیشن جاری کروایا اور ندیم انجم کا بطور ڈی جی آئی ایس آئی نوٹیفکیشن کروا دیا تو عمران وہ نوٹیفکیشن لیکر بیٹھ گئے اور ہمیں عجیب صورت حال میں پھنسا دیا۔
جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ فارغ ہونے کے عمران خان یہ جھوٹ مسلسل بول رہے ہیں کہ میں بطور وزیراعظم با اختیار نہیں تھا اور فوج ہی حکومت کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ در حقیقت عمران تمام فیصلے خود کرتے تھے، انہوں نے تمام اہم عہدوں پر چن چن کر نااہل اور نکمے بندے لگائے جو اتنی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے کہ ڈلیور کر سکیں۔ جنرل باجوہ نے عثمان بزدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی کے لوگ میرے پاس آ کر کہتے تھے کہ عمران کو سمجھائیں، کیا حکومتی معاملات ایسے چلتے ہیں۔ میں نے کئی بار عمران خان سے بولا کہ خان صاحب آپ اپنے ناراض ساتھیوں سے بات چیت کر کے انکے تحفظات دور کریں لیکن وہ کسی بات کو سیریس ہی نہیں لیتے تھے۔ جنرل باجوہ کے بقول انہوں نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد آنے سے چھ ماہ پہلے عمران خان کو کہہ دیا تھا کہ اب ہم آپ کی خاطر مزید بدنامی نہیں اٹھا سکتے اور ہم نیوٹرل ہونے جا رہے ہیں، اب ہمارا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور یہ فیصلہ کور کمانڈرز کانفرنس میں سب نے ملکر اتفاق رائے سے کیا۔
گفتگو کے دوران جنرل قمر باجوہ نے سینئر حامد میر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ میر صاحب! آپ نے ایک سال پہلے ہی عمران کیخلاف تحریک عدم اعتماد بارے لکھ دیا تھا لیکن خان صاحب تب بھی سیریس نہیں ہوئے لیکن جب ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ گئی تو پھر میرے پاس دوڑے چلے آئے کہ میری حکومت بچا لیں لیکن میں نے جواب دیا کہ ہم بطور ادارہ نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کر چکے لہٰذا اب آپ جانیں اور آپ کی سیاست جانے۔ چنانچہ تب سے خان صاحب ہم سے ناراض ہیں۔ ان کا گلہ یہ ہے کہ فوج سیاست سے پیچھے کیوں ہٹ گئی۔ اب خان صاحب روزانہ کی بنیاد پر جھوٹ بول رہے ہیں۔
جنرل باجوہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے فوجی کیرئیر کا سب سے بہترین ریلشن شپ نواز شریف اور خاقان عباسی کے ساتھ تھا۔ آرمی چیف نے بتایا کہ نواز شریف ان پر اتنا ذیادہ اعتماد کرتے تھے کہ UAE سے تعلقات بہتر کرنے کا ٹاسک انہوں نے میرے ذمہ لگایا اور میں نے ڈلیور بھی کر کے دیا۔ کچھ صحافیوں کے سوالوں کہ جواب میں جنرل باجوہ نے طریقے سے اس بات کو تسلیم کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کیساتھ زیادتی ہوئی۔ انہوں نے باتوں باتوں میں یہ بھی مانا کہ نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ نے ہی اقتدار سے نکالا تھا۔ انہوں کہا کہ اسٹیبلشمینٹ کو نواز شریف دور میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی کچھ پالیسیوں پر بھی اعتراض رہا۔ جنرل باجوہ نے سول بیوروکریسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ چائنیز خود مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ ہم لوگ آپ کی بیوروکریسی کے ساتھ کام نہیں کر سکتے کیونکہ یہ جان بوجھ کر ہمارے لئے مسائل پیدا کرتی ہے۔
عمران خان کے دورہ روس پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے بتایا کہ اسد عمر سمیت تمام کابینہ اراکین کا موقف تھا کہ روس کا دورہ ہونا چاہئے لہٰذا میں نے بھی بول دیا کہ چلیں ٹھیک ہے کر لیں، حالانکہ روس کے ساتھ نہ تو ہماری کوئی تجارت ہے اور نہ وہ ہمیں عالمی فورم پر سپورٹ کرتا ہے، اُلٹا پیوٹن نے عمران خان کو استعمال کیا کیونکہ وہ یوکرائن سے جنگ چھیڑ چکا تھا۔ پیوٹن نے عمران خان کے دورے سے دنیا میں یہ تاثر دیا کہ دیکھو اس جنگ میں پاکستان ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔
